20 جنوری 2026 - 08:53
مآخذ: ابنا
جے پور میں مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کے معاملے میں حکومت کا کردار بے نقاب

بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کے الزامات نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ الزام ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل آدرش نگر اور ہوا محل اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹروں کو نشانہ بنایا۔ بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کی گواہیوں اور دستاویزات سے اس مبینہ کارروائی میں بی جے پی رہنماؤں کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کے الزامات نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ الزام ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل آدرش نگر اور ہوا محل اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹروں کو نشانہ بنایا۔ بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کی گواہیوں اور دستاویزات سے اس مبینہ کارروائی میں بی جے پی رہنماؤں کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

آدرش نگر میں کانگریس اسپورٹس سیل کے عہدیدار اور سابق میونسپل کونسلر امیدوار شہنواز کو اس وقت حیرت ہوئی جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے خاندان کے 70 سے 80 افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کے لیے اعتراضات داخل کیے گئے ہیں۔
شہنواز نے مکٹوب سے کہا، “میرے بی ایل او امان کھوڑا نے بتایا کہ میرے پورے خاندان کے ناموں پر اعتراض داخل کیے گئے ہیں۔ ہم میں سے کسی نے حذف کی درخواست نہیں دی تھی۔”

شہنواز کے مطابق، 15 جنوریجو تصحیح اور حذف کا آخری دن تھا—مسلم اکثریتی وارڈز میں ہر بوتھ سے 300 سے 400 اعتراضاتی فارم جمع کیے گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان فارموں پر بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹس (BLA) کے دستخط دکھائے گئے، مگر جن بی ایل اے کے نام درج تھے نعیم الدین، سلیم اور راشد—انہوں نے بعد میں کہا کہ انہوں نے ان دستاویزات پر دستخط نہیں کیے، جس سے جعلی دستخطوں کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔

 دستاویزات کے مطابق بی ایل اے نعیم الدین نے تحریری طور پر واضح کیا کہ انہوں نے فارم 7  پر نہ دستخط کیے اور نہ ہی اجازت دی۔ ایک فارم 7 میں آدرش نگر سے بی جے پی کے سابق اسمبلی امیدوار روی نئیر کا نام درج ہے، جس میں شاہدہ، ریحانہ اور شاکر سمیت کئی ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

شہنواز نے الزام لگایا کہ روی نئیر نے ذاتی طور پر تقریباً 200 اعتراضاتی فارموں پر دستخط کیے۔ متاثرہ بوتھس کے بی ایل او میں امان کھوڑا اور روی شرما شامل تھے۔ مکٹوب نے روی نئیر سے رابطے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

آدرش نگر سے کانگریس کے ایم ایل اے رفیق خان نے بھی ان الزامات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا، “ہاں، یہ بی جے پی والوں نے کیا ہے۔ میرے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔ اسمبلی سیٹ سے نام کاٹنے کی کوشش کی گئی۔”

اسی طرح کے الزامات ہوا محل حلقے سے بھی سامنے آئے ہیں، جہاں 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی محض 974 ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بی ایل او کیرتی کمار کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ان پر “سینئر انتخابی افسران” کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ 470 ووٹروں کے خلاف اعتراضات نمٹائیں—جو ان کے بوتھ کے تقریباً 40 فیصد ووٹر ہیں۔
ویڈیو میں وہ کہتے ہیں، میں یہ کرنے کے بجائے خودکشی کر لوں گا۔”

کیرتی کمار کا دعویٰ ہے کہ اعتراضات خاص طور پر مسلم ووٹروں اور کانگریس حامی افراد کے خلاف تھے، جن کی تصدیق وہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ دیگر بی ایل اوز، جن میں سرسوتی مینا بھی شامل ہیں، نے اس دعوے کی تائید کی اور کہا کہ پڑوسی ہندو اکثریتی بوتھس میں اس نوعیت کے اعتراضات نہیں آئے۔

الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق ایک بوتھ لیول ایجنٹ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 10 اعتراضات داخل کر سکتا ہے۔ تاہم بی جے پی کے بی ایل اے وشال سینی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دو دن میں کم از کم 200 ووٹروں کے خلاف اعتراضات داخل کیے۔ مقامی بی جے پی کونسلر سریش سینی نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے کیرتی کمار کے بوتھ میں 467 ووٹروں کے خلاف اعتراضات داخل کیے۔

قواعد کے تحت ہر اعتراض کی جسمانی تصدیق لازمی ہے اور ووٹر نہ ملنے کی صورت میں نوٹس جاری کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) ووٹر کا نام حذف کر سکتا ہے۔ تاہم دونوں حلقوں کے بی ایل اوز کا کہنا ہے کہ جن ووٹروں کو نشانہ بنایا گیا وہ مقامی رہائشی اور پہلے ہی تصدیق شدہ تھے۔

سیاسی سطح پر بھی معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ راجستھان کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے اسے ووٹر لسٹ میں “سازش” قرار دیا، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت انتظامی مشینری کا غلط استعمال کر کے بالخصوص اقلیتی ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تحقیقات جاری ہیں، مگر ان انکشافات نے جے پور کی ووٹر فہرستوں کی ساکھ اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha