جی ایچ کیو پر حملہ، قوم کی تذلیل
انیس سو اسی کی دہائی سے ہماری حکومت نے اپنے خاص مقاصد کی خاطر کئی گروہوں کی پرورش کی جن میں سپاہ صحابہ، سرفہرست ہے اور کئی دیگر گروہ بھی ان میں شامل ہیں۔ حق نواز جھنگوی کی ہلاکت کے بعد لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی گئی. اس زمانے میں ان گروہوں کے خاص اہداف تھے اور حکومت بھی انہیں آزادی عمل دے چکی تھی گویا حکومت نے ہی انہیں یہ اہداف دیئے ہوئے تھے کیونکہ خاص اسلامی مکاتب کو میدان سے نکالنے کا منصوبہ تھا؛ اس لئے کہ کسی بریگیڈیئر نے کہا تھا کہ "یہ مکاتب فکر پاکستان کے لئے خطرناک ہیں" اسی بریگیڈیئر نے سندھیوں کو بھی خطرناک قرار دیا تھا اور دیکھئے کہ آج صورت حال واضح ہوئی ہے اور اس بریگیڈیئر نے بھی اپنی کچھ پرانی غلطیوں کا اعتراف کرلیا ہے. بریگیڈیئر نے اب تک کراچی آپریشن کے بارے میں بعض اعترافات ریکارڈ کرائے ہیں اور انہیں فرقہ وارانہ گروہوں کی تأسیس جیسی عظیم غلطی کا بھی اعتراف کرنا ہی پڑے گا.امر مسلم ہے کہ یہ گروہ آج بہت مضبوط ہیں اور ان سب کا نام طالبان رکھا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا منبع بھی ایک تھا اور ان کے مقاصد بھی یکسان تھے اور اب تقریبا ایک ہی قیادت کے تحت کام کررہے ہیں اور البتہ سرحدی اور پنجابی طالبان صرف ظاہری دنیا کی باتیں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ حکومت کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں اور سوات میں آپریشن کے نتائج کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے اور جو نتائج سامنے آئے ہیں یہی ہیں کہ ان کے حملے مزید خطرناک ہوگئے ہیں، صورت حال یہ ہے کہ وہ جی ایچ کیو میں داخل ہوتے ہیں! کئی اہلکاروں کو قتل کردیتے ہیں؛ پھر عمارت میں داخل ہوکر دسیوں کو یرغمال بناتے ہیں اور تقریبا چوبیس گھنٹے اس مقام پر قابض رہتے ہیں جو پاکستان کے امن و استحکام اور قومی ساکھ کی علامت سمجھا جاتا تھا اور وہیں سے اپنے دہشت گرد سرغنوں کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں.جو حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں نے فوج اور ملت پاکستان کی تذلیل کی ہے اور اس کی وجہ وہ کالی بھیڑیں ہیں جو مسلح گروہوں کی طویل المدت پرورش کے دوران فوج اور خفیہ اداروں میں گھس گئی ہیں یا وہ اہلکار ہیں جو ان گروہوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے خود بھی ان کے فکری سانچے میں ڈھل گئے ہیں.چنانچہ جو بات ہمیں بعنوان چارہ کار سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے خفیہ اداروں اور اس کے بعد فوج کے تمام شعبوں کی فکری تشکیل نو کا اہتمام ہونا چاہئے اور جن لوگوں کے ذہن و قلب میں پاکستان کی سلامتی اور قومی حمیت کی حفاظت کے سوا دوسرے جذبات ہیں انہیں گھر بھیجنا پڑے گا ورنہ اگر یہی صورت حال باقی رہی تو بعید از قیاس نہیں ہے کہ فوج کے اندر ملوک الطوائفی رونما ہوجائے اور بعض بعض دوسروں کے خلاف برسرپیکار ہوجائیں.تکلفات سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور شاید ہماری موجودہ صورت حال بھی ہمارے ہاں رائج تکلفات کا نتیجہ ہو اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قلمکار قلم کا حق ادا کریں؛ قلم مقدس ہے اور خداوند متعال نے سورہ القلم میں قلم کی قسم اٹھائی ہے چنانچہ حقائق کو بلاتکلف بیان کرنا چاہئے...اللہ میری دھرتی ماں کی حفاظت فرماگو کہ میں جانتا ہوں کہ تو ہی نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
انَّ اللّہ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِانْفُسِہمْ
آیت کا ترجمہ از علامہ محمد اقبال:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال اپنی حالت خود بدلنے کا