سورہ نمل

  • دنیا تعطل سے دوچار؛ انسانی ساختہ حکمت عملیاں مؤثر نہیں ہیں

    تدبر فی القرآن؛

    دنیا تعطل سے دوچار؛ انسانی ساختہ حکمت عملیاں مؤثر نہیں ہیں

    جس دنیا میں انسان اپنی صلاحیتوں کا بھروسہ کئے بیٹھا ہے، بہت سارے بحرانوں کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب بھی رہا ہے، بند گلیاں یکے بعد دیگرے سامنے نمایاں ہو رہی ہیں۔ قرآن کریم سورہ نمل میں بنیادی سوال اٹھا کر انسان کی نظروں کو بنی نوع انسان کی محدود حکمت عملیوں سے پلٹا دیتا ہے اور ایک بھولی بسری حقیقت کی طرف متوجہ کرواتا ہے۔

  • تاریخ کے عظیم ترین معجزات بھی اس قوم کو درست نہ کرسکے

    تدبر فی القرآن؛

    تاریخ کے عظیم ترین معجزات بھی اس قوم کو درست نہ کرسکے

    خدائے متعال سورہ نمل کی ابتدائی آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے آغاز کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ تاریخ کے قوی ترین معجزات ان کو عطا ہوئے لیکن یہ تمام تر معجزات فرعونیوں ـ نیز ـ بنی اسرائیل کو راہ راست پر نہیں لا سکے۔

  • حکمتِ تصدیق؛

    تدبر فی القرآن؛

    حکمتِ تصدیق؛

    معاملہ محض صدق (سچ) اور کذب (جھوٹ) نہیں ہے! وہ واضح اور مسلّمہ اعداد و شمار کو بھی جھٹلا دیتے ہیں، ہر "صحیح کام پر حساسیت" پیدا کی جاتی ہے، حق کو پہچانتے ہیں پھر بھی قبول نہیں کرتے، بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ یہ محض جھوٹ نہیں ہے، یہ جَحْد (ضد پر مبنی انکار) اور تکذیب (جھٹلانا) ہے۔