18 مارچ 2010 - 20:30

اردن کے شہر المزار الجنوبی کے محلے الرمیثہ کی سڑک کا نام شارع صدام حسین رکھنے کے بعد عراق اور کویت کے ساتھ اردن کے تعلقات منقطع ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق المزار الجنوبی کے الرمیثہ نامی محلے میں ایک سڑک کو سابق آمر صدام حسین سے موسوم کرنے کے بعد اردن کی حکومت کو کویتی پارلیمان اور عراقی حکام کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

کویتی پارلیمان کے نمائندگان نے کہا ہے کہ اگر اردنی حکومت نے اس ملک کی سڑک کو صدام کے نام سے موسوم کرنے کی صحیح وضاحت نہ کی تو گویا اس نے کویت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔

عراق کی اسلامی مجلس اعلی نے وزیر اعظم نوری المالکی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تسمیئے پر اردن کے ساتھ عراق کے تعلقات کی سطح فوری طور پر محدود کردیں۔

یادرہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کئی برسوں سے جاری ہے؛ یمن میں عالمی استکباری طاقتوں کی نئی ریشہ دوانیوں کا آغاز ہوچکا ہے اورعلاقی کے حالات کو امریکہ اور اسرائیل کے مطمع نظر کے مطابق ترتیب دینے کے لئے اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے اور اسی اثناء میں اردن، سعودی عرب اور مصر نے استعمار اور اسرائیل کی اعلانیہ خدمت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑڈالے ہیں یہ تینوں ممالک یمن پر امریکی مقاصد کے حصول کی خاطر حملہ آور ہوئے ہیں اور سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک امام جمعہ نے سعودی حکمرانوں کے حکم پر استعمار کی خدمت کرتے ہوئے آیت اللہ العظمی سیستانی کی توہین کی ہے جبکہ اس ملک سے شائع ہونے والے روزنامے الوطن نے ان کی توہین آمیز تصاویر شائع کی ہیں اور اب اردن نے صدام کے مردہ گھوڑے کو تازیانے مار کر زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عراق اور کویت کے ساتھ اپنے تعلقات مخدوش کردیئے ہیں جبکہ آیت اللہ سیستانی کی توہین پر سعودی عراقی تعلقات بری طرح متأثر ہوئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور اردن اسرائیل اور امریکہ کی خوشنودی کی حصول کی خاطر سب کچھ کر گذرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ عرب ممالک پہلے سے کہیں زیادہ اندرونی اختلافات کا شکار ہوجائیں اور اسرائیل اور امریکہ اپے مقاصد بآسانی حاصل کرسکیں.

یادرہے کہ اردن نے ایران اور کویت پر حملہ کرتے وقت صدام کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا تھا جبکہ ایران پر جنگ مسلط کرتے وقت صدام کو اردن، سعودی عرب، مصر، کویت اور دیگر عرب ممالک کا تعاون حاصل تھا.