8 جنوری 2021 - 20:41
پاکستانی حکومت اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے/ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے اصلی دشمن ہیں

آیت اللہ اراکی نے امریکہ اور اسرائیل کو مسلمانوں کا اصل دشمن قرار دیا اور کہا: ہمیں نوجوانوں کو اس نکتے سے آگاہ کرنا ہوگا۔ دشمن، انسانیت کے ان خونخوار دشمنوں سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں داعشی دھشتگردوں کے ذریعے بہیمانہ انداز میں ۱۱ کانکنوں کے قتل کے خلاف حوزہ علمیہ قم میں موجود پاکستانی طلاب اور علماء نے ایک احتجاجی دھرنا دیا۔
ایران کے شہر قم میں واقع "مدرسہ علمیہ حجتیہ" میں ہونے والے اس احتجاجی جلسے میں علماء اکرام اور طلاب نے حاضر ہو کر شہداء کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ملک عزیز میں ہونے والی دھشتگردی کا سدباب کرے۔
احتجاجی جلسے میں پاکستانی علماء کی شعلہ بیان تقاریر کے علاوہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن آیت اللہ شیخ "محسن اراکی" نے خصوصی خطاب کیا۔


آیت اللہ محسن اراکی نے پاکستان میں شیعوں کے قتل عام پر تعزیت پیش کی اور کہا: " داعشی دھشتگردوں کے ذریعے اسلامی برادری کی خدمت کرنے والے کارکنوں کے سر قلم کیا جانا ایک دلخراش، خوفناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: دنیا میں دو طرح کے معاشرے پائے جاتے ہیں ایک حق پر مبنی اور دوسرا باطل پر مبنی، وہ معاشرہ جو حق پر قائم ہے اسے آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا، امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ اگر کسی قوم کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہو اس قوم کو کوئی کبھی ختم نہیں کر سکتا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے ممبر نے مزید کہا: باطل معاشرہ باطل پر مبنی ہے اور اگر مٹ جائے تو بالکل نابود ہو جاتا ہے باطل معاشرہ ایسے درخت کے مانند ہے جس کی کوئی مضبوط جڑ نہیں ہوتی اسے اگر اکھاڑ پھینکا جائے تو فنا ہو جاتا ہے۔
آیت اللہ اراکی نے اسلامی امت میں وحدت کے محور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ چیز جو لوگوں کو محمد اور آل محمد (ص) کی امت میں اکٹھا کرتی ہے وہ رسول اسلام (ص) اور اہل بیت(ع) کی محبت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: کیوں امریکہ سردار قاسم سلیمانی کو شہید کرنا چاہتا تھا؟ اس کی دشمنی ہمارے ساتھ نہیں ہے بلکہ رسول اکرم (ص) اور اہل بیت اطہار کے ساتھ ہے اور وہ ہمیں محمد اور آل محمد (ص) کا تسلسل سمجھتے ہیں۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے ممبر نے اس بات پر زور دیا کہ " پاکستان میں شیعوں کے قتل کے جرم کے خلاف متعدد اقدامات اٹھائے جائیں" اور مزید کہا: "پہلی فرصت میں، دہشت گردوں کو ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے مالی اور سیاسی امداد فراہم کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جانا چاہیے۔
آیت اللہ اراکی نے پاکستان کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "یہ ملک دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا اسلامی ملک ہے اور پاکستان نے فلسطین کی حمایت میں ایک مضبوط موقف اختیار کیا ہے اور کچھ اس وجہ سے پاکستان کو امن و سلامتی سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا: ہم ساری دنیا کو امام زمانہ علیہ السلام کا دائرہ حدود سمجھتے ہیں اور حضرت مہدی علیہ السلام کی امامت اصل امامت ہیں۔ اسلامی ملک کی چھتری کے زیر سایہ رہنے والے ہم شیعہ لوگ، ذمہ د ار ہیں۔ اسلامی ملک کا علاقہ دارالسلام ہے، اور اسلامی معاشرے میں ہر ایک کو امن حاصل ہونا چاہئے، اور ایسے معاشرے کو معاشی نشوونما سے لطف اندوز ہونا چاہئے۔
"مجلس خبرگان رہبری" کے رکن نے مزید کہا: "دارالسلام کے مقابلے میں ہماری کچھ داریاں ہیں اور ہمیں دارالسلام کے باشندوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں ، میڈیا کو تشکیل دینا اور دشمنوں کے خلاف دارالسلام میں امت اسلامیہ کی حمایت کرنا ہماری ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔ اگر اسلامی ممالک میں تمام امریکی سامان کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا تو امریکہ کو سخت نقصان پہنچتا۔
آیت اللہ اراکی نے امریکہ اور اسرائیل کو مسلمانوں کا اصل دشمن قرار دیا اور کہا: ہمیں نوجوانوں کو اس نکتے سے آگاہ کرنا ہوگا۔ دشمن، انسانیت کے ان خونخوار دشمنوں سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "سن 1991 میں عراق کے انقلابی عوام نے ملک کے بہت سے حصوں کو صدام کی حکومت کے تسلط سے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی، لیکن امریکہ کی حمایت سے اس حکومت نے انقلابیوں کو پسپا کر دیا اور لاکھوں عراقی شیعہ صدام کی حکومت کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
انہوں نے معاشرے کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریوں کے احساس کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ہمارے پاس مختلف ممالک میں بہت سے امیر شیعہ ہیں ، ان لوگوں کو مذہب اہل بیت (ع) کے تئیں احساس ذمہ داری کرنا چاہیے۔ بہت سے شیعہ مختلف ممالک میں شہید ہوئے ہیں ، لہذا ایک ایسا ادارہ قائم ہونا چاہئے جس کے ذریعے ان شہدا کے اہل خانہ کی دستگیری کی جا سکے۔
آیت اللہ اراکی نے آخر میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عوام کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
خیال رہے کہ ۲ جنوری رات کو کوئٹہ کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ۱۱ شیعہ مسلمانوں کو داعشی عناصر نے بے دردی سے ذبح کر کے شہید کر دیا۔ جس کے بعد تاحال پورے پاکستان میں اس وحشیانہ قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

..............

242