یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی ترجمان مشل مونتاس نے میڈیا کو بتائی۔ سیکرٹری جنرل کی ترجمان نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد کے رابطہ کار کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی وزیرستان سے گذشتہ تین ہفتوں کی لڑ ائی کے دوران اندرونی نقل مکانی سے چار لاکھ افراد متاثر ہوکر دو پڑ وسی اضلاع میں پناہ کیلیے پہنچے ہیں جن میں سے کم از کم تین لاکھ افراد کو ابتک رجسٹر کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زیادہ تر غریب لوگ ہیں جنہیں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے ۔ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری جنرل بانکی مون کی ترجمان نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی کی انتہاء مخدوش صورتحال کے باوجود امدادی کارکن اپنے گھروں سے دور ہزاروں لوگوں کے آرم کیلیے دن رات ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔ترجمان نے مزیدبتایا کہ گذشتہ نو نومبر سے اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کی شراکت دار تنظیموں نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نو ہزار خیمے تقسیم کیے ہیں۔ ترجمان کاکہنا تھا کہ یہ خیمے زیادہ تر میزبان خاندانوں کے باغات میں نصب کیے گئے ہیں تاکہ میزبان خاندانوں پر سے بوجھ ہلکا ہو سکے ۔سیکرٹری جنرل بانکی مون کی ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور ان کی ساجھے دار مقامی تنظیموں نے اندرونی نقل مکانی سے متاثرہ افراد کو ان کی رجسٹریشن میں مدد، خوراک کا ہفتہ وار راشن، صفائی کا سامان اور بچوں کو بیماری سے بچاؤ کے ٹیکے فراہم کرنے کے علاوہ علاقے میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی بہتر بنایا ہے ۔جب اقوام متحدہ کی ترجمان سے جنوبی وزیرستان سے ابتک اندرونی نقل مکانی سے متاثرہ افراد کی کل تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا یہ واضح ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے میزبان خاندانوں کے پاس رہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ، لیکن پاکستان کی مالاکنڈ ڈویڑ ن سے نقل مکانی کرنے والے ستائیس لاکھ افراد اپنے رشتہ داروں و احباب یا میزبان خاندانوں کیساتھ رہ رہے تھے
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 172683
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑ ائی کے نتیجے میں گذشتہ وسط اکتوبر سے ابتک چار لاکھ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