15 جون 2009 - 19:30

آیت اللہ سیداحمد خاتمی نے کہا کہ شیطان ایک متحد معاشرے کو مختلف روشوں سے اختلاف سے دوچارکرتا ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے نمازکے پہلے خطبے میں نمازیوں کوتقوای الہی اختیارکرنے کی سفارش کرتے ہوئے گناہوں سے دوررہنے کی نصیحت کی ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے فرزند رسول حضرت امام رضا ‏علیہ السلام کے ایام ولادت باسعادت کی مبارک بادپیش کرتے ہوئے ان کی ایک حديث نقل کی کہ آپ فرماتے ہيں کہ اگرتم کسی کمزور اور غریب شخص کی مددکروگے تو گویا تم نے سب سے بڑا صدقہ دیا ہے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اللہ سے انس ومحبت میں بہت سی باتیں ہیں جن میں سے ایک یاد خداہے مگر اللہ کی یاد اورذکرکی راہ میں شیطان حائل ہونے کی کوشش کرتا رہتا ہے  اورشیطان طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے انسان کواللہ کے ذکر سے باز رکھنے کی کوشش کرتارہتا ہے ۔ جس میں سے ایک مومنین کے درمیان اختلاف تفرقہ پیداکرنا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جس معاشرے میں مومنین کے درمیان اختلاف وتفرقہ ہوگا اس میں نہ توکوئی تعمیری کام ہوگا اورنہ ہی معاشرے کی پیشرفت کے لئے کوئی اقدام کیا جاسکے گا اورنتیجے میں لوگ صرف آپس میں الجھے رہتے ہيں اوریادخداسے بھی غافل ہوجاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ شیطان کا کام یہی ہے کہ وہ مومنین کوآپس میں لڑاتا ہے ۔ آیت اللہ سیداحمد خاتمی نے کہا کہ شیطان ایک متحد معاشرے کو مختلف روشوں سے اختلاف سے دوچارکرتا ہے۔انھوں نے اس سلسلے ميں شیطان کے ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیطان اس کام کے لئے دینی امور میں انحراف پیدا کرتا ہے اور اتحاد کے محور یعنی صالح قیادت کو نشانہ  بناتا ہے اور پھر لوگوں کے اندر بدگمانیاں اور کینہ پیداکرتا ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اتحاد کے محور یعنی قیادت کونشانہ بنا کر شیطان آسانی کے ساتھ معاشرے میں اختلاف پیدا کرسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ جس معاشرے میں قیادت کمزور ہوجاتی ہے وہ معاشرہ اختلاف و تشتت کا شکار ہوجاتا ہے ۔  انھوں نے اس سلسلے ميں جناب امیرکا ایک قول نقل کیا کہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہيں کہ اسلامی معاشرے میں قیادت کا کردار تسبیح کے دھاگے کے مانندہے یہی دھاگہ ہے جوتمام دانوں کوایک دوسرےسے مربوط رکھتا ہے ۔آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ تفرقہ پھیلانے والوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ قیادت کونشانہ بناتے ہیں۔تہران کے خطیب جمعہ نےامام ہشتم کا ایک قول نقل کیا کہ امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہيں کہ دین کی رہبری عادل رہبرسے  عبارت ہے اور دین کی مصلحت اس میں ہے کہ معاشرے کا قائدامام برحق ہو۔ اس حدیث سے استنباط کرتے ہوئے تہرا ن کے خطیب جعمہ نے کہا کہ قیامت تک سلسلہ امامت باقی رہے گا اورامام کے پردہ غیب میں رہنے کی صورت میں ان کا جانشین معاشرے کا قائدہے اوروہ امام زمانہ کا نا‏‏ئب عام ہے جس کوہم ولی فقیہ کہتے ہيں۔آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہاکہ آج تیس سال سے ہم ولایت فقیہ کے اہم کردارکا ہم مشاہدہ کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ آج ایران کے عوام اورایرانی معاشرے کی عزت وسربلندی کا باعث یہی منصب ولایت فقیہ ہے اوراگرکوئی اس منصب کو کمزورکرنے کی کوشش کرتا ہے وہ شیطانی اقدام کامرتکب ہوتا ہے کیونکہ شیطان کا کام ہی قیادت کونشانہ بنانا ہوتا ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے نمازکے دوسرے خطبے میں بھی فرزندرسول امام رضاعلیہ السلام کی ایک حديث نقل کی جس میں آپ فرماتے ہيں ہم اہلبیت وہ ہیں کہ جب کسی سے وعدہ کرتے ہیں تواسے پوراکرتے ہيں۔ تہران کے خطیب جمعہ نےچار نومبر یعنی عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن میں نکالے گئے جلوسوں میں عوام کی شاندارشرکت  کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کے جلوسوں میں ہرسال سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔انھوں نے کہا کہ  رہبرانقلاب اسلامی نے بارہا اس سلسلےمیں فرمایا کہ تیس سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی ہمارے جوان انقلاب کے ابتدائی ایام کی طرح پرجوش نظرآئیں گے اور آج ہم نے دیکھا کہ عالمی سامراج کے خلاف نکالے گئے جلوسوں میں ایران کے عوام نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی۔ تہران کے خطیب جمعہ نے امریکہ کے ساتھ مصالحت نہ کرنے کے پرمبنی اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ  ہمارا اصول کسی ضدیا ہٹ دھرمی کی بنیاد پرنہیں ہے بلکہ یہ موقف بہت ہی خردمندانہ ہے  اور سوچ سمجھ کراپنایا گیا ہے۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ انیس سوباون سے لے کراب تک امریکہ نے ایرانی عوام کے ساتھ غداری کی ہے اس نے مصدق کی حکومت کو گرا کر ظالم شاہی حکومت ہم پرمسلط کی  پھر ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے اب تک ایرانی عوام سے امریکہ دشمنی کر رہا ہے۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ  اس نے اپنے سفارتخانے کو جاسوسی کا اڈہ بنادیا تھا اس نے ہم پرآٹھ سال تک جنگ مسلط کرائے رکھی، اس نے ہم پر اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لگائیں اورطرح طرح کی سازشوں میں آج بھی مصروف ہے۔انھوں نے کہاکہ امریکی صدرباراک اوبامہ نے ابھی چند روزقبل ہی اسلامی جمہوری نظام کے خلاف سازش کرنے کے لئے پچپن ملین ڈالرکے بجٹ پردستخط کئے۔ تہران کے خطیب جمعہ  نے کہا کہ ایرانی عوام سے امریکہ کی دشمنی مسلسل جاری ہے اورجب تک امریکہ اپنی اس سامراجی سرشت سے دستبردار نہيں ہوتا اس وقت تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہيں ہوسکتے۔ تہران کے خطیب جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے اسی طرح ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام اور ایرانی عوام مسلمہ ایٹمی حق کا ذکرکرتے ہوئے ایرانی عوام سے کہاکہ کوئی بھی آپ کے حق پرسودے بازی نہيں کرسکتا اورجب تک آیت اللہ العظمی خامنہ ای جیسی قیادت کا دست شفقت ہمارے سر پر ہے ایرانی عوام کے حق پر ہرگز آنچ نہيں آسکے گی ۔تہران کے خطیب جمعہ نے یورپ کے مطالبے کے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کو اعتماد سازی کرنا چاہئے کہا کہ  ہم یہ کہتے ہیں کہ یورپ پر کبھی بھی اعتماد نہيں کیا جاسکتا۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی  نے کہا کہ فرانس میں ایٹمی ری ایکٹرز میں ایران کا دس فیصد شیئر تھا مگر آج تیس سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد  بھی فرانس نے اس میں سے ہمارا ایک فیصد  بھی حصہ نہیں دیا توآج ہم کس بنیاد پر مغرب کی اس بات پر بھروسہ کرسکتے ہيں کہ ہم ساڑھے تین فیصد ا‌فزودہ یورینیم  انھیں دیں اور وہ بیس فیصد مزید افزودہ کرکے ہمیں  واپس کردیں گے۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ ایرانی عوام آگاہ و بیدار اور ہوشیار ہيں اورانھیں دھوکہ نہيں دیا جاسکتا ۔ انھوں نے کہاکہ  تہران کے تحقیقاتی ایٹمی ری ایکٹر کے لئے ان ملکوں کو ایجنسی کے قوانین کے مطابق ایندھن فراہم کرنا چاہئے اور اگر انھوں نے ایسانہ کیا تو انھیں جان لینا چاہئے کہ ہمارے سائنسدان خداوند عالم کے فضل و کرم سے تہران کے تحققیاتی ایٹمی ری ایکٹر کے لئے ایندھن تیارکرلیں گے۔ تہران کے خطیب جمعہ نے سعودی عرب کے نام نہاد مفتی اعظم کے اس فتوے کا ذکرکرتے ہوئے جس میں اس نے کہاکہ ایران  کے حاجی، حج کے موقع پر مشرکین سے نفرت و بیزاری و برائت کا جو اجتماع کرتے ہيں وہ بدعت ہے اور شرعی طور پر غلط ہے اس مفتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وقت ہو تو جاؤ سورہ  توبہ اورسورہ حج میں مشرکین سے برائت کی آیتوں کا مطالعہ اورتلاوت کرو۔ انھوں نے کہاکہ اگراس دورمیں  مشرکین رسول اسلام اور اسلام کے دشمن اور بت پرست تھے تو آج امریکہ اسرائیل اور اس کے حواری مشرکین اور طاغوت ہيں بنابریں مشرکین سے برائت و بیزاری کا اجتماع قرآن و سنت کے حکم کے مطابق ہے اور سعودی عرب کے مفتی کوچاہئے کہ وہ اپنے اس فتوے پرتوبہ کرے۔ تہران کے خطیب جمعہ نے غزہ پرصہیونی حکومت کے بائیس روزہ حملے میں صہیونی حکام کے جنگی جرائم کے بارے میں گلڈسٹون کی رپورٹ کے بارے میں کہاکہ اس رپورٹ کے منظرعام پرآنے کے بعد صہیونی حکومت کے حامی ممالک شور و ہنگامہ مچانے لگے ہیں۔ انھوں نے امریکہ اور مغربی ملکوں کے اس طرح کے شور و ہنگاموں کو مغرب کی لیبرل ڈیموکریسی کی پیشانی پرکلنک کا ٹیکہ قراردیا اور کہا کہ جب تک اس طرح کے ملکوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رہے گا یہ ادارہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں بے دست وپا رہے گا۔

بشکریہ از ریڈیو تہران