وزیر داخلہ رحمان ملک نے ڈی ایس پی ٹریفک فدا ستی اور انسپکٹر آصف کو فوری معطل کرنے اور چیف جسٹس موٹر کیڈ کے ڈرائیور سمیت 4 اہلکاروں کی معطلی اور گرفتاری کا حکم بھی دیا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سکیورٹی مزید بڑھانے کیلئے رینجرز کے اضافی نفری تعینات کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی سکیورٹی پر مامور افراد کی کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی.
16 فروری 2010 - 20:30
News ID: 174232
وفاقی وزارت داخلہ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے موٹر کیڈ کو پیش آنے والے حادثہ کے ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے ایک ڈی ایس پی اور انسپکٹر کو معطل کر دیا ہے ۔