15 جون 2009 - 19:30

صہیونی ریاست نے غزہ پر جارحیت کے دوران اس ریاست کے ساتھ ابومازن کےتعاون پر مبنی دستاویزات کو منظرعام پر لانے کی دھمکی دی تھی۔

یورپ کی 35 فلسطینی تنظیموں کا محمود عباس کے مواخذے کا مطالبہ

یہ مطالبہ فلسطینی صدر کی جانب سے انسانی حقوق کی کمیٹی میں غزہ جنگ کے متعلق گولڈ سٹون رپورٹ پر انسانی حقوق کونسل میں بحث اور ووٹنگ رکوائے جانے کے تناظر میں کیاگیا- اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی "ابنا" کی رپورٹ کے مطابق "عالمی اخبار" نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ خبررساں ادارے القدس پریس رپورٹ دی ہے کہ یورپ میں 35فلسطینی جماعتوں نے اپنے بیان میں فلسطینی اتھارٹی کے موقف پر حیرت کا اظہار کیا ہے- ہالینڈ میں ’’فلسطینی کلب برائے حقوق واظہار یکجہتی ‘‘ کے رکن امین ابوابراہیم نے کہاکہ فلسطینی اتھارٹی نے عوام کے حق میں غداری کی ہے اور اس غداری پر فلسطینی اتھارٹی کو معاف نہیں کریں گے اوراس خیانت پر کم ازکم فلسطینی صدر محمود عباس کا مواخذہ کیا جانا چاہیے کیونکہ وہی سب سے بڑے ذمہ دار ہیں- امین ابو ابراہیم نے کہا کہ ابومازن نے گولڈ اسڈون رپورٹ کی ایسے حال میں مخالفت کی ہے کہ بعض اسرائیلی تنظیمیں اس کی حمایت کرچکی ہیں اور اب ہمارا سوال یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے رپورٹ کو سلامتی کونسل میں زیر بحث لانے کے مطالبے کی مخالفت کیوں کی؟ اور اس سلسلے میں ووٹنگ روکنے کا مطالبہ کیوں کیا؟ جبکہ عالمی انسانی حقوق کونسل کے 54 ارکان ممالک میں سے 38 ممالک گولڈسٹون رپورٹ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لانے کے مطالبے کے حامی ہوگئے تھے - ایسے موقع پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ووٹنگ روکنے کامطالبہ مسئلہ فلسطین کے ساتھ دشمنی ہے-’’یونانی فلسطینی دوستی فاؤنڈیشن ‘‘نے بھی محمود عباس کے فیصلے پر شدید تنقید کی اوراسے فلسطینی عوام دشمن قرار دیا - فاؤنڈیشن نے محمود عباس کی جانب سے اس معاملے پر تحقیقاتی کمیشن بنائے جانے پر اظہار تعجب کیا- بیان میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مقصد کیا ہے جبکہ صدارتی ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی مرضی کے مطابق ہوا ہے؟ بیان میں کہا گیاہے کہ فلسطینی صدر نے جب دیکھا کہ گولڈسٹون رپورٹ پر بحث ملتوی کئے جانے پر عوام نے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے تو انہوں نے اس معاملے کوٹالنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی -ڈنمارک میں ’’فلسطین کلب ‘‘ نے اس بات کو بعیدازامکان قرار دیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کونسل میں فلسطینی سفیر ابراہیم خریشہ نے محمود عباس کو بتائے بغیر خود بخود گولڈسٹون رپورٹ پر بحث رکوانے کا فیصلہ کرلیا ہوگا – اس کلب کے بیان کے مطابق فلسطینی سیاسی فیصلہ سازصرف محمود عباس ہیں- حتی کہ فلسطینی حکومت اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی اور جنیوا میں فلسطینی سفیر ان کے ماتحت ہیں -اٹلی میں ’’فلسطینی کمیونٹی‘‘کے سربراہ محمد حنون نے متنبہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے موقف سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں اضافہ ہوگا اور اسرائیل کو فلسطینی عوام پر جارحیت کی شہ ملے گی – انہوں نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور اس نے اسرائیلی مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کا نادر موقع ضائع کردیا ہے- آئرلینڈ میں انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ اسرائیل نے انسانیت کے خلاف کس قدر جرائم کا ارتکاب کیا ہے!