اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر کینیڈا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوٹاوا نے بیجنگ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تجارتی معاہدہ کیا تو امریکہ کینیڈا سے آنے والی تمام اشیا پر سو فیصد ٹیرف نافذ کر دے گا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو تحقیر آمیز انداز میں مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ کینیڈا چین کے لیے امریکی منڈی میں سامان اتارنے کا راستہ بن جائے۔
امریکی صدر کے مطابق، چین کے ساتھ اس قسم کی شراکت داری کینیڈا کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی اور اس کے نتیجے میں کینیڈین روزگار، سماجی ڈھانچہ اور عوامی طرز زندگی شدید متاثر ہوں گے۔ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی صورت میں کینیڈا کو فوری طور پر سخت امریکی تجارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آٹھ برس بعد کسی کینیڈین وزیراعظم کا پہلا دورۂ چین ہوا ہے۔ مارک کارنی اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں مذاکرات کا آغاز کیا ہے، جہاں کارنی نے دونوں ممالک کے درمیان نئی اسٹریٹجک شراکت داری کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر پہلے ہی عائد کردہ ٹیرف کے بعد، مارک کارنی امریکہ پر اقتصادی انحصار کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ زراعت، توانائی اور مالیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے والا قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