7 فروری 2026 - 07:34
صہیونیوں کو خوفزدہ کرنے والی تصویر / صہیونیوں نے نے "خرمشہر-4" کے بارے میں کیا کہا؟

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نئے میزائل سٹی کی ویڈیو ریلیز نہ ہونے کے باوجود، خرمشہر-4 میزائل کی تصاویر کے اجراء نے تل ابیب کو ضروری پیغام تل ابیب تک پہنچا دیا۔ واضح رہے کہ فوجی کمانڈروں نے حفاظتی مسائل کی بنا پر نئے میزائل سٹی کی ویڈیو ریلیز روک لی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے زیر زمین میزائل اڈوں میں سے ایک سے جاری ہونے والی نئی تصاویر میڈیا میں جدید بیلسٹک میزائل "خرمشہر-4" کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ یہ میزائل جو ملک کی ڈیٹرنس پاور کی علامتوں میں سے ایک کے طور پر متعارف ہؤا ہے، جدید صلاحیتوں کا حامل ہے۔ یہ میزائل، جو خرمشہر میزائل خاندان کی تازہ ترین نسل سمجھا جاتا ہے، ایران کے جارحانہ فوجی ڈاکٹرائن میں ایک "نئے کھلاڑی" کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

صہیونیوں کو خوفزدہ کرنے والی تصویر / صہیونیوں نے نے "خرمشہر-4" کے بارے میں کیا کہا؟

شائع شدہ تکنیکی معلومات کے مطابق خرمشہر-4 میزائل ایران کے دشمنوں کے لئے اسٹراٹیجک خطرہ سمجھا جاتا ہے: تقریباً 2,000 کلومیٹر کی آپریشنل رینج، 1500 کلو گرام وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت اور تقریباً 30 میٹر کی درستگی۔ ان صلاحیتوں کا مطلب یہ ہے کہ خرمشہر-4 نہ صرف پورے خطے میں دشمن کے تمام اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ بلکہ مشرقی اور جنوبی یورپ کے بڑے حصوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ اس کی اعلیٰ درستگی اور وسیع تباہ کن طاقت اس میزائل کو فوجی اور اہم اہداف کے خلاف ایک موثر "پوائنٹ اسٹرائیک (اعلی درستگی والا)" ہتھیار بناتی ہے۔ زیر زمین میزائل شہروں میں اس میزائل کی تعیناتی اس کی آپریشنل بقا اور حملے کی صلاحیت اور تاثیر کو بہت زیادہ بڑھاتی ہے۔

درحقیقت ان فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ایران تل ابیب اور واشنگٹن کو واضح پیغام دے رہا ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے دفاع کے حق کو اپنے لئے محفوظ سمجھتا ہے  اور اپنی سرزمین پر کسی بھی ممکنہ حملے کے نتائج سے خبردار کرتا ہے۔

صہیونی میڈیا میں گونج: تشویش سے لے کر خطرے کے تجزیئے تک

عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ اور صہیونی ریاست کے سیکورٹی تجزیہ کاروں میں ان تصاویر کے اجراء کی تیزی سے عکاسی ہوئی۔ خرمشہر-4 صرف ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل نہیں بلکہ یہ درستگی، تباہ کن طاقت اور اسٹیلتھ صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی ایک قابل قدر اور معیاری جست کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ میزائل دفاعی نظام کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگاتا ہے اور صہیونی ریاست کے لیے مستقبل میں کسی بھی تنازعے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کرتا ہے۔

نیز صہیونی میڈیا کے مطابق، اس میزائل کی تعیناتی اور لانچنگ کے لئے بہت مختصر سا وقت درکار ہے، اور یہ صرف 12 منٹ میں مقبوضہ علاقوں تک کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ یہ میزائل فضا سے باہر آواز کی رفتار سے 16 سولہ گنا زیادہ اور فضا کے اندر 8 آواز سے آٹھ گنا زیادہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے؛ جس کے نتیجے میں صہیونی ریاست کے ہوم فرنٹ کے پاس وارننگ جاری کرنے اور میزائل حملے کی تیاری کے لئے زیادہ وقت نہیں ہوگا۔

اس سلسلے میں، عبرانی زبان کی ویب سائٹ hm-news نے صہیونی خدشات کو اس طرح بیان کیا ہے: "آج صبح ایران کے ہتھیاروں میں سے ایک طاقتور ترین ہتھیار کی آپریشنل تعیناتی کی نقاب کشائی کے ساتھ ہی خطے میں سیکورٹی کشیدگی پیدا ہو گئی، یہ تہران کی عسکری صلاحیتوں کی ایک شاندار یاد دہانی ہے۔"

