28 اگست 2026 - 15:58
ایران کے خلاف جنگ کا اثر امریکی فوجیوں کی تنخواہوں کے بجٹ تک پہنچ گیا

ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات نے امریکی بحریہ پر مالی دباؤ اتنا بڑھا دیا ہے کہ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے فوجیوں کی تنخواہوں کے لیے مختص بجٹ کا ایک حصہ بھی دوسری مد میں منتقل کرنا پڑا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے امریکی فوج کو سنگین مالی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ امریکی بحریہ جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فوجیوں کی تنخواہوں اور دیگر شعبوں کے لیے مختص بجٹ سے رقم استعمال کرنے پر مجبور ہوگئی ہے، جس کے باعث امریکی دفاعی بجٹ پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

گارڈین نے حاصل شدہ دستاویزات اور امریکی بحریہ کے حکام، دفاعی ٹھیکیداروں اور عسکری تجزیہ کاروں سے گفتگو کی بنیاد پر بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے امریکی اسلحہ ذخائر کو تیزی سے کم کردیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات پر امریکی اہم فوجی اڈوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے امریکی فوجی بجٹ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

گارڈین کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے بحریہ کے مالی انتظام سے متعلق تیار کردہ ایک یادداشت میں بتایا گیا ہے کہ فوجیوں کی تنخواہوں کے لیے مختص بجٹ میں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ اس رقم کا ایک حصہ ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر اور امریکی بحریہ کے مستقبل سے متعلق قومی کمیشن کے رکن ہارلان اولمان نے گارڈین کو بتایا کہ دستیاب مالی وسائل تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ امریکی بحریہ کے ایک عہدیدار اور ایک دفاعی ٹھیکیدار نے بھی بتایا کہ مالی بحران کے باعث زمینی فوجی تنصیبات میں بعض فوری نوعیت کے نہ ہونے والے مرمتی اور دیکھ بھال کے کام مؤخر کردیے گئے ہیں۔

جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے تنخواہوں کا بجٹ منتقل

ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد امریکی فوج پر مالی دباؤ تیزی سے بڑھ گیا، خاص طور پر امریکی بحریہ پر، جو جنگ کے ابتدائی حملوں میں شریک تھی اور بعد میں بڑے پیمانے پر بحری ناکہ بندی سے متعلق ذمہ داریاں بھی سنبھالنے لگی۔

گارڈین نے امریکی بحریہ کے ایک ایسے عہدیدار کے حوالے سے بتایا جو بجٹ کی کمی سے نمٹنے کے منصوبوں سے آگاہ تھا کہ مختلف طریقوں سے بجٹ کی ایک مد سے دوسری مد میں رقم منتقل کی جارہی ہے۔ عہدیدار کے مطابق، فوجیوں کی تنخواہوں کے لیے مختص رقم کا ایک حصہ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، بعد ازاں دیگر شعبوں میں خرچ نہ ہونے والی رقم سے اس کمی کو پورا کیا گیا تاکہ فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی بلا تعطل جاری رہے۔

امریکی بحریہ کا 2026 کا بجٹ تقریباً 300 ارب ڈالر ہے، جو امریکی کانگریس کی جانب سے مقرر کردہ مختلف شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں افرادی قوت، جنگی جہازوں کی تعمیر، ہتھیاروں کے نظام کی خریداری، فوجی کارروائیوں اور دیکھ بھال کے اخراجات شامل ہیں۔ تاہم قانون ان شعبوں کے درمیان رقم منتقل کرنے پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔

اس مالی بحران کے آثار امریکی کانگریس کے اجلاسوں میں بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی تخصیصی بجٹ کمیٹی کی سربراہ سوزن کولنز نے 21 جولائی کو ایک اجلاس میں کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ امریکی مسلح افواج کی بعض شاخوں کو قلیل مدتی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ کانگریس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کولنز جن فوجی شاخوں کا حوالہ دے رہی تھیں، ان میں امریکی بحریہ بھی شامل تھی۔

