اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ تہران کے بارے میں فرانسیسی حکام کےبیانات ان کے صہیونی نظریات کی عکاسی کرتے ہيں اور ساتھ ہی ان کے اس طرح کے بیانات مداخلت پسندانہ اور غاصبوں کے مفادات کی تکمیل کے لئے ہيں۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے فرانسیسی وزیرخارجہ برنارڈ کوشنرکے دعوے کو مستردکرتے ہوئے  کہا کہ اس طرح کے بیانات غیرمنطقی اوربے بنیاد ہیںبرنارڈ کوشنر نے دعوی کیا تھا کہ ایران لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ علاقے کی اصل تشویش صہیونی ریاست کا غاصبانہ وجود ہے اوریہ بات سب جانتے ہيں کہ خطرات اورغاصبانہ کاروائيوں کی علامت اس وقت صہیونی ریاست ہے جو اپنی جارحانہ سرشت کے تحت بے گناہ انسانون کو آئے دن مختلف ہتھیاروں کا نشانہ بناتی ہے۔صہیونی حکام نے بھی اس سے پہلے دعوی کیا تھا کہ ایران، حزب اللہ اور حماس کو ہتھیار فراہم کرتا ہے۔صہیونیوں نے اس طرح کے بیانات کے ذریعے ایران کے بارے میں یہ جتانے کی کوشش کی تھی کہ علاقے میں امن واستحکام کے قیام کی راہ میں ایران رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ صہیونی ریاست کے اسی طرح کی تشہیراتی مہم کے تحت ہی اقوام متحدہ میں صہیونی ریاست کے نمائندے نے انتہائي مضحکہ خیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ ایران حزب اللہ اور حماس کو عام تباہی پھیلانے والے ۔ حتی کہ ایٹمی ہتھیار بھی ۔ فراہم کردے۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات توہم اور ذہنی بیماریوں کی دین ہوا کرتے ہیں جن کی علامتیں آج صہیونی حکام میں بخوبی دیکھی جاسکتی ہيں اور اب فرانسیسی حکام کی جانب سے صہیونیوں کی مسلسل اطاعت و تقلید کی وجہ سے یہ بیماری سرایت کرکے فرانسیسیوں میں بھی پہنچ چکی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعویداروں نے گذشتہ کئی برسوں سے پوری دنیا کو شدید سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی بحران میں دھکیل دیا ہے  جبکہ ان کے نعروں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انسانی اقدار پامال ہورہی ہيں اور دہشت گردی و انتہا پسندی پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔امریکہ اور یورپی ممالک خاص طور پر فرانس ایک ایسے وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انسانی حقوق کے دفاع کا دعوی کررہے ہيں جب وہ اپنے خلاف معمولی سی بھی تنقید سننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور وہ مغربی معاشروں میں انسانی حقوق کے تلخ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مغربی ممالک انسانی حقوق اور دہشت گردی کی کچھ اس طرح سے تعریف کرتے ہیں کہ ان کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کو جواز فراہم کرے۔حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کے بیانات کا مقصد ایران کے سلسلے میں عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور خطے کے ممالک میں تفرقہ ڈالنا اور مشرق وسطی ميں غاصب صہیونی ریاست کے ایٹمی  خطرات سے لوگوں کے ذہنوں کو منحرف کرنا ہے کیونکہ آج غاصب صہیونی ریاست نہ صرف علاقے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا  ہے۔

بشکریہ از ریڈیو تہران