اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی کے متعدد ماہرین، تجزیہ کاروں، عوامی حلقوں اور سیاستدانوں نےایران کے حالیہ واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ تہران کبھی بھی یورپ اور امریکہ کی ز ور زبردستی کے سامنے نہیں جھکا ہے اور اس مرتبہ بھی مغربی اور صیہونی سازشوں کو ناکام بنادے گا۔
پاکستان کے ممتاز تجزیہ کاروں، عوامی رہنماؤں، اور سیاستدانوں نے ایران میں غیر ملکی مداخلت اور ایرانی عوام کے حقیقی مظاہروں کو اغوا کرکے انہیں تشدد، بدامنی اور دہشت گردی میں تبدیل کرنے کے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے عوام دشمن اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک ممتاز صحافی ملیحہ ہاشمی نے اپنے ایکس پیج پر لکھا ہے کہ حمیت و عزت کو ایران اسلامی کے عوام سے سیکھنا چاہیے کیونکہ وہ کبھی بھی یورپ اور امریکہ کی کی زور زبردستی کے سامنے نہیں جھکے۔
پاکستان میں قومی سلامتی کے ممتاز ماہر سید باقر سجاد نے کہا ہے کہ صیہونیوں نے ایران میں مہنگائی کے خلاف عوام کے احتجاجی مظاہروں سے چند روز قبل تشدد اور بدامنی کی بات کی تھی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت ایران کے ساتھ ہمارا علاقائی تعاون مضبوط ہونا چاہیے۔
پاکستان کے ایک تجربہ کار سیاستداں اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہروں کو ہائی جیک کرنے کی امریکا اور اسرائیل کی ملی بھگت اور سازش ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور ہمیں اس کے نتائج کی جانب سے فکر مند ہونا چاہئے۔
اسلام آباد میں جیو نیوز کے معروف اینکر حامد میر نے کہا ہے کہ ایران ہمارا اہم پڑوسی ملک ہے اور اس ملک سے متعلق ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی واقعات کا اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔
انہوں نے پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہوشیار رہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے خوش نہیں ہیں اور اندرونی حالات سے فائدہ اٹھانے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی ایک اور سیاسی مبصر اور انسانی حقوق کی سابق وزیر محترمہ شیریں مزاری نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ غاصب اور بچوں کی قاتل صیہونی حکومت علاقے میں بدامنی کی جڑ ہے اور ایران میں کسی بھی طرح کی بدامنی اور تشدد پاکستان کے مفادات کے لئے سنگين خطرہ ہے اور صیہونیوں کو ہماری مشترکہ سرحدوں کے قریب لے آئے گا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سربراہ سراج الحق نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں متعدد مظاہرین کے اجتماع کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے خود کو انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا یہ طرزعمل عالمی اصولوں اور اقدار کے منہ پر بھرپور طمانچہ ہے۔
آپ کا تبصرہ