31 جنوری 2026 - 09:54
ایران میں بلوؤں کے پیچھے امریکی عزائم، جان میئر شیمر کی زبانی، ویڈیو

امریکی سیاسی سائنسدان نے کہا: یہ اسرائیل ہے جو ایران کو امریکہ کا دشمن بنا کر پیش کر رہا ہے ۔۔۔ حالیہ بلوے حکومت کی تبدیلی کے لئے امریکی-اسرائیل سازش کا نتیجہ تھے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران میں حالیہ بلوے حکومت بدلنے کی امریکی- اسرائیلی سازش کا نتیجہ تھے۔ کیا تم نہیں سمجھتے کہ غزہ میں نسل کشی کے مرتکب امریکی اور اسرائیلی ایران میں کچھ بلوائیوں کے ساتھ حکومت کے برتاؤ پر تنقید کریں؟ کیا یہ ایک اعلانیہ منافقت نہيں ہے؟

ہم [امریکیوں] نے پابندیوں کے ذریعے ایرانی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، اور حالیہ احتجاج کی وجہ بھی یہی تھی، اور ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔

ایران کے ساتھ دشمن امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے، اسرائیلیوں کا اصرار ہے کہ ہم ایران کو اپنا دشمن سمجھیں۔ اگر امریکہ میں اثر و رسوخ رکھنے والے اسرائیلیوں کا اصرار نہ ہوتا تو ہمارے تعلقات ایران کے ساتھ بہت اچھے ہوتے۔

برطانوی براڈکاسٹر پیئرس مورگن (Piers Morgan) کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سیاسی سائنسدان پروفیسر جان میئر شیمر (John Joseph Mearsheimer) نے کہا:

مغربی نصف کرہ میں ٹرمپ نے وینزویلا کو اسلحے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس نے دھمکی دی ہے کہ نہر پاناما کو دوبارہ لے گا؛ کینیڈا کو 51ویں امریکی ریاست بنائے گا۔ ان دنوں گرین لینڈ پر حملہ کرنے اور اسے امریکہ میں ضم کرنے پر بحث ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد سے بہت آزادانہ طور پر فوجی قوت استعمال کی ہے۔ میرے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس نے سات ممالک کے خلاف فوجی قوت استعمال کی ہے۔

حکومتیں بدلنے کے بارے میں اس نے ابتداء میں کہا تھا کہ ایسا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اس کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت شدت سے حکومتیں بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایران کا مسئلہ حکومت کی تبدیلی کے لئے بڑی امریکی-اسرائیلی سازش ہے۔

امریکہ کا حکومتیں تبدیل کرنے کے حوالے سے ایک طویل پس منظر ہے، وہ وینزویلا میں اسی پالیسی کے تحت اس ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے اور تقریبا تمام کوششوں میں شکست سے دوچار ہو جاتا ہے۔

ہم نے افغانستان میں حکومت تبدیل کردی اور 20 سال تک وہاں رہے، اور سوچتے رہے کہ یہ ماجرا خوشی سے اختتام پذیر ہوگا۔ 20 سال بعد ہم ہار گئے۔

صرف عراق کے واقعات کو دیکھئے۔

یہ کہ کچھ امریکی وینزویلا چلے جائیں گے، ان کی سیاست کا انتظام سنبھالیں گے، ان کا تیل چوری کریں گے اور ہم بچ کر نکلیں گے؛ میں اس پر کچھ شرط نہیں لگاتا۔

میزبان: ایران کی طرف آتے ہیں، میں دیکھ بہت بڑی اخلاقی منافقت اور دوہرے معیار دیکھ رہا ہوں۔ دو ٹوک الفاظ میں بولوں تو بڑی بزدلی دیکھ رہا ہوں۔

بہت سے افراد جو غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں بہت شور مچا رہے تھے، ہالی ووڈ سے لے کر میڈیا کی نمایاں شخصیات تک، ایران کے بلوؤں پر ان کی خاموشی بہت عیاں ہے۔ یقینا اسرائیل اور امریکہ ان بلوؤں کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ وہ بلوائیوں کی کامیابی کے خواہاں ہیں، آیت اللہ برطرف ہوں اور ملاؤں کی حکومت کا خاتمہ ہو۔ مجھے یقین ہے کہ وہ یہی چاہتے ہیں اور اس قصے کو آگے بڑھانے کے لئے سب کچھ کر گذرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک عوامی تحریک موجود نہیں ہے۔

جان میئر شیمر: میں تم سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

میزبان: پوچھئے۔

میئر شیمر: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اسرائیل اور امریکہ جو بہت گہرائی سے غزہ میں "ایک نسل کشی" میں مصروف رہے ہیں، اب وہی شور مچا رہے ہیں کہ ایرانی حکومت بلوائیوں کے ساتھ کتنی بدسلوکی کر رہے ہیں؛ کیا یہ منافقت آشکار نہیں ہے؟

میزبان: یہ مسائل مختلف حالات میں واقع ہو رہے ہیں۔

میئر شیمر: شک نہ کرو، ایسا ہی ہے؛ یہ بالکل درست ہے۔

میزبان: ایران میں ایک تحریک ہے جو شام والی تحریک کی طرح ہے اور ہم نے دیکھا کہ یہ بہت جلدی اسد حکومت کی کایاپلٹ پر منتج ہوئی۔۔

