اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق آج صبح رازح کی علاقے میں بسباس فوجی اڈے پر قبضے کی غرض سے ہونے والی کاروائی میں شیعہ مجاہدین نے یمنی افواج کو شکست دے کر اس حساس فوجی اڈے پر قبضہ کرلیا. جس کے چند ہی گھنٹے بعد زیدی شیعہ مجاہدین نے الدامغ کے اہم فوجی اڈے پر بھی قبضہ کیا اور بڑی مقدار میں ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان مجاہدین کے ہاتھ لگا؛ اس سے قبل بھی گذشتہ ہفتوں کے دوران یمنی افواج کے مختلف فوجی اڈوں پر حوثی مجاہدین نے قبضہ کرلیا ہے لیکن یمنی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر شدید دباؤ کی وجہ سے مجاہدین کی کامیابیوں کی خبریں کم ہی بیرونی دنیا کو موصول ہوتی ہیں.
موصولہ رپورٹوں کے مطابق صعدہ کی طرف جانے والی سڑک کے آس پاس یمنی افواج کا حملہ ناکام ہونے کے بعد فوجیوں کی بڑی تعداد کو مجاہدین نے گھیرے میں لیا ہوا ہے جنہوں نے دو روز قبل رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کے گھروں میں گھس کر گھیرے سے نکلے کی کوشش کی مگر مجاہدین کے بروقت اقدام کی وجہ سے ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی. .
دریں اثناء یمنی کی عدالت نے دس شیعہ افراد کو پھانسی اور چھ دیگر افراد کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے.
ابنا کی رپورٹ کے مطابق یمنی حکومت کا دعوی ہے کہ پھانسی کی سزا پانے والے افراد گذشتہ سال بنی حشیش کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں گرفتار ہوئے تھے. ایک ہفتہ قبل بھی دو شیعہ افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے.
اس رپورٹ کے مطابق پھانسی اور قید کی سزا پانے والے شیعہ مجاہدین نے عدالت کے احاطے میں اللہ اکبر، مردہ باد امریکا، مردہ باد اسرائیل، صہیونیت پر لعنت، اور اسلام فاتح ہے، جیسے نعرے لگائے.
یمنی عدالت نے اپنی عجیب دلائل میں شیعہ مجاہدین پر القاعدہ سے وابستگی کا الزام لگایا اور انہیں دہشت گرد گروہ کا نام دے کر سزائیں سنائیں.