اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق حزباللہ نے پوپ فرانسیسی کے مجوزہ دورۂ لبنان کے موقع پر ایک خیر مقدمی پیغام جاری کیا، جس میں لبنان کو اس کی تہذیبی و مذہبی تنوع کے باعث اسلام اور مسیحیت کے درمیان رابطے کا مضبوط پل قرار دیا گیا۔
پیغام میں کہا گیا:
“آج دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل انسانی حقوق کی پاسداری کے فقدان کا نتیجہ ہے، چاہے وہ مذہب، رنگ، نسل، زبان یا مفادات کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو۔”
حزباللہ نے نشاندہی کی کہ بعض عالمی رہنماؤں، حکومتوں، گروہوں اور اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کے احترام میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جس کے باعث عدل و انصاف کے بجائے ظلم، جبر، لالچ اور طاقت کے بے جا استعمال کو فروغ ملا ہے۔
پیغام میں گزشتہ دو برس کے دوران غزہ میں ہونے والی تباہی کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ المیہ صہیونی قبضے کے تسلسل، فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے، جو مسئلے کا پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
حزباللہ نے لبنان کو درپیش اُن مشکلات کی بھی نشاندہی کی جو اس کے بعض علاقوں پر صہیونی قبضے اور مسلسل حملوں کے باعث پیدا ہو رہی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ صہیونی جارحیت کا اصل مقصد لبنان کے آبی وسائل، زرعی زمینوں اور گیس کے ذخائر پر قبضہ اور لبنانی عوام کو دباؤ میں رکھنا ہے۔
پیغام کے اختتام پر حزباللہ نے اس بات پر زور دیا کہ پوپ کا دورۂ لبنان اس امر کا موقع فراہم کرتا ہے کہ لبنان میں باہمی بقائے باہمی، قومی مفاہمت، جمہوری ہم آہنگی، اندرونی سلامتی اور استحکام کے عزم کی تجدید کی جائے۔ ساتھ ہی اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ اور ہر قسم کی جارحیت یا قبضے کے مقابلے میں مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
حزباللہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ لبنان کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے، جو قومی فیصلوں پر قبضے اور ریاستی خودمختاری کو کمزور کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