15 جون 2009 - 19:30

2009 کے دوران میں عراق میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے اور ان کے نتیجے میں قتل ہونے والے عراقیوں کی تعداد

اس میں شک نہیں ہے کہ مقبوضہ ممالک کو اس وقت المیوں اور مصائب و مسائل سے نجات پانا ممکن نہیں ہوتا جب تک وہ قابض قوتوں سے پیچھا نہیں چھڑاتے اور قابض فوجیوں کو ان کے اپنے ملکوں میں واپس جانے پر مجبور نہیں کرتے.

فلسطین تو گذشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے اس صورت حال سے دوچار ہے جہاں مسلسل خونریزی اور حق کشیوں کی داستانیں رقم ہورہی ہیں اور گذشتہ سات برسوں سے افغانستان اور عراق بھی مقبوضہ ممالک کے زمرے میں قرار پائے ہیں اور وہاں کی صورت حال تو کیا افغانستان کے قبضے میں قابض قوتوں کی مدد کرنے والے پاکستان کی صورت حال ہم سب کے سامنے ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک بیرونی قوتیں فلسطین، افغانستان، عراق اور پاکستان پر مسلط ہونگی اور جب تک ان ممالک میں امریکہ اور صہیونیوں کے فیصلے آخری فیصلے سمجھے جاتے ہونگے ان ممالک کے مظلوم اور بے گناہ عوام ـ جو بیرونی قوتوں کو اپنے گھروں میں لانے کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ـ ہرگز ہرگز امن کا منہ نہ دیکھ سکیں گے.

عراق میں گذشتہ 10 مہینوں میں انسانیت کشی کی رپورٹ ملاحظہ ہو جو اس سلسلے کی ایک مثال ہے اور پاکستان، افغانستان اور فلسطین کی بھی الگ الگ رپورٹیں مستقبل میں پیش کی جائیں گی.

1- 2 جنوری 2009: بغداد کے محلے یوسفیہ میں خودکش حملہ 23 افراد جاں بحق ہوئے

2- 4 جنوری 2009: بغداد کے شمال میں واقع کاظمین میں امام موسی کاظم علیہ السلام کے 35 زائرین خودکش حملے میں شہید ہوئے۔

3- 13 فروری 2009: کربلا جانے والے زائرین پر ایک دہشت گرد عورت کا خودکش حملہ 35 افراد شہید ہوئے. شہداء کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل تھی. 

4- 8 مارچ 2009: بغداد کے شارع فلسطین پر پولیس کی بھرتی کے لئے آنے والے افراد پر ایک سائیکل سوار دہشت گرد عورت کا خودکش حملہ 28 افراد جاں بحق اور 58 زخمی ہوئے. 

5- 10 مارچ 2009: بغداد کی حدود میں ابوغریب کے علاقے کی ایک مارکیٹ میں خودکش حملے میں 33 افراد جاں بحق اور 46 افراد زخمی ہوئے.

6- 23 مارچ 2009: صوبہ دیالہ کے علاقے جلولا میں کردوں کی مجلس عزا میں خودکش حملہ، 25 افراد شہید اور 50 افراد زخمی ہوئے. 

7- 26 مارچ 2009: بغداد میں کار بم دھماکے میں 20 افراد جاں بحق اور 38 افراد زخمی ہوئے. 

8- 6 اپریل 2009: بغداد اور نواح میں متعدد دہشت گرد حملوں میں 34 افراد جاں بحق اور 130 افراد زخمی ہوئے. 

9- 23 اپریل 2009: دہشت گردوں کے تین خودکش حملوں میں 84 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بغداد کے مشرق میں مقدادیہ کے علاقے میں شہید ہونے والے 56 ایرانی زائرین بھی شامل تھے.

10- 24 اپریل 2009: امام موسی کاظم علیہ السلام کے حرم شریف کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں بیس ایرانی زائرین سمیت 58 زائرین شہید ہوئے. 

11- 29 اپریل 2009: بغداد کے صدر سٹی میں تین کار بم دھماکوں میں 51 افراد شہید ہوئے. 

12- 20 مئی 2009: بغداد کے شمال میں الشعلہ کے علاقے میں کار بم دھماکہ، 40 افراد جاں بحق اور 84 افراد زخمی ہوئے.

13- 20 جون 2009: کرکوک سے 30 کلومیٹر شمال میں شیعہ ترکمن علاقے میں ٹرک بم دھماکے میں 72 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوئے. 

14- 24 جون 2009: صدر سٹی کی ایک مارکیٹ میں بم دھماکے میں 62 افراد شہید اور 150 زخمی ہوئے. 

15- 30 جون 2009: عراقی شہروں سے امریکی افواج کی پسپائی کے روز کرکوک میں کار بم دھماکہ، 26 افراد جاں بحق اور 70 افراد زخمی ہوئے. 

16- 9 جولائی 2009: شہر موصل کے علاقے تلعفر میں دو خودکش حملوں میں 35 افراد شہید اور 60 افراد زخمی ہوئے شہداء میں متعدد بچے اور خواتین بھی شامل۔

17- 31 جولائی 2009: پانچ مسجدوں میں بم دھماکے، 29 نماز گزار شہید اور 136 افراد زخمی ہوئے. 

18- 7 اگست 2009: موصل میں ترکمن شیعہ باشندوں کی مسجد میں کار بم دھماکے میں 37 افراد شہید اور 276 افراد زخمی ہوئے.

19- 10 اگست 2009: موصل شہر سے 20 کلومیٹر مشرق کی طرف خزنہ کے علاقے میں ٹرک بم دھماکے میں 23 افراد جاں بحق اور 138 افراد زخمی ہوئے. 

20- 19 اگست: بغداد میں متعدد دہشت گرد کاروائیوں اور وزارت خارجہ و وزارت خزانہ کی عمارتوں کے سامنے دو کار بم دھماکوں میں 75 افراد جاں بحق اور 420 افراد زخمی ہوئے. 

21- 25 اکتوبر: وزارت قانون اور صوبائی کونسل کی عمارتوں کے سامنے کار بم دھماکوں میں کم سے کم 132 افراد جاں بحق اور 700 افراد زخمی ہوئے. 

۔۔۔

ویسےتو پاکستان باقاعده طور پر مقبوضہ ملک نہیں ہے مگر اس ملک میں بن بلائے مہمانوں اور انہیں لانے والے بیگانہ پرست میزبانوں کی نحوست دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں دہشت گرد حملوں اور ان حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد عراق سے کہیں زیادہ ہے!