ایران کے مومن وانقلابی عوام عشرہ فجرکا چوتھا دن ایک ایسے وقت منارہے ہیں جب پوری کائنات میں حقیقی فجر انقلاب برپا کرنے والوں یعنی سرکارسیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کا چہلم منایا جارہا ہے۔ اس سال اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے ایاّم کربلا والوں کے چہلم سے مصادف ہيں اور اسی لئے ایران کے انقلابی عوام میں جوش و خروش شاید پہلے سے زیادہ نظر آ رہا ہے کیونکہ ایران کے عوام نے اپنا تاریخ ساز اسلامی انقلاب، انقلاب کربلا سے ہی الہام لے کربرپا کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے بقول عاشورہ کے عظیم واقعہ کی سب سے آخری برکت اور اثر یہی ایران کا اسلامی انقلاب ہے جب ہم ایران کے اسلامی انقلاب اور اس سلسلے ميں چلائی جانی والی تحریکوں کا بغور مطالعہ کرتے ہيں تو ایثار، فداکاری اور شہادت کے تمام جذبے، جو نظر آتے ہيں وہ کربلا والوں کے ہی بتائے ہوئے درس و پیغامات سے عبارت دکھائی دیتے ہيں۔ کربلا کے میدان میں تاریخ عالم و آدم کی عظیم ترین ہستیوں نے جن میں بوڑھے جوان مرد و خواتین اور بچے سب ھی شامل تھے اپنی فداکاری قربانی اور ایثار و شہادت کا جو ابدی کارنامہ و نمونہ پیش کیا اس کی جھلک ایران کے اسلامی انقلاب میں بھی کافی حدتک دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایران کے انقلابیوں نے اپنے اس عظیم کارنامے کے لئے جو درس لیا تھا وہ کربلا والوں سے ہی لیا تھا ۔ اسی لئے اسلامی انقلاب کے قائدحضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ آج ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اسی محرم و صفر سے ہے ۔جب ہم واقعہ عاشورہ پر نظر ڈالتے ہيں تو اس کا دو پہلو سے جائزہ لیتے ہيں اول یہ کہ عاشورہ کا درس و پیغام کیا ہے؟ عاشورہ کا درس و پیغام یہ ہے کہ دین کے لئے فداکاری اور قربانی سے دریغ نہيں کرنا چاہئے عاشورہ ہمیں اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ قرآن و اسلام کی راہ میں ہر چیز کو قربان دینا چاہئے۔ عاشورہ ہميں یہ درس دیتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں بچے، بوڑھے، جوان، مرد و خواتین امیر و غریب آقا و غلام کالے اور گورے سب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہيں اور سب سے بڑا درس یہ ہوتا ہے کہ حق وباطل کے درمیان معرکے میں، باطل محاذ اپنی تمام تر ظاہری فوجی توانائی اور قوت کے باوجود بہت ہی کمزور ہوتا ہے یہ اور اس جیسے اور بھی بہت سے اعلی اقدارپرمشتمل درس ہیں جوعاشورہ، عالم انسانیت کودیتا ہے البتہ کسی ایک قوم کوذلت سے نکال کرعزت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے اتنا ہی درس کافی ہے کربلاکا یہی درس وپیغام، سامراج وکفرکے محاذ کوشکست دے سکتا ہے اور بلاشبہ کربلاکا یہ درس زندگی کو سنوارنے کے لئے کافی ہے واقعہ عاشورہ کا دوسرا پہلو اس کی عبرتیں ہیں جودرس سے الگ ہٹ کرہيں۔ عاشورہ عبرت کا ایک وسیع میدان ہے۔ انسان کو پورے حادثے پر نظر رکھنی چاہئے تا کہ وہ عبرت حاصل کرسکے ۔ یعنی اسے اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ آج اس کے لئے کون سی باتیں خطرے کا باعث ہيں، اور خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے اس کے لئے کیا ضروری ہے؟ واقعہ عاشورہ میں جو سب سے بڑی عبرت تھی وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے پچاس برس بعد ہی اسلامی معاشرے میں اتنی تبدیلی آگئی تھی کہ امام حسین علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت، اسلام اورامت اسلامیہ کی نجات کے لئے اٹھ کھڑی ہونے پر مجبور ہوئی؟ امام حسین علیہ السلام، دین اسلام کے مرکز یعنی مدینہ اور مکہ میں یہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کو مٹایا جارہا ہے اسی لئے اب ان کے پاس اٹھ کھڑے ہونے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہيں تھا۔ امام عالی مقام نے اس بات کو سمجھ لیا تھا کہ اب اسلام صرف فداکاری ایثار و شہادت سے ہی بچ سکے گا۔ جی ہاں عبرت یہاں پرہے ۔آج امام حسین علیہ السلام کی یہ فداکاری تاریخ کے اس مقام پر فائز ہے جہاں کسی کی بھی رسائی ممکن نہيں ہے۔ یہ وہ عبرت ہے جس پر ہمیں آج غورکرنے کی ضرورت ہے ۔آج چودہ صدیاں گذرجانے کے بعد جب ہمیں اپنے گرد و پیش ہرطرف جھوٹ، فریب، زور و زبردستی، مادہ پرستی اور نفاق و ظلم و استبداد ہی نظر آ رہا ہے ۔ البتہ یہ صورت حال صرف آج کی ہی دنیا کے لئے مختص نہيں ہے بلکہ گذشتہ کئی صدیوں سے معنویت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سرمایہ دارنہ نظام کی کوشش ہے کہ معنویت کا خاتمہ کردیا جائے۔ آج سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام نے بین الاقوامی تعلقات میں ایسی بساط چن دی ہے جس پر جھوٹ و فریب اور ظلم واستبداد کی حکمرانی ہے اور انسانوں کے تیئں انتہائی بے رحمی سے پیش آیا جارہا ہے اور اس طرح کی بساط پر ظلم و جبر کی حکمرانی میں امریکہ سب سے پیش پیش ہے۔ مگر دوسری طرف ایران کا اسلامی انقلاب بھی ہے۔ اسلامی انقلاب یعنی اسلام کی تجدید حیات و نشاۃ ثانیہ، اسلامی انقلاب یعنی انسانی اور معنوی اقدار کی دوبارہ حکمرانی، اسلامی انقلاب یعنی ظلم و استبداد و زور و زر کی حکومت کا خاتمہ، بلاشبہہ ایران کے اسلامی انقلاب نے مادی دنیا کی حکمرانی کی ترتیب و انتظام کودرھم برہم کرکے رکھ دیا ہے ۔ ثبوت یہ ہے کہ اگر وہی مادہ پرستی اور ظلم و استبداد کا دوردورہ ہوتا تو آج بھی ظالم و جابر شاہ جیسا شخص ایران کا بادشاہ ہوتا اور امام خمینی (رح) جیسی عظیم پاک و روشن و منور ہستی جلاوطنی اور قید و بندکی زندگی گذار رہی ہوتی اور جب امام خمینی جیسی عظیم الشان شخصیت نے انقلاب بپا کرکے ایک اسلامی حکومت قائم کی تو تاریخ کا پورا ورق ہی پلٹ گیا ظلم و استبداد اور فسق و فجور کا خاتمہ ہوگیا، اعلی اقدار کا بول بالا ہوگیا تقوی و انسانیت کی حکمرانی ہوگئی اور پھر ماحول پر اعلی انسانی اقدار، ایثار و فداکاری اور جذبۂ شہادت کی حکومت نظرآنے لگی ۔آج عشرہ فجر کے چوتھے دن پورا اسلامی جمہوریہ ایران ايثار و فداکاری اور شہادت کی بڑی بڑی داستانیں رقم کرنے والے شہداء انقلاب و دفاع کے مزاروں پر حاضری دے کر ان کے خون سے تجدید عہد کر رہا ہے کہ ہم ان اعلی اقدار کی پاسداری کریں گے جو شہیدوں نے اپنے خون کے عوض ہمارے حوالے کی ہیں تا کہ انسانیت اور آدمیت انھیں اپنا کر منزل سعادت و کمال تک رسائی حاصل کرتی رہے۔ جب ان اعلی اقدار کی حکمرانی رہتی ہے تو پھر نظام امامت باقی رہتا ہے اور پھر حسین بن علی علیھماالسلام جیسی ہستیوں کو میدان قتال میں قدم رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اسی لئے آج 31 سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی ایران کے عوام میں وہی جذبہ فداکاری وشہادت موجزن ہے جوانقلاب کے ابتدائی دنوں میں موجزن تھا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اعلی اقدار محفوظ ہيں اور عاشورہ و اربعین حسینی کا پیغام ہمارے عوام کے دلوں میں حرارت و گرمی پیدا کئے ہوئے ہے۔ ان ہی پیغامات کے سہارے جو فداکاری ایثار و قربانی کا پیغام ہے آج ایران سربلند آزاد وخود مختار ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت تمام میدانوں میں ترقی و پیشرفت کی اونچائیوں کو سر کر رہا ہے اور جیساکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے کہا کہ ہم سامراجی طاقتوں کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی شکست دیں گے کیونکہ ترقی و پیشرفت کا مقصد، اعلی انسانی اقدار کی حفاظت اور دنیا میں ان کی ہی حکمرانی قائم کرنا ہے اور بلاشبہ ملت ایران یہ کام کرکے رہے گی۔
/110