مترجم: ف.ح.مهدوی
غیر جانبدار دنیا میں البتہ یمن کی صحیح اطلاع رسانی کا فقدان ہے اور ابھی تک کہیں بھی کوئی صدا سننے میں نہیں آئی ہے البتہ ایران اور ترکی کے عوام نے مظاہرے کئے اور ایرانی طلباء تین دن تک دھرنا دیا مگر شعیان یمن کا حق اس سے کہیں زیادہ ہے جو ادا نہیں ہورہا اور یہی وہ مظلومیت ہے جو تاریخ میں شیعیان علی علیہ السلام کا مقدر ہے اور انصاف پسند دنیا کی خاموشی اس مظلومیت میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
یمن میں سادات بنی فاطمہ (ع) کا قتل عام ہورہا ہے؛ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ استکبار اور استعمار کے سنجیدہ دشمن ہیں گویا وہ اپنے عقائد کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ عالمی استکبار اور اس کے بے قدر و قیمت چیلے ـ جو اسرائیل، امریکہ اور یورپ کے بیک وقت غلام ہیں ـ متحد ہوکر ان کے خلاف غیر منصانہ جنگ لڑرہے ہیں۔ میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تا کہ خاموشی کے تالے ٹوٹ جائیں اور اگر کسی کو ان کے عقائد کے بارے میں شک وشبہات ہوں تو ان کو رفع کیا جاسکے۔ زیدی ایک گالی نہیں ہے، ہم مسلمانوں کے اتحاد کے حامی ہیں اور جو بھی قبلہ رخ ہوکر نماز پڑھے وہ مسلمان ہے اور ہمیں استکبار کے مقابلے میں اس کی حمایت کرنی ہے اور زیدی بھی کم از کم اس حد تک تو تمام مسلمانوں کی مدد و حمایت کے مستحق ہیں اور پھر زیدیہ ایک شیعہ مکتب ہے جو اصول اور فروع دین میں دیگر مسلمانوں کی مانند ہیں؛ نماز ادا کرتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، حج و زکاة و خمس سمیت تمام دینی احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور کلمہ توحید و رسالت پڑھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ مجاہد بھی ہیں اور ان کا مکتب خمینی کبیر کا مکتب ہے جس میں استعمار کی حکمرانی کی کلی طور پر نفی ہوئی ہے۔ زیدی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔آپ بھی کہیں گے کہ بے سند قلم فرسائی سے حقائق کی حقانیت ثابت نہیں ہوتی چنانچہ ہم نے یہ مضمون لکھنے سے قبل یمن کے مسائل کے تین ماہرین سے انٹرویوز لئے اور ان انٹرویوز سے حاصل ہونی والی اطلاعات کو مضمون کی شکل دے دی۔ یہ حضرات یمن کی سماجی اور سیاسی حالات پر نظر رکھتے ہیں:٭ جناب حجت الاسلام غریب رضا٭ جناب سید علی موسوی نژاد٭ جناب محمود پیر بداغی یمن جزیرہ نمائے عرب کے انتہائی جنوب میں واقع ایک سبز و خرم خطہ ہے؛ یہاں کی آبادی کے 40 فیصد زیدی 5 فیصد جعفری اثنا عشری اور اسماعیلی، 54 فیصد شافعی، حنبلی اور مالکی ہیں اور ان مین بعض سلفی فکر کے پیروکار بھی پائے جاتے ہیں اور ایک فیصد آبادی غیر مسلموں کی ہے جن مین اکثریت ہندؤوں کی ہے۔ شیعیان یمن کی مانند اہل سنت کے پیروکار بھی اہل بیت اطہار (ع) سے گہری محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ ان سب کے مذہبی مراسمات اثناعشری اہل تشیع کے اعمال و مراسمات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جس طرح کہ وہابیت نے دیگر ممالک میں مسلمانوں کے بھائی چارے کا ماحول تباہ و برباد کیا ہے؛ یمن میں بھی آمر کی حمایت سے وہابیت کافی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور وہ مذاہب کے اشتراکات کو وہابی عقائد کے زیر اثر لارہی ہے۔ لیکنلیکن وہابی اثر و رسوخ کے باوجود یمن کے تمام مسلمان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے تبلیغ اسلام کے لئے علی علیہ السلام اور دیگر صحابیوں کو یمن روانہ کیا تھا۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ امر یہ ہے کہ یمن کے دو کروڑ آبادی میں پچاس لاکھ آبادی سادات کی ہے۔ سادات میں 90 فیصد حسینی سادات اور 10 فیصد حسنی سادات ہیں۔ زیدیوں کے دو اہم گروہ "جارودیہ" اور غیرجارودیہ ہیں۔ جارودی زیدی قیام و انقلاب کا عقیدہ رکھتے ہیں اور عقائد و اعمال کے لحاظ سے اہل تشیع سے قریب تر ہیں۔ یہ لوگ اہل بیت (ع) سے شدید تعلق و محبت رکھتے ہیں اور یمن کے مسائل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر جارودی زیدی ـ جو اہل حدیث ہیں ـ متشیع سمجھے جاتے ہیں یعنی یہ کہ یہ لوگ زیدی ہیں اور تشیع کو قبول کرتے ہیں اور اسی لحاظ سے حنفی سنیوں کے امام ابوحنیفہ بھی متشیع اور زیدی سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ بھی زید بن علی (ع) کے قیام کے ہمراہ تھے گو کہ ان کے عقائد شیعہ عقائد سے مختلف تھے۔ یہ لوگ تاریخ کے تمام مراحل میں تھے اور ہیں مگر زیدیوں میں ان کی تعداد بہت کم ہے اور وہ اقلیت سمجھے جاتے ہیں اور صرف تاریخ کے بعض مراحل میں ان کا وجود مؤثر رہا ہے جبکہ باقی قرون و اعصار میں ان کے حوالے سے کوئی خبر منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ آج بھی ان ہی لوگوں پر وہابیت کے گہرے نقوش ہیں اور یہ لوگ حکومت اور سعودی عرب کے وہابیوں کے ساتھ مل کر اہل تشیع کے جارودی زیدی مکتب کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں گو کہ اب بھی زیدی کہلاتے ہیں. جارودی رسول اللہ (ص) کے بعد علی علیہ السلام کی بلافصل جانشینی پر ایمان رکھتے ہیں؛ وہ امامت کے لئے چودہ شرائط کے قائل ہیں اور یہ شرائط اثنی عشری مکتب کے ہاں ولی فقیہ کی شرائط سے ملتی جلتی ہیں صرف ایک شرط مختلف ہے اور وہ یہ ہے امام کو "اولاد زہراء سلام اللہ علیہا" سے ہونا چاہئے۔ وہ صرف پنجتن آل عبا علیہم السلام کے لئے عصمت کے قائل ہیں۔ ان کے حوزات علمیہ میں امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کی روایات و احادیث سے بکثرت استفادہ کیا جاتا ہے۔ وہان قرآن، نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ سمیت امام خمینی کی تصنیف "چہل حدیث" بھی پڑھائی جاتی ہے۔ وہ عید غدیر اور عاشورا کو پرشکوہ انداز میں مناتے ہیں۔یمنی عوام ـ خاص طور پر شیعیان زیدی ـ آخرالزمان کے نجات دہندہ حضرت مہدی (عج) پر راسخ عقیدہ رکھتے ہیں اور شیخ علی الکورانی کی کتاب "عصر ظہور" گذشتہ پانچ برسوں میں مقبول ترین کتاب تھی جو یمن کے ثقافتی شعبے پر حاوی رہی ہے۔ اس وقت فارسی میں زیدی عقائد کے بارے میں معتبر ترین منبع و مأخذ "درسنامۂ تاریخ و عقائد زیدیہ" ہے جو مہدی فرمانیان اور سید علی موسوی نژاد نے تالیف کی ہے اور ادیان پبلیکیشنز سے شائع ہوئی ہے۔ زیدیہ کے معاصر علماء میں علامہ مجدالدین المؤیدی کا نام لیا جاسکتا ہے جن کی عمر 100 سال سے زاید ہے اور اور بقید حیات ہیں۔ وہ جارودی زیدیوں کے موجودہ رہنما ہیں؛ صعدہ میں رہائش پذیر ہیں اور متعدد کتابوں کے مؤلف ہیں۔ صعدہ جارودی زیدیوں کا مرکز ہے۔اس علاقے میں رہنے والے ایک عالم دین سید بدرالدین طباطبائی الحوثی ہیں جو نامور علماء میں سے ہیں اور متعدد کتابوں کے مؤلف ہیں۔ حوثی جہادی تفکر کے سابق راہنما سید حسین الحوثی الطباطبائی ان ہی کے فرزند تھے اور اس تفکر کے موجودہ راہنما سید عبدالملک بدرالدین الطباطبائی الحوثی بھی ان ہی کے فرزند ہیں۔ علامہ بدرالدین پورے یمن میں نامی گرامی ہیں۔ انھوں نے اپنے فرزند کی شہادت کے بعد چوتھی جنگ میں اہل تشیع کی قیادت کی تھی۔ان کی دوکتابیں بہت مشہور ہیں: 1ـ من ھم الرافضۃ؟ (یعنی رافضی کون ہیں؟) انھوں نے اس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ شیعیان امامیہ اور امام صادق علیہ السلام کے پیروکار رافضی نہیں ہیں بلکہ رافضی دراصل بنو امیہ اور دشمنان اہل بیت (ع) ہیں۔ 2۔ "آل محمد لیس کالامة" علامہ نے اس کتاب میں آل محمد (ص) اور سادات کو ممتاز و برتر قرار دیا ہے۔ 