15 جون 2009 - 19:30

عید اب بچوں کی بھی نہیں ہوتی بڑوں کی بھی نہیں جن بچوں کو اپنی یتیمی کا ہر لمحہ خوف ہوگا اور جن بڑوں کو گھر سے نکل کر زنده واپس آنے کا یقین تک نہ ہو ان کی عید ہی کیا ہوگی؟!!

 

کراچی کے توانا اہل قلم محمد احمد ترازی

عید منائیں تو کیسے منائیں

... آج ایک بار پھر اسی پیغام کو لے کر عید کا دن ہمارے درمیان موجود ہے،لیکن اِس خوشی و انبساط کے موقع پرعید مناتے اور عید کی مبارکباد دیتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے اہل وطن اور دنیا بھر کے ان مسلمانوں کو جو کفر طاغوت کے ظلم و جبر کا شکار ہیں، جو بے سرو سامانی کے عالم میں بے گھر در کھلے میدانوں میں پڑے ہوئے ہیں ،بھوک ، پیاس ،تن عریانی اور غم و اندوہ جن کامقدر ہے ،اس عید کے موقع پر میں انہیں کون سا تحفہ پیش کروں ،خوشی کی کون سی کہانی سناؤں، ان کی قلبی و روحانی آسودگی کیلئے کون سا سامان پیدا کروں ،جس سے ان کے بجھے ہوئے خشک ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جائے... دوستو معاف کیجئے گا، ... میں آپ کو عید کی مبارکباد نہیں دے سکتا، عید مبارک نہیں کہہ سکتا ۔

۔۔۔ بالخصوص ارض وطن پاکستان کی سر زمین اپنے ہی سپوتوں کے خون سے رنگین ہے،ملک کے دو صوبوں میں آگ لگی ہوئی ہے ... ہر طرف غم اور سوگ کی سی کیفیت ہے ،ہم جدھر کان لگائیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی آہ و بقاء، خوفناک چیخیں اور سسکیاں سنائی دیتی ہیں، ... مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں ،بے گورو کفن لاشے اورکٹے پھٹے جسم پڑے ہیں ،اجڑی ہوئی بستیاں اور جلتے ہوئے گھر ہماری دینی غیرت و حمیت پر نوحہ کناں ہیں۔

یہی حال پورے عالم اسلام کا ہے ...افسوس تو اِس بات کا ہے کہ ہم اپنے دشمن کو ازل سے پہچانتے ہوئے بھی اس کے دامن میں سایہ عافیت تلاش کررہے ہیں، وہ ہر بار ایک ہاتھ سے ہماری پشت میں خنجر گھونپتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے ہمارے منہ میں خیرات کا نوالہ ڈالتا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ہمارا آقائے نعمت ہے،گویا ہم عزت و وقار کی دولت سے تو محروم تھے ہی اب عقل و شعور سے بھی عاری ہو تے جارہے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر اور مراکش سے مغربی ایشیاءاور مشرق بعید تک پھیلی ہوئی ہر نعمت سے مالا مال اللہ کی پسندیدہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نام لیوا امت اِس درجہ ذلیل و خوار کیوں ہے؟

...اسلامی تہذیب و ثقافت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں،قوانین الہٰیہ کے ساتھ مذاق ہورہا ہے ، لیکن ہمارے سیاسی رہنما ؤں نے قوم کو سوئے حرم متوجہ کے بجائے امریکہ کو اپنا قبلہ و کعبہ بنالیا ہے،اب آپ ہی بتایئے کہ ان حالات میں کیسے خوشی منائی جاسکتی ہے، کیسے کسی کو عید کی مبارکباد دی جاسکتی ہے،یقینا یہ بہت مشکل کام ہے، رسم دنیا نبھانے کیلئے دل کے زخموں کو دباتے ہوئے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے جب میں احباب سے ملتا ہوں ،تو دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہوئی درد کی شدید لہر مجھے میرے اپنوں کے درد سے لاتعلق اور بیگانہ نہیں رہنے دیتی،مجھے خوش ہونے والوں کی خوشیوں میں شریک نہیں ہونے دیتی،مجھے عید مبارک نہیں کہنے دیتی ۔

 مشہور صحافی روبینہ فیصل - کینیڈا

عید یوں بھی منائی جاتی ہے

... ہم جیسے لوگ تو اوسط ذہنی صلاحیتوں اور اوسط قسمتوں کے ساتھ بے رنگ اور اکتاہٹ کی حد تک ہموار سی زندگیاں اور عیدیں گذارتے ہیں اور عام سی طبعی موت مر جاتے ہیں ۔ پاکستان میں ہوں ، کینڈا میں ہوں یا آسٹریلیا میں ۔۔

انوکھا پن تو ملاحظہ ہو ان غرباءکی عید میں جو اسے منانے سے قبل ہی ایسی موت مرگئیں جو شائد ان کا مقدر نہیں تھی ۔ وہ رمضان میں پانی اور شائد نمک کے ساتھ روزہ رکھ کر اس جگہ قطار میں لگے مر گئیں جہاں سے انہیں ایک آٹے کی تھیلے ، ایک چینی کا لفافہ اور ایک گھر کا ڈبہ ملنا تھا ۔ شائد چاول اور سویاں بھی مل جاتیں ۔

وہ مخیر حضرات جو اپنے لئے آخرت کی جنت اور غریبوں کے لئے ایک مہینے تک یا کم از کم پندرہ دن کی ہی سہی روٹی کا سامان بانٹ رہا تھا ،اور ان غریب عورتوں کی جھولی کی بدقسمتی تو دیکھو کہ وہ وہاں سے بھی اپنے بچوں کی ایک وقت کی روٹی اور اپنے افطار کاسامان اس میں نہ بھر سکیں ۔مفت کا راشن لینے گئیں اور جھولی میں موت بھر لائیں ۔۔