جن یورپی فلسطینی تنظیموں نے بیان پر دستخط کئے ہیں ان میں اٹلی میں ’’فلسطینی کمیونٹی‘‘کی جمعیہ ثقافیہ ، آئرلینڈ کی انسانی حقوق کی تنظیم ، ہالینڈ میں فلسطینی کلب برائے انسانی حقوق ،ڈنمارک میں فلسطینی کلب اور برلن میں فلسطینی کمیونٹی شامل ہیں-شرمناک سودے بازیدوسری طرف سے ریڈیو تہران کے مطابق فلسطین کی الیوم سائٹ نے واشنگٹن میں ایک باخبرذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمودعباس کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ریچرڈگلڈسٹن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کی مخالفت کی وجہ غزہ پر صہیونی جارحیت کے دوران صہیونی ریاست کے ساتھ ابومازن کےتعاون پر مبنی دستاویزات کو منظرعام پر لانے کی دھمکی ہے۔ اس سائٹ نے لکھا ہے کہ واشنگٹن میں فلسطین اور اسرائیل کے وفود کے درمیان گذشتہ نشست کا مقصد نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کواقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں ریچرڈ گولڈاسٹن کی رپورٹ کاجائزہ لینے کی درخواست واپس لینے پر آمادہ کرنا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق فلسطینی انتظامیہ نےمذکورہ نشست میں پہلے اسرائیل کی تجویز کی مخالفت کی لیکن جب انھیں وہ ویڈیوفلم دکھائی گئی جس میں محمودعباس غزہ کی بائیس روزہ جنگ کے دوران صہیونی وزیرجنگ ایہود باراک کو جنگ جاری رکھنے کیلئے راضی کرنے کی کوشش کررہے تھے جبکہ اسرائیلی وزیرجنگ اور وزیرخارجہ تزیپی لیونی جنگ جاری رکھنے پر راضی ہونے کے باوجود اس سلسلے میں پس وپیش کا شکار تھے۔ الیوم فلسطینی سائٹ کے مطابق واشنگٹن میں صہیونی وفد نے فلسطینی وفد کو دھمکی دی کہ وہ اس دستاویزات اور ثبوت کواقوام متحدہ میں ذرائع ابلاغ کے حوالے کردےگا اور یوں نام نہاد فلسطینی انتظامیہ صہیونیوں کے مطالبات کے سامنے جھک گئی اور صہیونیوں کے مفادات کی حفاظت اور امریکہ اوریورپ کے ساتھ تعاون کی خاطر اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل میں گولڈسٹن کی رپورٹ کا جائزہ لینے میں تاخیرکی درخواست پیش کردی!محمودعباس کی اس درخواست نے  رائے عامہ کو نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سازبازکے عمل کے منفی نتائج کی جانب متوجہ کردیاہے کہ جوفلسطینیوں کے مزید حقوق ضا‏‏ئع ہونے کا سبب بنی ہوئی ہے۔  محمودعباس استعفاء دیں دریں اثناء عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سکریٹری جنرل احمدجبریل نے کہا ہےکہ نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کو استعفی دے دینا چاہیے ۔ احمد جبریل نے غزہ کے بارے میں گولڈ اسٹون کی رپورٹ کا جائزہ لینے میں  تاخیر کرانے کے سلسلے میں محمود عباس کے اقدام کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ اب جبکہ سارے مسائل فلسطین، عرب قوم اور امت اسلامیہ کے لئے روشن ہوچکے ہيں محمود عباس اور ان کے گروہ کو اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔احمد جبریل نے کہا کہ جن غیر ملکی مندوبین سے ہم نے ملاقات کی ہے انھوں نےغزہ کےبارےمیں گولڈ اسٹون کی رپورٹ کے حوالے سے محمود عباس کے شرمناک اقدام کا مذاق اڑایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس کی یہ درخواست ـ کہ انسانی حقوق کی کونسل غزہ کے بارےمیں گولڈ اسٹون کی رپورٹ کی منظوری ملتوی کردے ـ ایک سیاسی جرم ہے اور خودمختار انتظامیہ کے سیاسی و اخلاقی زوال کے پیش نظر قاہرہ کے مذاکرات بے فائدہ ثابت ہوں گے۔ واضح رہے کہ غزہ میں صہیونی ریاست کے جنگي جرائم کے بارےمیں تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ گولڈ اسٹون نے غزہ پر22 روزہ جارحیت میں صہیونی ریاست کو جنگي جرائم کا ذمہ دار قراردیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونی ریاست نے مجرمانہ اقدامات انجام دیئے ہيں ۔ نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے امریکہ اور برطانیہ کی ایماء پرمطالبہ کیا ہے کہ مارچ دوہزاردس تک گولڈ اسٹون کی رپورٹ کا جائزہ نہ لیاجائے۔ محمود عباس کے اس مطالبے سے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہردوڑگئي ہے ۔     پڑھیں:ابو مازن کے صہیونی عقائد اور بہائی پس منظر