18 مارچ 2010 - 20:30

اثنا عشریہ اور زیدیہ مکاتب کے متون متون میں زیدیہ کو اہل تشیع کا ایک شعبہ قرار دیا گیا ہے چنانچہ زیدیوں کو شیعہ کہنا درست اور صحیح ہے جیسا کہ لفظ "شیعہ" کا اطلاق اسماعیلیہ پر بھی درست ہے۔ لیکن اگر شیعہ کی تعریف کرتے وقت ہم شیعہ اثناعشریہ کی تعریف تک محدود رکھیں تو شیعہ کے مصداق کے حوالے سے اثناعشریہ ـ زیدیہ اور اسماعیلیہ کے درمیان کافی فرق ہے۔

سوال: زیدی اور اثنا عشری مکاتب کے اشتراکات کونسے ہیں؟

زارعی: اثنا عشریہ اور زیدیہ مکاتب کے متون متون میں زیدیہ کو اہل تشیع کا ایک شعبہ قرار دیا گیا ہے چنانچہ زیدیوں کو شیعہ کہنا درست اور صحیح ہے جیسا کہ لفظ "شیعہ" کا اطلاق اسماعیلیہ پر بھی درست ہے۔ لیکن اگر شیعہ کی تعریف کرتے وقت ہم شیعہ اثناعشریہ کی تعریف تک محدود رکھیں تو شیعہ کے مصداق کے حوالے سے اثناعشریہ ـ زیدیہ اور اسماعیلیہ کے درمیان کافی فرق ہے۔ اسماعیلی فقہی اور شرعی احکام کے لحاظ سے اثناعشریہ سے قریب تر ہیں جبکہ اصول دین کے حوالے سے زیدیہ ہمارے نزدیک ہیں۔ فروع دین میں زیدیہ کے ہاں خمس کا تصور نہیں ہے اور نماز میں بھی زمین اور مٹی پر سجدے کے سلسلے میں وہ اہل سنت سے قریب تر ہیں۔

تا ہم اعتقادی اصولوں کے حوالے سے امامیہ اور زیدیہ کے درمیان قربتیں موجود ہیں۔ مثلا مہدویت اور آخرالزمان کے نجات دہندہ کے حوالے سے امامیہ اور زیدیہ کے اعتقادات یکسان ہیں اور دونوں یکسان طور پر امام زمانہ عجّلَ اللہُ تعالی فَرَجَہُ الشَّریف کا انتظار کررہے ہیں اور زیدیوں کا عقیدہ یہی ہے کہ آخر الزمان کے نجات دہندہ اہل بیت ہی میں سے ہیں۔

ہمارے اور زیدیوں کے درمیان دوسرا اہم اشتراک دینی حکومت کی تشکیل کا عقیدہ ہے اور وہ بھی امامیہ کی طرح عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاشرے کے لئے ایک باصلاحیت اور نیک و صالح حکومت قائم کرنی چاہئے۔ حقیقی زیدی اسی تفکر کی بنیاد پر آیت اللہ العظمی امام خمینی (رح)، آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای، آیت اللہ العظمی سیستانی اور سید حسن نصر اللہ کی حمایت کررہے ہیں۔ زیدیوں کا پرچم اور اس پرچم پر ثبت ہونے والے نعرے بھی امامیہ اور ان کے درمیان موجودہ اشتراکات میں سے ہیں۔

اگر ہم حوثی تحریک کے بانی رہنما شہید سید بدرالدین الحوثی الطباطبائی کی تقاریر اور دروس کی طرف توجہ کریں تو دیکھ لیں گے کہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب کی مانند امریکہ اور صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد اور یوم القدس منانے کے زبردست حامی تھے۔ حوثی سلسلے کے موجودہ قائد کا عقیدہ بھی یہی ہے۔

ممکن ہے کہ کوئی سیاسی ادبیات میں غلط فہمی سے دوچار ہوکر زیدیوں کو تشیع سے خارج قرار دے جبکہ بعض دیگر کا خیال ہے کہ سید حسین اور سید عبدالملک زیدیہ سے اثنا عشریہ کی طرف مائل ہیں مگر یہ میری اطلاعات کے مطابق درست نہیں ہے۔ بعض دیگر حوثیوں کو ایک سیاسی فرقہ قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ نہ تو شیعہ ہیں اور نہ ہی زیدی ہیں بلکہ ان کا اصل ہدف حصول اقتدار ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی بھی بیرونی قوت کے ساتھ مل کر اندر کی تبدیلیوں کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہوجاتے اور انہیں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعری لگانے کی ضرورت نہ ہوتی۔

*امتیازی سلوک کا خاتمہ اور مذہبی آزادی کا حصول

زیدی مجموعی طور پر امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور بعد کے مرحلے میں عالم تشیع کا حصہ ہیں اور جب بھی کسی مسلمان اور شیعہ کا کوئی منطقی مطالبہ ہو اس کی معاونت کرنی چاہئے اور اگر کسی گروہ کے نظریات میں کوئی انحراف ظاہر ہو تو اس کے ظاہری تشخص سے قطع نظر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی گروہ یا جماعت کی حقانیت کا معیار اس کے مطالبات ہوتے ہیں اور یمن کے حوثیوں کے دو کلیدی مطالبات ہیں اور حکومت کا رویہ ان مطالبات کے سلسلے میں بالکل منفی ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ کہ صوبہ صعدہ سے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہے۔ صعدہ قدرتی وسائل کی کثرت کے باوجود نہایت کسمپرسی کے حالات سے گذر رہا ہے اور یہ صوبہ یمن کا محروم ترین صوبہ ہے۔

