15 جون 2009 - 19:30

باردو سے بھر ے دو ٹریلرواہ کینٹ سے روانہ ہوکر صوبہ سرحد اور پنجاب کی کئی چیک پوسٹیں کراس کرتے ہوئے ڈی جی خان پہنچ گئے جہاں انہیں تحویل میں لے لیا گیا۔

بارود بنانے والی کمپنی BIAFO کی جانب سے ساٹھ ہزار کلوگرام بارود بظاہر سیندک پروجیکٹ میں جاری تعمیراتی کام کے سلسلے میں بھیجا جارہا تھا لیکن ٹریلر ڈرائیور اور کلینر کے سوا نہ تو کمپنی کا کوئی ملازم تھا اور نہ ہی کوئی لیٹر موجود تھا۔ کھلے عام بارود بھیجنے والی کمپنی نے مقامی انتظامیہ اور پولیس کوبھی کوئی اطلاع نہیں دی جس کی وجہ سے ڈی جی خان پولیس نے ٹریلرز تحویل میں لے کر ڈرایئورز کو گرفتارکرلیا ، ذرائع کے مطابق بارود سے بھرے ٹریلرز پکڑے جانے کے بعد متعلقہ کمپنی کو سیل کر دیا گیا ہے، اس سے پہلے قلعہ سیف اللہ میں اسی کمپنی کی جانب سے بھیجا گیا بارود پکڑے جانے کے بعد حساس ادارے کی نشاندہی پر اس کمپنی کا اجازت نامہ منسوخ کردیاتھا لیکن چند دن بعدوزارت داخلہ نے دوبارہ اس کے اجازت نامہ کی تجدید کردی ، ذرائع کے مطابق یہ بارود کسی دہشت گردکے ہاتھ لگنے سے بڑی تباہی کا باعث بن سکتاتھا ۔