اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ مینا بازار میں ہونے والے دھماکے میں150 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ،اسپتا ل ذرائع نے 160افراد کو اسپتال لائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے 134زخمی افراد کی فہرست لگا دی ہے ۔ بم دھماکا پشاور کے علاقے پیپل منڈی چوک پر مینا بازار کے قریب ہوا۔ دھماکے کے فوری بعد قریبی دکانوں میں آگ لگ گئی۔ایک پرانی عمارت گر گئی اور قریبی دیگر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ،اس علاقے میں قائم کئی عمارتوں کو مخدوش قرار دیا جا چکا تھا۔ اے آئی جی بم ڈسپوزل یونٹ شفقت اللہ ملک نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد گاڑی میں رکھا گیا تھا۔ دھماکے میں150 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ ڈی سی او پشاور صاحب زادہ انیس نے واقعے میں87 افراد کی جاں بحق ہوجانے کی تصدیق کردی ہے، اسپتال ذرائع کے مطابق کم از کم 89 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ مغربی ذرائع نے اپنے نمائندوں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اب تک 91 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں. جان بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں ۔زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

صوبہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کااظہار کیا ہے کہ دہشتگردوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ضرورت پڑی تو فوج بلاسکتے ہیں.انھوں نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے اور انہیں انجام تک پہنچائیں گے۔پشاور چوک یادگار کے مینا بازار میں دھماکے کی جگہ کے معائنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ سیکورٹی میں خامی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا کیونکه جب دہشت گرد جی ایچ کیو تک پہنچ سکتے ہیں توکہیں بھی جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خودکش دھماکے میں معصوم لوگوں کی جانیں لے کر کس اسلام کی خدمت کی جارہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو شہر میں فوج کو بلاسکتے ہیں۔ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ سرحد کے عوام شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہیں اور آج بھی انھوں نے اس جنگ میں لڑنے کی قیمت چکائی ہے۔