ان کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں مذہبی آزادی دی جائے؛ انہیں مسجدوں کی تعمیر اور دینی و مذہبی سرگرمیوں کی آزادی دی جائے کیونکہ عرصۂ دراز سے حکومت نے زیدی اہل تشیع سے ہر قسم کی آزادی سلب کرلی ہے اور شیعہ علاقوں میں مصر کے علماء کو تبلیغ اور دینی امور میں عوام کی راہنمائی پر مأمور کررکھا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کے لحاظ سے یمنی حکومت کے اس اقدام کی مثال دنیا میں کسی بھی ملک اور کسی بھی علاقے میں بھی نہیں پائی جاتی۔ حکومت یمن نے شیعیان یمن پر سانس لینے کی فضا تک بند کررکھی ہے۔

بے شک کسی بھی ملک میں رہنے والے عوام کی طرف سے امتیازی سلوک کے خاتمے اور مذہبی آزادی کی عطائیگی جیسے مطالبات قابل احترام مطالبات ہوتے ہیں اور ان مطالبات میں علیحدگی پسندی یا مرکزی حکومت کا تختہ الٹنے کے عزم کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا۔ چنانچہ اگر دنیا کے مختلف ممالک کی حکومتیں اور اقوام بھی شیعہ مجاہدین کے ان دو مطالبات کی حمایت کریں تو یہ غیر متوقعہ نہیں ہوگا۔

* ایران کی مداخلت کا دعوی یمنی حکومت کے پرتشدد اقدامات کا جواز

سوال: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یمنی حکومت ایران کو سعودی عرب کے فوجی/سیاسی کھیل میں ملوث کرنے کی نیت سے ارادی طور پر ایران پر اپنا دباؤ بڑھا رہی ہے؛ یہ خیال کہاں تک درست ہے؟

زارعی: صعدہ میں زیدیوں کے خلاف حکومت کی پالیسی، جانی پہچانی پالیسی ہے۔ یہ ایک عام سی بات ہے کہ جب کوئی حکومت اپنے کسی اندرونی مسئلے کے حل سے عاجز ہوجاتی ہے تو وہ اندرونی مسائل کو بیرونی قوتوں سے منسوب کرکے اس اندرونی مسئلے کے خلاف طاقت اور تشدد استعمال کرنے کے لئے راستہ ہموار کرتی ہے اور دوسری طرف اس مسئلے اور اپنے مخالف محاذ کے مقابلے میں حکمرانوں کی ناکامیوں کو چھپایا جاتا ہے۔ یہ پالیسی عالمی سطح پر ـ بالخصوص مشرق وسطی کے علاقے میں ـ ایک جانی پہچانی پالیسی ہے۔

جب سے علی عبداللہ صالح آمریت نے جب سے اس حقیقت کا ادراک کرلیا ہے کہ حوثیوں کی تحریک کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اسی راستے سے ہتانا ممکن نہیں ہے؛ اسی وقت سے اس نے ایران اور لیبیا پر ان کی مدد کا الزام لگانا شروع کررکھا ہے؛ لیکن یمن کی جغرافیایی صورت حال کچھ ایسی ہے کہ جو ایران سے بہت دور ہے اور وہاں تک ایرانیوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ یمن ایک طرف سے سعودی عرب اور عمان کے درمیان محصور ہے اور یہ دو ملک ایران کو یمن میں داخلے اور نفوذ کرنے کی اجازت ہی نہیں دے سکتے اور دوسری طرف سے یہ ملک جنوب میں بحر احمر اور بحیرہ عرب اور بحر ہند سے متصل ہے اور عالمی طاقتیں یمن کی دریائی حدود میں بڑی تعداد میں موجود ہیں جنہوں نے مختلف حوالوں سے یمن کا محاصرہ کررکھا ہے اور پھر اس زمینی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ صوبۂ صعدہ کا کوئی ساحل نہیں ہے اور یہ علاقہ سمندر سے متصل ہی نہیں ہے بلکہ اس کی بیرونی سرحد صرف سعودی عرب سے ملتی ہے چنانچہ امر مسلم ہے کہ ایران کی طرف سے صعدہ کے لئے رسد پہنچانا اصولی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ اور ہاں ایران کبھی کوئی امداد بھی بھیجتا ہے تو وہ ہلال احمر کے ذریعے بھیجی جاتی ہے اور اس میں یمنی حکومت کی مرضی شامل ہوتی ہے اور یہ فوجی امداد نہیں ہوتی بلکہ انسانی بنیادوں پر بھیجی جاتی ہے۔ ایران کے امداد رسان اداروں کا ابھی تک حوثی مجاہدین سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہؤا ہے چنانچہ ایران پر مداخلت کا الزام سننے اور پڑھنے والوں کی ہنسی اور تفریح کا باعث ہی ہوسکتا ہے۔ یمنی حکام صرف شیعہ علاقوں کے خلاف زیادہ پر تشدد اقدامات کا جواز ڈھونڈنے کے لئے ایران پر مداخلت کا الزام لگاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی مداخلت کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

ایک خاص نکتہ یہ ہے کہ کم آبادی والے ملک یمن پر مسلط آمر کے پاس تین لاکھ 70 ہزار نفری پر مشتمل فوج ہے اور اس کے فضائی اور زمینی وسائل بھی بہت وسیع ہیں مگر وہ صعدہ اور نواح میں حوثیوں کی تحریک پر قابو نہیں پا سکا ہے اور پھر چھٹی جنگ میں اس نے سعودی عرب اور امریکہ جیسی قوتوں کو بھی جارحیت کی دعوت دی ہے اور عبداللہ صالح نے حوثیوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر بیرونی قوتوں کو بھی مداخلت پر آمادہ کیا ہے۔

یمنی حکو