اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی شیعہ اکثریتی علاقے "الشرقیہ" کے شہر "الخُبَر" کے شیعہ باشندے ـ جو اپنی نو مساجد کی بندش کے بعد مقامی حکام اور اہل سنت کی مسجدالنور کی انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اس مسجد میں نماز جمعہ و جماعت ادا کرتے تھے ـ تکفیری گروہوں کے حملوں کے بعد مسجدالنور میں بھی نماز کی ادائیگی سے محروم ہوگئے۔اس رپورٹ کے مطابق سلفیوں اور تکفیریوں کے حملے کے بعد الخبر کے شیعہ باشندے سرکاری فورسز کی نظروں سے دور سڑک پر نماز جماعت ادا کرنے پر مجبور ہوئے؛ تکفیریوں نے مسجد میں حاضر ہوکر شیعہ امام جماعت کو بھی برا بھلا کہا۔ تکفیریوں کے اس اقدام کے بعد کئی سرکردہ شیعہ افراد اس واقعے کی شکایت کرنے کی غرض سے مقامی حکام کے دفتر میں حاضر ہوئے۔یادرہے کہ الخبر شہر میں 20 ہزار شیعہ رہائش پذیر ہیں اور اس علاقے میں اہل تشیع کی نو مسجدیں تھیں جنہیں سعودی عرب کے سلفی حکمرانوں نے گذشتہ 4 مہینوں کے دوران بند کردیا ہے۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے حکمران اہل تشیع کو مسجد و امامبارگاہ ـ تو کیا ـ قبرستان تک کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ اہل تشیع کے موجودہ دینی مراکز کو بھی بند کردیں؛ دوسری طرف سے اہل تشیع کی توہین سعودی عرب کے حکام، سیکورٹی فورسز اور انتہا پسند وہابیوں کے روز کا معمول بن گئی ہے۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 176945
الخُبَر شہر میں سعودی عرب کے سلفی حکمرانوں کی جانب سے اہل تشیع کے دینی امور میں مسلسل رکاوٹیں ڈالے جانے اور ان کی متعدد مساجد کی بندش اور اہل سنت کی نماز جماعت میں شرکت سے بھی شیعیان اہل بیت (ع) کی محرومی کی وجہ سے سڑرکوں پر نماز بجالانے لگے۔