90 کی دہائی میں یمن خانہ جنگیوں کا شکار ہوا تو وہ اپنے شہید فرزند سید حسین کے ہمراہ ہجرت کرکے ایران آئے اور ان کی زندگی بہت سادہ اور زاہدانہ تھی۔ 12 سال تک شمالی یمن پر حکومت کرنے والا جنرل علی عبداللہ صالح 19 سال سے متحدہ یمن کا صدر ہے۔ اس نے اب تک مجموعی طور پر 31 سال حکومت کی ہے اور زیدی خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود وہ بظاہر سیکولر ہے اور وہ بنیادی طور پر اسلام دشمن ہے اور چونکہ یمن میں مزاحم قوت اہل تشیع پر مشتمل ہے چنانچہ وہ تشیع کی دشمنی میں کسی بھی قوت کے ہاتھ میں ہاتھ دے سکتا ہے۔ جنرل صالح بغداد کے ملٹری کالج کا فارغ التحصیل ہے چنانچہ عراق کے بعثی عناصر خاص طور پر معدوم آمر صدام کے ساتھ اس کے خصوصی تعلقات تھے۔ اور وہ خود یمن میں صدام صغیر کے نام سے مشہور ہے۔ نام نہاد خادمین حرمین شریفین کو "دیگر اعزازات" کے علاوہ یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ بے دین اور سیکولر یمنی بعثی ڈکٹیٹر 31 سال قبل ان ہی کی حمایت سے یمن کے اقتدار پر قابض ہوا تھا اور اس طویل مدت میں اسے مسلسل سعودی حمایت حاصل رہی ہے اور اس حمایت کے بدلے اس نے زیدیوں کو تمام کلیدی مناصب سے محروم کرکے یمن میں وہابیت کی ترویج کا راستہ ہموار کیا ہوا ہے اور اس ملک میں تکفیری وہابیوں کو تبلیغ و ترویج عقائد کے سلسلے میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ یوں یمنی آمر نے یمن کو وہابیت اور سلفیت کی خلوتگاہ میں تبدیل کردیا ہے۔ زیدیوں کے مدارس اور جامعات بھی وہابیت کے فروغ کے بعد متأثر ہوئی ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو صالح آمریت نے محدود کر رکھا ہے۔ صالح آمریت اور وہابیت کے نفوذ کی وجہ سے زیدی ائمہ کو بھی بھلادیا گیا ہے اور ان کی کاوشوں کی اشاعت یا تو منع ہے یا پھر بہت محدود ہے جبکہ وہابیت کی کتب پورے یمن میں بلا روک ٹوک تقسیم کی جاتی ہیں۔صعدہ جارودیہ زیدیوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ فوجی اور سیاسی لحاظ سے بھی نہایت اہم صوبہ ہے مگر اس صوبے کو کلی طور پر الگ تھلگ کیا گیا؛ یہ مذہبی امتیازی سلوک شدید مذہبی اور سیاسی خلا کا موجب بن گیا۔ فطری امر ہے کہ جب مذہبی اور سیاسی خلاء رونما ہوجاتا ہے تو یہ معاشرے میں گہری تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنتا ہے ایک ایسی تبدیلی جو یمن کی معاصر تاریخ کا چہرہ تبدیل کرلے۔اسی صورت حال میں "شباب المؤمن" نامی تنظیم تشکیل پائی جس کی قیادت علامہ سید بدرالدین الحوثی کے ہاتھ میں تھی اور ان کے فرزند اور بعض دوست اور مریدین اور شاگرد اس تنظیم میں شامل ہوئے۔شباب مؤمن نے تشکیل ہوتے ہیں صعدہ میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور پھر اس کی یہ سرگرمیاں پورے یمن تک پھیل گئیں۔ تھوڑا عرصہ بعد علامہ کے بیٹے سید حسین بدرالدین نے شباب المؤمن کی قیادت سنبھالی۔شہید حسین بدرالدین نہابت با نفوذ اور اثر و رسوخ کے مالک عالم دین تھے۔ قرآنی تعلیمات ان کے افکار پر حاوی تھیں اور جب کہیں تقریر کے لئے اٹھتے تو ان کا پورا خطاب قرآنی مفاہیم کا مجموعہ ہوتا۔ شعلہ بیان مقرر تھے اور نہایت جاذب قلب و احساس اور انقلابی تقاریر کے لئے مشہور تھے۔ ان کی تقریریں علمی اور افکار کو منور کردینے والی تھیں اور وہ اپنی مصلحانہ کوششوں کے ذریعے زیدیوں کے رخوت زدہ معاشرے کو قرآنی تعلیمات و مفاہیم کی طرف لوٹا کر زندہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ انھوں نے بچوں اور نوجوانوں پر کام کیا اور ان میں بیداری کی روح پھونک دی اور ان کی اصلاحی تحریک ذیل کے اصولوں پر استوار تھی:1. سب کو شیعہ بن کر دکھانا اور اپنی انفرادی ا