15 جون 2009 - 19:30

پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں نئے پارلیمان کے لئے ووٹنگ آج ہوئی۔ حکومت نے حال میں اس خطے کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دینے کے لئے سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا۔

گلگت بلتستان کی تئیس نشستوں کے لئے ڈھائی سو سے زائد اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔

خواتین ووٹر ز کی بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے پولنگ اسٹیشنز پہنچیں ۔

پولنگ کا آغاز صبح آٹھ بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام چار بجے تک جاری رہی۔ شدید سردی کے باوجود پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی طویل قطاریں لگی رہیں ۔

وادی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کی رہنمائی کےلیے کیمپ لگا ئے گئے جبکہ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔

ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار ان انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جیت کا امکان ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز، پی ایم ایل قائد اعظم اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی اچھی کارکردگی متوقع ہے۔

یاد رہے گلگت بلتستان کے تاریخ ساز الیکشن میں حصہ لینے کے لئے دس سیاسی جماعتوں کے ننانوے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ جن میں پیپلز پارٹی کے تئیس ، ایم کیو ایم کے بیس ، مسلم لیگ ن کے پندرہ ، مسلم لیگ ق کے چودہ ، گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کے دس ، جے یو آئی (ایف) کے چھ ، بی این ایف کے چار ، اے این پی کے تین اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے دو دو امیدوار شامل ہیں۔

آزاد امیدواروں کی تعداد ایک سو اکسٹھ ہے۔ اسمبلی کے ایک سو ترپن پولنگ اسٹیشنزکو حساس جبکہ ایک سو انیس کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر پانچ ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے۔

شام کو پولنگ کاعمل مکمل ہوگيا اورووٹوں کی گنتي جارہی ہے جبکہ بعض جگہوں سے نتائج کے رجحانات بھی سامنے آنےلگے ہيں ۔ پولنگ کا وقت صبح آٹھ بجے سے شام چاربجے تک مقررکیا گیا تھا مگرحلقوں میں  سوفیصد پولنگ ہونے سے ووٹنگ پہلے ہی مکمل ہوگئی ۔

پاکستان کی موجودہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کوگذشتہ مہینوں کے دوران خودمختاری دینے کا اعلان کیا تھا اوراب پہلی باراس علاقے کا اپنا وزیراعلی ہوگا   

انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران ضلع دیا میر کے حلقہ ایل اے 15 اور ضلع گلگت کے حلقہ ایل اے 2 کے پولنگ سٹیشنوں میں دو گروپوں کے تصادم کے بعد پولنگ روک دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق ایل اے 15 بونر داس کے پولنگ سٹیشن پر ایک گروپ کی جانب سے دوسرے گروپ پر جعلی و وٹ ڈلوانے کے الزام پر کشیدگی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے وہاں پولنگ روک دی گئی ۔ جبکہ گلگت ایل اے 2 میں کشرور گڑ ھ ہائی سکول پولنگ سٹیشن میں مسلم لیگ ( ن ) اور پیپلز پارٹی کی حامی خواتین کے درمیان تلخ کلامی کے باعث پولنگ روک دی گئی تھی تاہم کچھ دیر بعد پولنگ دوبارہ شروع کر دی گئی سات لاکھ سے زائد و وٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا ۔

گلگت بلتستان ریجن چھ اضلاع پر مشتمل ہے جن میں دیامر ، استور ، گھانچے ، ا سکردو ، گلگت اور غذر شامل ہیں۔ کل آبادی گیارہ لاکھ چار ہزار ایک سو نوے نفوس پر مشتمل ہے ۔

رجسٹرڈ و وٹرز کی تعداد سات لاکھ سترہ ہزار دو سو چھیاسی ہے جن میں تین لاکھ چوراسی ہزار نو سو نو مرد اور تین لاکھ بتیس ہزار تین سو ستتر خواتین شامل ہیں۔

الیکشن کے لئے نو سو بیاسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ دو سو ترپن پولنگ اسٹیشن مردوں اور دو سو اٹھاون خواتین کے لئے مخصوص تھے ۔