15 جون 2009 - 19:30

آیت‏اللہ خامنہ‏ای کی کوئی مثال نہیں ہے اور ولایت فقیہ کے عہدے کے لئے بہترین ہیں؛ دوست اور دشمن سب اس حقیقت کے معترف ہیں. میں انقلاب کی چھت کے نیچے قیادت و رہبری کے لئے کسی کو بھی آیت اللہ خامنہ سے زیادہ باصلاحیت نہیں سمجھتا. آپ مدیر و منتظم بھی ہیں اور باتدبیر بھی.

مقدس اسلامی جمہوری نظام کے خلاف نرم جنگ میں دشمن کی ایک چال "اقتدار کی جنگ " اور  "اعلی ذمہ دار شخصیات کے درمیان وسیع اختلافات" کے بارے میں جھوٹی خبریں اچھالنا اور ان پروپیگنڈوں سے عالمی تشہیراتی ایجنسیوں کا مقصد معاشرے میں مایوسی پیدا کرنا اور دانشوروں اور مفکرین کو گوشہ نشینی پر مجبور کرنا ہے.

ذیل میں مجلس خبرگان کے ارکان سے «آیت‏اللہ ہاشمی رفسنجانی» کے خطاب کے اہم نکتے قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں جن سے دشمن کے پروپیگنڈوں کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی نظام کے ستونوں کے درمیان مکمل یکدلی اور ہماہنگی پائی جاتی ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کو ان جھوٹی خبروں سے زیادہ امید نہیں باندھنی چاہئے.

انہوں نے 22 ستمبر 2009 کو عشائیے میں رہبر انقلاب اسلامی کے بارے میں بہت اہم  نکتے بیان کئے ہیں جو عالمی دشمنان اسلام کے پروپیگنڈوں کی موجودہ فضا میں اسلامی جمہوریہ کے دوستوں کے لئے دلچسپی کا سبب ہوسکتے ہیں:

ــ آیت‏اللہ خامنہ‏ای، کی صدارت کے دور کے بعد سے میرے اور آپ کے درمیان ہفتے میں چار خصوصی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں؛ مگر اس وقت مصروفیات زیادہ ہوجانے کی وجہ سے یہ ملاقاتیں کم ہوگئی ہیں تاہم ہماری ملاقاتیں منظم انداز میں جاری ہیں. مثلاً آج ہی کے روز سہ پہر کو میں نے مجلس خبرگان کا اجلاس اس لئے جلدی ترک کیا کہ شام کو رہبر معظم کے ساتھ ملاقات کا پروگرام تھا. اس ملاقات میں بہت اچھے نکات پر بات ہوئی اور ملاقات مغرب تک جاری رہی؛ اذان ہوئی تو ملاقات بھی اختتام پذیر ہوئی.

نہ جانے بعض لوگ کیوں تصور کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان اختلافات ہیں؟ میرے اور رہبر معظم کے درمیان تعلقات بہت ہی قریبی اور پرخلوص ہیں اور ہماری ملاقاتیں مسلسل جاری ہیں.

ــ جب آیت‏اللہ خامنہ‏ای، صدر جمہوریہ تھے، میرے اور آپ کے درمیان اختلافات کی افواہیں عام تھیں؛ ایک روز میں آپ ہی کے دفتر میں تھا کہ آیت اللہ امینی نے میرے دفتر سے رابطہ کیا. میرے دفتر کے کارکنوں نے اسی مقام کا ٹیلی فون نمبر آیت اللہ امینی کو دیا تھا جہاں میں "آقا" کی خدمت میں حاضر تھا؛ آیت اللہ امینی نے وہیں فون کیا اور آقا نے خود ہی ٹیلی فون اٹھایا. آیت اللہ امینی نے آقا کو نہیں پہچانا اور کہا کہ "ٹیلی فون جناب ہاشمی کو دے دیں". آقا نے ٹیلی فون مجھے دیا اور جناب امینی نے مجھ سے کہا: «ہم نے حوزہ علمیہ قم کے جامعۂ مدرسین کے اجلاس میں آپ اور صدر جمہوریہ کے درمیان اختلافات کے بارے میں بات چیت کی ہے اور طے یہ پایا ہے کہ ایک وفد ان اختلافات کو حل کرنے کے لئے تشکیل دیا جائے اور اختلاف کی بجائے دوستی اور خلوص کی فضا برقرار کی جائے». میں نے کہا: «میں ٹیلی فون صدر مملکت ہی کو دیتا ہوں اس بات کے بارے میں صدر ہی سے بات کریں». آیت اللہ امینی یہ سن کر متعجب ہوئے. آیت‏اللہ خامنہ‏ای نے بھی ان سے فرمایا: «خدا وہ دن ہرگز نہ لائے کہ ہم دو کے سوا کوئی اور ہمارے درمیان اختلافات حل کردے». فون کا رابطہ منقطع ہوا تو میں اور آیت‏اللہ خامنہ‏ای اس افواہ کے سلسلے میں ہنس پڑے اور اس بات پر حیرت زدہ ہوئے کہ ہمارے درمیان اختلاف نہ ہونے کے باوجود لوگ افواہیں کیوں اڑاتے ہیں؟

