اکیس ستمبر کو شائع ہونے والے ترکی اخبارات نے ترک وزیراعظم کے بیان کوکوریج دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرق وسطی میں صیہونی حکومت کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں لیکن اس کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی بات نہيں کی جاتی اور جولوگ خود ایٹمی ہتھیار کے حامل ہیں وہ دوسروں کے پرامن ایٹمی پروگرام پر تنقید کرتے ہيں اس سے قبل بھی اردوغان اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی بارہا حمایت کرچکے ہيں ۔ بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ترک وزیراعظم کے اس بیان کی دو وجہ ہے ایک یہ کہ ایران ترکی کا پڑوسی ملک ہے اور وہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام سے زیادہ اچھی طرح واقف ہيں اور دوسرے یہ کہ ترکی اسرائیل کی علاقائی سرگرمیوں کی نسبت مشکوک ہے بالخصوص اس وقت سے جب تل ابیب نے ترک وزیرخارجہ کو غزہ پٹی کا دورہ کرنے کی اجازت نہيں دی ترکی اور صیہونی حکومت کے تعلقات میں اس وقت کشیدگی پیداہوگئی جب غزہ جنگ کے بعد ترک وزیراعظم نے ڈاوؤس اجلاس کے موقع پر غزہ میں اسرائيل کی جارحیت کے سلسلے میں اس پر تنقید کی ۔درحقیقت صیہونی حکومت کے خطرات سے ترکی سمیت علاقے کے ملکوں کی تشویش اس قدر زيادہ ہے کہ ابھی حال ہی میں ترکی نے اٹلی سے جاسوس سٹ لائٹ خریدے ہيں اور اس وجہ سے ترکی اور اسرائيل کے تعلقات میں اورزیادہ سرمہری پیدا ہوگئی درحقیقت علاقے کے دوسرےملکوں کی طرح ترکی کابھی یہ خیال ہے کہ مشرق وسطی میں سیکورٹی کے استحکام کیلئے صیہونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں سے علاقے کا پاک ہونا ضروری ہے اوراگر ایسا نہيں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف مغربی ملکوں کی ہنگامہ آرائی کا مقصد علاقے اورعالمی رائےعامہ کی توجہ صیہونی حکومت کی ایٹمی سرگرمیوں سے ہٹانا ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 168071
ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مغربی ملکوں کےدعوؤں پر تنقید کرتےہوئے کہاہے کہ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئي بات کیوں نہيں کی جاتی ۔