بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
سامراج مخالف امریکی کارکن اور صحافی کیلب ماپین (Caleb Maupin) نے سیمینار کے ایک مقرر کے طور پرکہا:
درود!
اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقدہ اس سیمنار میں شرکت اور خطاب بہت بڑا اعزاز ہے۔ میں اپنا خطاب حمد و ستائش کے تمام مراتب کو خداوند کو پیش کرتے ہوئے، شروع کرتا ہوں، تمام چیزوں کا خالاق، ایسی طاقت جو کائنات میں ہے، اور کبھی رک نہیں جاتی؛ ایسی قوت جس سے تمام نیکیاں جنم لیتی ہیں۔ میرا یمین ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خدا کے سامنے تسلیم اور اس ادراک کی بنیاد پر، قائم ہؤا ہے کہ "عدل و انصاف تک پہنچنے کا راستہ اللہ کے سامنے تسلیم ہونے اور مظلوموں کی حمایت میں ایثار و قربانی اور بہادری ہے"، مغربی سرمایہ داری اور استعمار سے آزا ہو گیا ہے اور آزادانہ ترقی کی طرف اپنی حرکت کا آغاز کر چکا ہے۔ فلسطینیوں، یمنیوں، لبنانی عوام اور دنیا بھر کے عوام ـ بالخصوص جنوبی افریقی عوام اور شمالی آئرلینڈ کے عوام ـ کے ساتھ یکجہتی اس کی حیرت انگیزی حصول یابیوں [Achievements] سے مالامال ریکارڈ ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب دنیا کی بہت سی قوموں کے لئے ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے۔
میں بطور خاص اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے مجھ جیسے شخص کو ـ جو اوہائیو (Ohio) کے ایک چھوٹے سے شہر میں پیدا ہؤا ہے ـ مدد بہم پہنچائی کہ میں قادر متعال پر اپنا ایمان کشف (دریافت) کروں؛ وہ خداوند جو ہر چیز کا خالق اور کائنات میں بنیادی طاقت ہے۔ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اس کے خصوصی کردار کے لئے، جو اس نے خاص طور پر میری زندگی میں ادا کیا ہے، اور میری راہنمائی کی ہے کہ دیکھ سکوں کہ ہم دور حاضر میں کیونکہ امپریلزم کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
میں خاص طور پر دو ایرانی افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو انتقال کر گئے ہیں، لیکن مجھے ان سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہے: اول، نامی گرامی فلم ساز نادر طالب زادہ ہیں جو "افق نو" کانفرنس منعقد کیا کرتے تھے۔ میں نے پہلی بار سنہ 2014ع اور دوسری مرتبہ سنہ 2015ع میں افق نو کانفرنس میں شرکت کی۔ مذکورہ کانفرنس میں میری دوسری شرکت یمن میں ہلال احمر کے ساتھ ایک تاریخی میڈیکل مشن میں شرکت کے بعد انجام پائی۔ افق نو میں میری شرکت ایک ایسا تجربہ ہے جس نے میری زندگی کو بدل ڈالا اور میں اسے ہرگز بھول نہیں سکتا۔
نیز میں سابق صدر سید ابراہیم رئیسی کو خراج اعقیدت و احترام پیش کرتا ہوں جن سے میں نے، اقوام متحدہ میں ایک خصوصی انٹرویو لیا۔۔ ایک عظیم سامراج مخال شخصیت، مردِ خدا، عالمی دین اور آپ کے ملک کے صدر جمہوریہ۔ وہ ایک حقیقی اعزاز تھا کہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہو سکا۔ ہم نے ان سے ایران کی آگے کی طرف پیشرفت، ایران اور روس کے تعلقات کے مستقبل اور برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے درمیان تعلق، اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمتی معیشت کے بارے میں سنا۔ ابراہیم رئیسی کے ساتھ بات چیت ـ ان کے غم انگیز انتقال سے قبل ـ بہت بڑا اعزاز تھی۔
آس کانفرنس کا موضوع "ریاستہائے متحدہ کا زوال" ہے۔ میں ایک امریکی باشندے کے طور پر آپ سے مخاطب ہوں اور مجھے سچائی کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ "میں یہ نہیں چاہتا کہ میرا ملک زوال پذیر ہوجائے"، لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے پاس مستقبل کے لئے صرف امپریلزم (اور استعمار و سامراجیت) سے چھٹکارا پانے [یعنی اسے ترک کرنے] کا راستہ باقی ہے"۔ یہ بین الاقوامی نظام، جس میں بڑے بینک اور اجارہ دار (Monopolist) ادارے دنیا کو غربت سے دوچار اور ممالک کو تباہ و برباد کرتے ہیں تاکہ وہ خود امیر و دولتمند رہیں، یہی وہ ادارے ہیں جو امریکہ کا خاتمہ کریں گے۔
اقتصاد و معیشت سے میرا اداراک یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ـ جس میں منافع پیداوار کی بنیاد ہے، در حقیقت چار مرحلوں سے گذرتی ہے:
1۔ ابتدائی مرحلہ: انبار سازی (Accumulation phase) اور ذخیرہ سازی کا مرحلہ:
اس مرحلے میں دہقانوں کو ان کی زمینوں سے نکال باہر کیا گیا۔ زمین داری کا نظام (Feudalism) کی بیخ کنی ہوئی؛ براعظم امریکہ اور براعظم افریقہ غلاموں کی بین البراعظمی تجارت اور استعمار کے ہولناک جرائم کے ذریعے زیر تسلط چلے گئے۔ لاکھوں کروڑوں انسانوں کا قتل عام ہؤا تاکہ کیپیٹلزم ـ موجود شکل میں ـ معرض وجود میں آ سکے۔ تو پہلا مرحلہ ہؤا " انبار سازی (Accumulation phase)"
2۔ اسی چوری، ڈاکہ زنی اور المناک قتل عام کے ذریعے، پوری دنیا میں کروڑوں انسانوں کے قتل کے ذریعے، مغربی اشرافیہ نخبگان کی دولت میں اضافہ کیا گیا اور ہم صنعتی نظام تک پہنچے۔ کارخانوں کے مالکیں نے کارخانوں کے مزدوروں کا استحصال کیا اور بورژوا (Bourgeoisie) (سرمایہ دار] طبقے [] نے پرولتاریا اور محروم طبقوں کے اجرت لینے والے کارکنوں کا استحصال کرکے مصنوعات تیار کيں اور ایسے دورے میں داخل ہوئے جس میں وہ اسے مرحلے تک پہنچے کہ انہیں مسلسل ٹیکنالوجیکل انقلاب کا راستہ اپنایا اور یہ کیپیٹلزم کی صنعتی پیداوار کی روشوں کا دوسرا مرحلہ تھا۔ یہ مرحلہ بالکل نئی مشکلات و مسائل کا سبب بنا جس سے انسان کو نئی چيزوں کے تجربے سے گذرنا پڑا: غربت، فراوانی کے باوجود، عوام کی بھوک ـ غذائی قلت کی وجہ سے نہیں بلکہ ـ کچھ ممالک اور معاشروں کے پاس بے اشیائے خورد و نوش کی حد سے زیادہ موجودگی۔
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی کسی غریب کی فاقوں سے مر گئی
لوگوں کی بے خانمانی بے خانماں (Displacement) اور بے گھری، مکانات کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ کچھ لوگوں کے پاس لامحدود تعداد میں مکانات کی وجہ سے، غربت اور ناداری اور محتاجی، فراوانی کی وجہ سے، نامعقول منڈیکی وجہ سے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام ہر چند سال ایک بار ایک اقتصادی بحران کے بموجب برباد ہو جاتا تھا، اور عوام غربت اور بھوک سے دوچار ہوجاتے تھے۔ یہ صنعتی نظام کا المیہ تھا: انسانی ٹیکنالوجی انتہائی تیز رفتاری سے ترقی کر رہی تھی، لیکن غربت بھی اس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ لیکن یہ کیپیٹلزم کے اگلے مرحلے کی پیداوار کی روش تھی۔
3۔ صنعیت یا صنعت کاری (Industrialism) امپریلزم کا سرچشمہ
صنعتیت یا صنعت کاری (Industrialism) کے اندر سے، امیریلزم نے جنم لیا؛ ایسا نظام جس میں بڑے بڑے بینکار صنعتکاروں پر مسلط ہوئے اور دنیا کے مختلف علاقوں کو ـ "اسیر منڈیوں" کے عنوان سے ـ آپس میں تقسیم کر لیا۔ وہ اپنی اضافی مصنوعات کو ان منڈیوں پر برساتے تھے اور جنگوں کو سرحدوں کی نئی تشکیل اور علمداریوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے مسابقت کے لئے بروئے کار لاتے تھے جس کا مقصد ان عملداریوں میں موجود لوگوں کا استحصال کرنا ہوتا تھا؛ ان کے قدرتی وسائل کو اپنے کنٹرول میں لانا ہوتا تھا، اور ان علاقوں میں رہنے والی قوموں کو غریب اور بھوکا رکھنا ہوتا تھا۔ ایران کو ـ بطور خاص برطانوی سلطنت اور دوسری استعماری قوتوں کے ہاتھوں استعمار کے ہولناک جرائم کے دوران جان لیوا تکالیف اٹھانا پڑیں جو ایران عوام کا بے رحمانہ انداز سے استحصال کر رہی تھیں؛ انہوں نے غیر فطری اور جعلی بھوک اور غربت سے دوچار کئے رکھا۔
4۔ استعمار اور امپریلزم کے قلب سے چوتھے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں: تباہ کن انبار سازی
پہلے مرحلے میں تباہ کن انبار سازی (Destructive accumulation) ا۔ امپریلزم کے پہلے مرحلے میں کے ایک دور میں، صورت حال یہ تھی کہ دنیا کی استعمار شدہ اقوام [سامراجیوں کی نوآبادیوں] کو بھوکا رکھا گیا، لیکن اس کے بدلے ایک خوشحال اور امیر طبقہ مغربی ممالک میں "تعمیر کیا گیا۔" وہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ اس وقت کیپیٹلزم کی پیداوار کی روش چوتھے مرحلے میں ہے اور اس مرحلے میں استعماری ممالک خود، اندر سے بوسیدگی اور فرسودگی کا شکار ہیں۔ حالانکہ بین الاقوامی بینکاروں کی کوشش ہے کہ لامتناہی جنگوں کے ذریعے اپنے نظام کو قائم رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