ــ نظام اسلامی کے عہدیداران اور مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے سربراہان جب رہبر معظم سے ملاقات کرنا چاہیں تو انہیں پیشگی وقت لینا پڑتا ہے اور انہیں مقررہ وقت پر آپ کے پاس جانا پڑتا ہے مگر آقا کے ساتھ میرے تعلقات اتنے قریبی ہیں کہ جب بھی کوئی اہم کام ہو آپ سے ملاقات کے لئے جاسکتا ہوں اور ٹیلی فون پر بھی آپ سے بات کرسکتا ہوں.

ــ جو لوگ کہتے ہیں کہ میرے اور رہبر کے درمیان اختلافات ہیں انہیں "ولایت فقیہ کے مقام" کا علم نہیں ہے. میں حقیقتاً ولایت فقیہ پر یقین اور عقیدہ رکھتا ہوں اور ولی فقیہ کی اطاعت کو واجب سمجھتا ہوں.

بہت سی باتیں ایسی بھی پیش آئی ہیں کہ میں اور آقا نے کسی موضوع پر بحث و مباحثہ کیا ہے اور اگر ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہیں تو میں نے آپ کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم رکھا ہے اور میں نے اطاعت کی ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ آپ ولی فقیہ ہیں اور آپ کا فرمان واجب الاطاعت ہے؛ علاوہ ازیں میں آپ کی رائے کو ایک ماہر اور متخصص شخصیت کے عنوان سے بھی قبول کرتا ہوں.

ــ آج کے انسانی معاشروں میں ہمارے سامنے کوئی بھی ایسا نظام نہیں ہے جو ولایت فقیہ کا نعم البدل ہو؛ ایران میں بھی اگر ولایت فقیہ نہ ہو تو ہمارا ملک تقسیم ہوجائے گا یا پھر پارہ پارہ ہوجائے گا؛ اس مملکت کا انتظام چلانے کا واحد راستہ ولایت فقیہ ہے.

میرا راسخ عقیدہ اور پختہ یقین ہے کہ آج نظام ولایت فقیہ ملکی انتظام چلانے کا واحد راستہ ہے اور کوئی بھی نظریہ اور کوئی بھی تھیوری نظام ولایت فقیہ کا نعم البدل نہیں ہوسکتی. جو لوگ نماز جمعہ میں میرے خطبوں سے دوسرا مطلب لیتے تھے وہ درحقیقت میری باتوں کو سمجھ نہیں سکے تھے؛ میرے نزدیک ولایت فقیہ سے عاری کوئی بھی حکومتی نظام جائز اور قانونی Legitimate نہیں ہے.

ــ میں ملکی انتظام کے لئے کسی کو بھی آیت‏اللہ خامنہ‏ای سے زیادہ اہل اور با صلاحیت نہیں سمجھتا اور آپ سے بہتر کوئی بھی نہیں ہے جو اس ملک کا انتظام سنبھال سکے.

آیت‏اللہ خامنہ‏ای کی کوئی مثال نہیں ہے اور ولایت فقیہ کے عہدے کے لئے بہترین ہیں؛ دوست اور دشمن سب اس حقیقت کے معترف ہیں.

میں انقلاب کی چھت کے نیچے قیادت و رہبری کے لئے کسی کو بھی آیت اللہ خامنہ سے زیادہ باصلاحیت نہیں سمجھتا. آپ مدیر  و منتظم بھی ہیں اور باتدبیر بھی.

 ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

ملاحظہ ہو: آیت اللہ خامنہ ای میرا عشق ہیں