ہسپتال کے کمرے میں سفید چادروں میں لپٹی ، ادھ کھلی آنکھوں والی ان عورتوں کی لاشیں ، جو عارضی بھوک مٹانے والی قطار میں کھڑی ہوکر ابدی نیند بٹور لائیں ۔اخبار کے صفحے پر اس سے زیادہ موت چھائی میں نے کبھی بھی نہیں دیکھی ۔ کھوڑی گارڈن کی ان شہید خواتین کو کیا تمغہ ملے گا ۔۔ سنا ہے ان کے لواحقین کو جو عید پر اپنا سینہ کوٹ کوٹ کر انہیں یاد کریں گے اور جن کے کلیجے ان کے جسموں سے نکلتے محسوس ہوتے رہیں گے ، حکومت نے انہیں ایک ایک لاکھ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

۔۔۔ نہ جانے کتنی ماؤں نے اپنا سینہ اس غم سے پیٹ لیا ہوگا کہ وہ اس قطار میں کیوں نہ ماری گئیں ۔۔ ان کے بچوں کو ایک لاکھ تو مل جاتا ۔۔ یہ ہے انوکھی عید ۔۔ یہ ہیں ذکر کے قابل تذکرے ۔۔

... دوسری طرف اینکر پرسنز اور صحافیوں کے اعزاز میں دئے گئی عالی شان افطاری سے خطاب فرماتے ہوئے ، ایوان صدر کے اندر موت سے کوسوں دور ہوکر بیٹھے ہوئے ، ڈائننگ ٹیبل پر ان لاشوں کے ایندھن سے تیار کردہ کھانوں کی خشبوؤں کو سونگھتے ہوئے ۔ہمارے صدر صاحب فرمارہے تھے کہ :

مشرف کو محفوظ راستہ دینے والے ملکی اور بین الاقومی لوگوں کی میٹنگ میں وہ بھی شامل تھے اور انکی رائے بھی یہی تھی کہ ۔۔۔بقول ان کے ۔۔مجھے امید ہے پرویز مشرف گولف کھیلں گے ۔ ہوں ۔ یہ ہے ہماری قوم کی عیدوں ،شبراتوں کی کہانی ۔

... زرداری کے اس بیان سے مجھے وہ مردار جانور کی لاش یاد آگئی جس پر مکھیاں بیٹھی سستا رہی تھیں کہ ایک شخص نے آکر انہیں اڑا دیا ۔ وہاں پہلے سے موجود ایک اور شخص نے مکھیاں اڑانے والے سے کہا یہ تم نے کیا کیا ... بے وقوف یہ مکھیاں تو اس مردار سے سیر ہوچکی تھیں ، ان کا پیٹ بھر چکا تھا ،یہ تو اب اسے کوئی تکلیف دینے کے قابل نہیں رہ گئی تھیں اب تم نے انہیں اڑا دیا ہے ، تو نئی مکھیاں آئیں گی اور نئے سرے سے اس مرے ہوئے جانور کا خون چوسنے لگ جائیں گی۔

تو دو انتہاؤں کے انوکھے پن کی انوکھی عید ۔ روٹی کے لئے لگی ہوئی قطار میں بھگڈراور روٹی کے ڈھیر پر بیٹھے گدھوں میں مفاہمت ۔لکھنے کے قابل تو یہ مناظر ہیں ۔ہم جیسے اوسط زندگی اور موت گذارنے والے ۔۔ ہم کیا لکھیں کہ عید کیسے منائی جاتی ہے ۔۔ ہمارے آنگنوں میں عید تو ایک ہی طرح اترتی ہے ۔ کہیں چوڑیاں ، اور کہیں مہندی ، چاند راتیں اور عید میلے ،سویاں اور شیر خورمے ، چم چم کرتے لباس اور عیدی کے نوٹ ۔۔کیا لکھا جائے اس پر ؟

از مدیر اعلی عالمی اخبار بابا صفدر ہمدانی - لندن

دوستو کونسی عید اور کہاں کی عید ؟ا

... بات ہو رہی تھی کہ عید الفطر پر کہ کچھ لکھ دوں  ... [تو] عید پر نا اتفاقی عید کے چاند سے شروع ہوجاتی ہے جس پر اخبار کے ایڈیٹر کی طرح کوئی مولوی ایک دوسرے سے متفق ہونا ضروری نہیں سمجھتا  ۔ جانے کیسے پاکستان کے سارے صوبوں میں صوبہ سرحد کا چاند ھمیشہ ایک دن پہلے نکل آتا ہے ۔کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے اگر سارے پاکستانی مل کر ایک کام کریں گے تو وہ ایک غلط کام کی طرح باعث تعزیر ھو جائےگا ۔ یکجہتی کی سزا سے بچنے کی خاطر پاکستانی قوم کہیں کسی سر زمین پر  بھی کوئی کام مل کر نہیں کرتی ۔

عید پر ایک ... رسم ہوتی ہے “عیدی “ لینے اور دینے کی ۔  امسال تو پاکستانی حکمران  عید سے پہلے ہی “ امریکن عیدی “ وصول کرنے میں لگے رہے  ۔ کہیں عوام کے خون کی عیدی سوات اور دیر سے  لے رھے ہیں توکہیں اس کے پسینے کی عیدی ہر شہریوں  سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورت میں  وصول رہے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کی اتنی مصروفیت کبھی دیکھی نہ سنی کہ دن رات کے اس محنت مسلسل نے انہیں تھکا سا ڈ