بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسٹراٹ نیوز گلوبل (StratNews Global) نے لکھا ہے کہ بھارت نے 1950 میں اسرائیل کو تسلیم کیا۔
فریقین نے سنہ 1992 میں سفارتخانے قائم کرکے سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔
1992 سے ہیروں کی تجارت سے ـ سالانہ 20 کروڑ ڈالر کے تبادلوں ـ سے دو طرفہ لین دین کا آغاز ہؤا۔
اس وقت فریقین کے درمیان لین دین کی سطح 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
ایک ارب پتی ہندوستان جس کا نام آدانی۔ ادانی اینڈ فیملی گروپ نے 1.2 ارب ڈالر دے کر حیفا بندرگاہ کا 30 سالہ ٹھیکہ حاصل کر لیا۔
اگلا بھارتی ارب پتی مشہور مخیر 'عظیم پریم جی' (Azim Premji) نے سنہ 2016 میں اسرائیلی گیوون (Givon) ایرو اسپیس کمپنی کو 250 کارکنوں کے ساتھ، یکجا خرید لیا۔
ٹاٹا گروپ نے بھی اسرائیل کی سرکاری ڈیجیٹل سروسز کے انفراسٹرکچر کی پشت پناہی کرتا ہے۔
یہ رامات گان (Ramat Gan) میں بھارتی بینکوں، ڈائمنڈ ایکسچینج میں ان کی شراکت داریوں، اسٹارٹ اپس میں ان کے بنیادی کردار، آئی ٹی کی منتقلیوں، آب پاشی کی کمپنیوں کے علاوہ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتیوں کو کیا ملتا ہے ان سودے بازیوں سے؟
بریکنگ ڈیفنس لکھتا ہے کہ اب تک بھارتیوں نے 2.9 ارب ڈالر کے میزائل اسرائیل سے خرید لئے ہیں، ڈرون خرید لئے ہیں، اسرائیل سے سیکورٹی سسٹمز لیتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ اسرائیل نے بھارت کے لئے حیدرآباد میں ہرمس 900 ڈرون طیاروں کے کارخانے لگا دیے ہیں۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان یہ عاشقانہ تعلق صرف مادیات تک ہی محدود نہیں ہے۔
مڈل ایسٹ مانیٹر لکھتا ہے: بھارت کی قوم پرست جماعتوں کے حامی لوگ کہتے ہیں کہ "اسرائیل مسلمانوں کے خلاف اقدام کا ایک 'کامیاب نمونہ' ہے"۔
یہاں تک کہ بھارتی سفارت کار سندیپ چکرورتی نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ "ہمیں کشمیر میں ہندو نوآبادیاں تعمیر کرنا پڑیں گی"۔
ان لوگوں نے سوشل میڈيا پر بھی جہاں تک ہو سکا ہے فلسطین کے خلاف کام کیا ہے۔
مورخہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد جب اسرائیل نے فلسطینی مزدوروں کو نکال باہر کیا اور مزدوروں کی شدید قلت آئی تو بھارتی حکومت نے 100000 ہندی مزدور مقبوضہ فلسطین بھجوا دیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