18 مارچ 2010 - 20:30

پاکستان کے شہر کراچی میں دس محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں خود کش حملے اور اس کے بعد فائرنگ میں ایم اے حناح روڑ پر دکانوں میں لگائی جانے والی آگ پر چالیس سے زائد گھنٹے گزر جانے کے باوجود قابو نہیں پایا جاسکاہے۔

مرکزی جلوس میں دھماکے کے فوری بعد ادوایات ،گھڑیوں، پرفیومز،پلاسٹک ،اسلحہ ،اسٹیشنری اور کپڑوں کی دکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔آ گ پر قابو پانے کیلئے شہر بھر کے فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور فائر مین ریسکیو کاروائیوں میں مصروف ہیں تاہم آگ ہے کہ بھجنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔آتشزدگی کے نتیجے میں اب تک تین مارکیٹں مکمل طور پر منہدم ہوچکی ہیں۔لگ بھگ دو دنوں سے بے بسی کے مارے دکاندار سڑک کنارے اپنی زندگی بھر کی کمائی کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔بولٹن مارکیٹ،کوئٹہ مارکیٹ، پلاسٹک مارکیٹ ،میڈیسن مارکیٹ اور اطراف کی دیگر مارکیٹوں میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کیلئے شہر بھر کی فائرٹینڈرز ،اسنارکلز اور فائر مین کوششیں کررہے ہیں تاہم اب بھی مختلف مقامات پر آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔آتشزدگی کے نتیجے میں گزشتہ شب دو مارکیٹیں بھی منہدم ہوئی ہیں۔ریسکیو کی کاروائیوں کے سبب ایم اے جناح روڈ کو جامع کلاتھ سے ٹاور تک پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت کیلئے بند کردیاگیاہے۔فائر بریگیڈ ذرائع کے مطابق آگ پر قابو پانے کیلئے آج بھی دن بھر کام جاری رہے گا۔ خودکش حملہ میں اس دور کے يزیدی وہابی طالبان ملوث ہیں جو اپنے امریکی آقا کی خوشنودی کے لئے عام اجتماعات اور مسلمانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