دوسری جانب امریکی بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ فوجی کارروائیوں اور دیکھ بھال کے لیے مختص رقم ختم نہیں ہوئی۔ امریکی محکمہ بحریہ اپنے وسائل کو فعال انداز میں منظم کررہا ہے تاکہ فوجیوں کو مقررہ وقت پر تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی سال کے دوران فوجی ضروریات پوری کرنے، اہلکاروں کو برقرار رکھنے اور جنگی تیاری برقرار رکھنے کے لیے کانگریس کے ساتھ بھی تعاون جاری ہے۔

مالی بحران؛ جسے منظرعام پر نہیں لایا جارہا

گارڈین کے مطابق، امریکی بحریہ میں نقد رقم کی کمی ایک معروف مسئلہ ہے، تاہم اس بارے میں کھل کر بات نہیں کی جارہی۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ٹوڈ ہیریسن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پینٹاگون کی سول قیادت کے ایک دانستہ فیصلے کا نتیجہ ہے، جس کے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق حکام نہیں چاہتے کہ یہ تاثر پیدا ہو کہ جنگ بتدریج ایک بڑھتے ہوئے سیاسی بوجھ میں تبدیل ہونے کے ساتھ مستقبل کی فوجی تیاری کو بھی متاثر کررہی ہے۔

امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈیرل کڈل نے بھی مئی کے وسط میں کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ مالی دباؤ جولائی سے نمایاں ہونا شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ امریکی بحریہ کے مالی سال 2026 کے بجٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔

کڈل نے کہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ انہیں فوجی قوت کی تشکیل اور تنظیم کے حوالے سے ایسے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں جن سے معمول کی تربیت اور فوجی کارروائیاں متاثر ہوسکتی ہیں، تاکہ جنگ جاری رکھنے کے لیے ضروری مالی وسائل فراہم کیے جاسکیں۔

ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری نہیں

گارڈین نے بجٹ کی فراہمی میں مشکلات کو ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری نہ ہونے سے بھی جوڑا ہے۔

ہارلان اولمان نے موجودہ صورتحال کا موازنہ عراق اور افغانستان کی جنگوں سے کیا، جن کے لیے امریکی کانگریس نے فوجی طاقت استعمال کرنے کی منظوری دی تھی۔ اسی وجہ سے ان جنگوں کے اخراجات کے لیے بجٹ حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکی کانگریس ایسی جنگ کے اخراجات پورے کرنے کی پابند ہے جس کی اس نے منظوری نہیں دی؟

بجٹ بحران کے دوران ٹرمپ کا ’گولڈن فلیٹ‘ منصوبہ

یہ مالی بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ امریکی بحریہ کو مزید وسعت دینے کے لیے بڑے منصوبے پیش کررہے ہیں۔ امریکی حکومت نے ’گولڈن فلیٹ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کلاس کے بڑے جنگی جہاز بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ گارڈین کے مطابق یہ امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے جنگی جہاز ہوں گے۔

گارڈین نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ نے طیارہ بردار بحری جہازوں کے ڈیزائن کی تفصیلات میں بھی مداخلت کی ہے اور امریکی بحریہ کو طیاروں کو فضا میں روانہ کرنے کے لیے برقی مقناطیسی نظام کے بجائے بھاپ اور ہائیڈرولک نظام استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ایسی جنگ کے اخراجات پورے کرنا ہے جس کے خاتمے کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آتی۔ مسلسل جاری فوجی کارروائیوں نے مالی وسائل، ہتھیاروں اور بحری بیڑے پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

امریکی فوج کے ایک سابق افسر، جو اب امریکی بحریہ کے ایک دفاعی ٹھیکیدار ادارے کے لیے کام کرتے ہیں اور بجٹ کی کمی کی صورتحال سے واقف ہیں، نے حالات کو انتہائی سنگین قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ اپنے ہتھیار استعمال کرچکی ہے، اس کے جنگی جہاز مسلسل استعمال سے متاثر ہوچکے ہیں اور اس کے مالی وسائل بھی ختم ہوگئے ہیں۔

گارڈین کے مطابق، یہ صورتحال ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں امریکی بحریہ کو درپیش مالی دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha