اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، چھتیس گڑھ کے ضلع گاریابند کے گاؤں دُتکئیّا میں مسلم برادری کے گھروں پر مشتعل ہجوم کے حملے کے بعد شدید کشیدگی پھیل گئی۔ اتوار، یکم فروری کو پیش آئے اس واقعے میں مسلم خاندانوں کے کم از کم چھ سے زائد مکانات کو آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں گاؤں کے تمام مسلم باشندے اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
پولیس کے مطابق، کئی سو افراد پر مشتمل ہجوم کو قابو میں رکھنے اور خواتین و بچوں کو محفوظ رکھنے کے دوران کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس اہلکاروں نے گھنٹوں تک ہجوم کے سامنے ڈٹ کر متاثرہ خاندانوں کو بچانے کی کوشش کی۔
تشدد کا آغاز اس دن صبح پیش آئے ایک واقعے کے بعد ہوا، جب تین افراد پر مقامی لوگوں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ان میں ایک ملزم عارف خان شامل ہے، جو 2024 میں گاؤں کے شیو مندر کی توڑ پھوڑ کے معاملے میں ملزم رہ چکا ہے اور اس وقت ضمانت پر تھا۔ پولیس کے مطابق، عارف خان حال ہی میں گاؤں واپس آیا تھا۔
اتوار کی صبح ان تینوں افراد نے مبینہ طور پر چار مقامی افراد پر حملہ کیا، جن میں مندر توڑ پھوڑ کیس کا ایک گواہ بھی شامل تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے چار مقدمات درج کیے اور دیہاتیوں کو یقین دلایا کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے گا۔
تاہم، شام کے وقت پہلے ایک چھوٹے ہجوم نے عارف خان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی، جس کے بعد قریبی دیہات سے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ لاٹھیاں، پتھر، اینٹیں اور مٹی کے تیل کی بوتلیں لیے ہجوم نے تقریباً دس مسلم خاندانوں کے گھروں پر حملہ کر دیا، جنہوں نے خوف کے عالم میں اپنے آپ کو گھروں میں بند کر لیا تھا۔ کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
پولیس افسران کے مطابق، راجِم کمبھ کے باعث فورس کی کمی تھی، اس کے باوجود پولیس نے ہجوم کو گھروں میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ کئی گھنٹوں بعد اضافی فورس کی آمد پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کیا اور بس کے ذریعے بیس سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس دوران دو شہری زخمی بھی ہوئے۔
بعد ازاں پولیس کو معلوم ہوا کہ گاؤں کی ایک مدرسے میں چھ سے سات بچے پھنسے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ان بچوں کو بحفاظت نکالا گیا، تاہم اس کارروائی میں چھ پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
اگرچہ آدھی رات کے بعد حالات قابو میں آتے دکھائی دیے، مگر تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔ ایک خاتون نے مبینہ طور پر پولیس اہلکار پر اینٹ پھینکی، جس سے اسے سر پر شدید چوٹ آئی، جبکہ کئی دیگر پولیس افسران بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 2024 کے واقعے کے بعد عارف خان سے متعلق خاندان گاؤں چھوڑ چکا تھا، تاہم بعد میں انتظامیہ کی یقین دہانی پر واپس آیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق، دونوں برادریوں کے درمیان پہلے سے ہی کشیدگی موجود تھی، جس کی وجوہات میں معاشی اور مقامی تنازعات شامل تھے۔
پولیس نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کم سے کم طاقت استعمال کی گئی اور جانی و مالی نقصان کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ واقعے کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کر لی گئی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