میئر شیمر: میں تمہارے لب و لہجے سے حیرت زدہ ہؤا۔ ماضی میں جب ہم بات کرتے تھے تو تم بڑی آسانی سے تشخیص دیتے تھے کہ اسرائیلی غزہ میں نسل کشی کر رہے ہیں۔

میزبان: میں نے کبھی ایسی بات نہیں کی، میں نے ہرگز نہیں کہا کہ مجھے یقین کہ یہ ایک نسل کشی ہے! میں نے یہ کہا ہے کہ یہ قومی صفایا کی ایک شکل ہے لیکن کبھی نہیں کہا کہ یہ نسل کشی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اسرائیل کا جواب غیر متناسب تھا اور وہ بہت آگے بڑھا۔ لیکن میں نے اس کو نسل کشی قرار نہیں دیا ہے۔

میئر شیمر: میں یقین نہیں کر سکتا کہ تم تشخیص نہیں دے پا رہے ہو کہ جو کچھ اسرائیلیوں نے امریکیوں کی مدد سے غزہ میں انجام دیا ہے، ایک نسل کشی یا پھر اجتماعی قتل کا ایک نمونہ ہے۔ اور جب اسرائیلی اور امریکی احتجاجیوں کے خلاف ایرانی حکومت کے تشدد پر تنقید کرتے ہیں، تو کیا یہ ایک وسیع پیمانے پر منافقت نہیں ہے؟

انسانی حقوق کی تمام تنظیموں ـ حتی کہ انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم "بتسلم" نے کہا ہے کہ یہ ایک نسل کشی ہے۔

میں درحقیقت سمجھتا ہوں کہ تم غزہ کے المیوں کو ناچیز بنا کر پیش کر رہے ہو اور میں حقیقت اس حوالے سے حیران ہو گیا ہوں۔

لیکن میں ایک لمحے کے لئے بحث کو تبدیل کرنا چاہتا ہوں اور ایک دوسرا مسئلہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔

تم اس طرح سے بات کر رہے ہو کہ گویا ایران میں حالیہ احتجاج صرف حکومت سے عوام کی ناراضگی کے بموجب ہؤا ہے اور اس کا امریکہ سے کوئی تعلق نہيں ہے!

میرا خیال نہیں ہے کہ اصل وجہ یہ ہو، اصل وجہ جس کی بنا پر لوگوں کی برداشت ختم ہو گئی ہے ایران کی اقتصادی صورت حال ہے۔

یہاں جو کچھ ہؤا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایرانی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کے اصل ذمہ دار ہم [امریکی] ہیں۔ لوگ ایران کی اقتصادی صورت حال پر تنقید کر رہے ہیں جو بہت حد تک امریکی پابندیوں کی وجہ سے نازک حالت میں ہے۔

اگر امریکی پابندیاں نہ ہوتیں تو آج احتجاج بھی نہ ہوتا۔

دوسرا مسئلہ جو تمہاری سمجھ سے بالاتر ہے یہ ہے کہ سابق ایرانی حکومت سنہ 1975 میں شاہ کے ماتحت تھی جو بہت جابر تھی اور لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ حکومت بھی کچل دیتی ہے احتجاجات کو لیکن میرا خیال ہے کہ یہ مسئلہ صرف اور صرف ایرانیوں کا ہے۔ یہ میری اور تمہاری ذمہ داری نہیں ہے کہ ایران چلے جائیں اور وہاں کی سیاست کو از سر نو ترتیب دیں۔ میں قومی سالمیت پر یقین رکھتا ہوں۔

میں اس نظریے کو پسند نہیں کرتا کہ دوسرے ممالک آکر ہماری سیاست میں مداخلت کریں۔ اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی ایک برطانوی کے طور پر پسند نہیں کرتے ہو کہ دوسرے ممالک برطانیہ کی سیاست میں مداخلت کریں۔

یہ نظریہ کہ ایران جیسا ملک جو امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہے، یا وینزویلا کی طرح کا ملک۔۔۔

میزبان: [جل بھن کر] ایران امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہے؟

میئر شیمر: نہیں، نہیں ہے۔

تم درحقیقت اس طرح استدلال کر رہے ہو کہ وہ امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہیں، بلکہ اسرائیل کے لئے خطرہ ہیں! اور چونکہ ہمارا پیوند اسرائیل کے ساتھ بہت مضبوط ہے، چنانچہ جو بھی چیز اسرائیل کے لئے خطرہ ہو وہ امریکہ کے لئے بھی خطرہ ہے۔ میں اس استدلال کو نہیں مانتا!

میں سب سے پہلے ایک امریکی ہوں! میرے لئے امریکی مفاد اہم ہے۔ یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارا تعلق دشمنی پر مبنی ہو۔ اور اگر اسرائیلی امریکہ کے اندر اتنے طاقتور نہ ہوتے جو زور دیتے ہيں کہ ہم امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتے رہیں، تو ایران کے ساتھ ہمارے تعلق بہت اچھے ہوتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha