اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کی جمعیت اساتذہ (جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم) کے رکن حجت الاسلام والمسلمین محمود عبدالہی نے رسا نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے شیعیان یمن کے قتل عام پر عالمی تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں درحقیقت استعماری طاقتوں کی لونڈیاں ہیں۔
انھوں نے یمنی اور سعودی افواج کے ہاتھوں نہتے شہریوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کے قتل عام اور عالمی تنظیموں اور نام نہاد انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں صرف اسی وقت بول پڑتی ہیں جب حالات سامراجیوں کے مزاج کے مطابق ہوں اور جب بولتی ہیں تو بظاہرمعلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیمیں مکمل طور پر غیر وابستہ اور مستقل ہیں!
انھوں نے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسرائیل کی حمایت، لبنان میں مغرب کے منشا کے مطابق سرگرمیوں، مصر اور فلسطین میں اسرائیل اور امریکی خوشنودی کو مطمع نظر رکھنے کے حوالے سے سعودی موقف بالکل واضح ہے اور یمن کے قضیئے میں بھی جب سعودیوں نے محسوس کیا کہ شیعہ مجاہدین فتحیاب ہورہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو سعودی عرب میں بھی گھٹنے پر مجبور کرنے والی صدائیں اٹھ سراٹھا سکتی ہیں چنانچہ وہ خوف و ہراس کے عالم میں جنگ میں کودپڑا؛ ایسی جنگ جس سے نکلنے کا راستہ سعودیوں کو ہرگز معلوم نہیں ہے.
یادرہے کہ سعودی عرب کی مداخلت نے سعودی حکمرانوں کے مخدوش چہرے کو مزید خدشات سے دوچار کردیا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ یمنی مجاہدیں کے خلاف کیل کانٹے سے لیس سعودی افواج میں شکست کے آثار نمودار ہوئے ہیں چنانچہ حج کے ایام کے بعد حکمرانوں کو سنجیدہ عوامی اعتراضات و احتجاجات کا سامنا کرنے کا بھی خدشہ ہے اور اگر ایام حج میں ہی سعودی افواج یمن کی جنگ سے باہر نہ نکلیں تو بعد میں اس جنگ سے نکلنا سعودیوں کے لئے ایک خواب میں تبدیل ہوجائے گا کیونکہ اس دلدل میں داخلہ آسان ہے مگر نکلنا۔۔۔