اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جمیعت علمائے ہند نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے حالیہ عوامی بیانات کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ کے یہ بیانات کھلے طور پر فرقہ وارانہ، غیر آئینی اور نفرت انگیز ہیں، خصوصاً اس لیے کہ یہ ایک اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے دیے گئے ہیں۔
یہ درخواست جمیعت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جو 2021 سے زیر التوا نفرت انگیز تقاریر سے متعلق رِٹ پٹیشن کا حصہ ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کے لیے عوامی تقاریر سے متعلق سخت اور واضح ضابطۂ اخلاق طے کیا جائے، تاکہ سرکاری عہدے کا استعمال کر کے کسی بھی برادری کے خلاف نفرت نہ پھیلائی جا سکے۔
درخواست میں خاص طور پر 27 جنوری 2026 کو دیے گئے آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے چار سے پانچ لاکھ “میا” ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کرنے کی بات کی اور یہ کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی “میا برادری کے خلاف ہیں”۔ جمیعت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ “میا” کی اصطلاح آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے توہین آمیز انداز میں استعمال کی جاتی ہے۔
جمیعت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات کو سیاسی بیان بازی یا اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں نہیں رکھا جا سکتا، خاص طور پر جب یہ بیانات ایک آئینی عہدے دار کی جانب سے دیے جائیں۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کے بیانات پوری ایک برادری کو بدنام کرنے، سماجی نفرت کو ہوا دینے اور آئینی اقدار کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب آئینی عہدے پر فائز افراد نفرت آمیز گفتگو کرتے ہیں تو اس سے ان بیانات کو ادارہ جاتی جواز ملتا ہے، جس کے دور رس اور سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ جمیعت کے مطابق یہ طرزِ عمل آئینی ذمہ داری، وقار اور تحمل کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزاروں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں قانون کا نفاذ امتیازی اور جانبدارانہ ہے۔ بعض معاملات میں فوری ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، جبکہ اقلیتی برادریوں کی جانب سے دی گئی شکایات میں پولیس ٹال مٹول یا انکار سے کام لیتی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے برابری) کی خلاف ورزی ہے۔
جمیعت نے سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنی خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف یکساں اور لازمی رہنما اصول بنانے کی اپیل کی ہے۔ ان تجاویز میں لازمی ایف آئی آر کا اندراج، آن لائن شکایتی پورٹل کا قیام، پانچ دن کے اندر شکایت پر کارروائی، غفلت برتنے والے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی اور ان کی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں اس کا اندراج شامل ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی تقاریر آئین میں دی گئی مساوات، اخوت، سیکولرازم اور انسانی وقار جیسی بنیادی قدروں کو نقصان پہنچاتی ہیں، اس لیے انہیں اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔
جمیعت نے نشاندہی کی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف متعدد از خود نوٹس اور ہدایات کے باوجود ایسے بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جو آئینی اختیارات کے غلط استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
درخواست میں انڈیا ہیٹ لیب رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2024 میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں 2023 کے مقابلے 74 فیصد اضافہ ہوا، جن میں سے تقریباً 98 فیصد واقعات مسلمانوں یا مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کے خلاف تھے۔ رپورٹ کے مطابق روزانہ اوسطاً تین نفرت انگیز تقاریر کے واقعات سامنے آئے، جن میں سے اکثر سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کیے گئے۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جاری نفرت انگیز تقاریر سے متعلق سماعت کے دوران زیر غور آنے کا امکان ہے۔
آپ کا تبصرہ