صہیونی ویب سائٹ نے مزید کہا: یہ خرمشہر-4 بیلسٹک میزائل ہے، جو ایران بھر میں بکھرے ہوئے زیر زمین میزائل اڈوں میں نصب ہے۔ اس متاثر کن اقدام نے ماہرین میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ میزائل اپنی تکنیکی خصوصیات کچھ ایسی ہیں کہ جو اس کے رد عمل اور فعال ہونے کے وقت کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ میزائل تہران کے قبضے میں موجود سب سے طاقتور اور جدید ترین میزائلوں میں سے ایک ہے اور اس کی فضائی رفتار، لانچنگ کے لمحے سے صرف 10 سے 12 منٹ میں اسرائیل تک پہنچا سکتی ہے۔

یہ نئی حقیقت میزائل دفاعی نظامات کی افادیت کو متنازعہ بناتی ہے صہیونی ریاست کے لئے اگلی کسی بھی مہم جوئی کو بہت مہنگا بنا دیتی ہے۔

i24 ویب سائٹ نے خرمشہر-4 میزائل کی تصاویر کے حوالے سے لکھا: "2000 کلومیٹر رینج اور ڈیڑھ ٹن وار ہیڈ: ایران کا نیا میزائل آپریشنل ہوگیا۔ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کی جانب سے نئے "میزائل سٹی" کی نقاب کشائی کے دوران، جس کی مکمل ویڈیو نشر نہیں کی گئی، ایران کے جدید ترین بیلسٹک میزائل "خرمشہر 4" کی نقاب کشائی کی گئی۔

اس عبرانی ویب سائٹ نے لکھا: "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سیاسی بیورو کے سربراہ میجر جنرل ید اللہ جوانی نے لبنان کے المیادین چینل کو اس میزائل کے بارے میں بتایا: خرمشہر-4 امریکیوں کے لئے ایک پیغام ہے؛ وہ یہ کہ اگر ہم [ایرانی] مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی فوجی صلاحیتوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔"

صہیونیوں کو خوفزدہ کرنے والی تصویر / صہیونیوں نے نے "خرمشہر-4" کے بارے میں کیا کہا؟

عبرانی زبان کے بلاگ IntelliTimes نے اس حوالے سے لکھا: "ہم حال ہی میں آپریشنل ہونے والے خرمشہر 4 میزائل کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ 1.5 میٹر قطر کا ایک میزائل ایک خصوصی لانچر پر لے جایا جاتا ہے جو کہ ہائپرگولک سیلف آئنائٹنگ مائع پروپیلنٹ کے استعمال کے بدولت اسے 15 منٹ کے اندر اندر تعینات اور فائر کرنے کے قابل بناتا ہے، جس سے دہن (Combustion) سے پہلے پیچیدہ ایندھن کے اختلاط کے طریقہ کار کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔"

بلاگ نے مزید کہا: "اسرائیلی علاقوں (مقبوضہ فلسطین) کے لئے 2,000 کلومیٹر سے زیادہ تک مار کرنے کے لئے پرواز کا کل وقت تقریباً 12 منٹ ہے، جو اسرائیل میں انتباہی وقت کو لانچنگ کے وقت سے کم کر دیتا ہے، خاص طور پر مغربی ایران سے، اور پھر یہ میزائل آخری مرحلے میں اسرائیلی فوج کے الیکٹرانک جوابی اقدامات سے محفوظ ہے۔ یہ میزائل ایک بہت ہی بھاری دھماکہ خیز وار ہیڈ یا ملٹی رول وار ہیڈ (MIRV) کو معلوم کنفیگریشنوں میں لے جا سکتا ہے۔

صہیونیوں کو خوفزدہ کرنے والی تصویر / صہیونیوں نے نے "خرمشہر-4" کے بارے میں کیا کہا؟

جون 2025 کی 12 روزہ جنگ نے، اپنی مختصر مدت کے باوجود، صہیونی معاشرے میں بڑھتے ہوئے خوف اور اضطراب کو جنم دیتی ہے اور ایرانی میزائل حملوں کے سامنے ریاست کی کمزوری اور زد پذیری کو عیاں کیا ہے۔ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور غاصب ریاست کو کافی مالی نقصان پہنچا۔

اس تنازع نے اسرائیل کے مہنگے میزائل دفاعی نظام ـ خاص طور پر اس کے جدید ایرو انٹرسیپٹر میزائل، ـ میں بھی نمایاں کمی کر دی،  اسے مستقبل میں ممکنہ ایرانی میزائل حملے کے لئے مزید کمزور بنا دیا اور صہیونیوں کو ایران کے ساتھ مزید کسی جنگ کا خوفناک بنا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha