اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کشمیر کے مسئلے پر نئی دہلی اور اسلام آباد کے تعلقات میں کشیدگی جاری ہے اور ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے پاکستان میں ہندوستان کے ہائی کمشنر گوتم بمباوالا کی تقریر منسوخ کیے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
ہندوستان نے کراچی چیمبر آف کامرس میں گوتم بمباوالا کی تقریر کی منسوخی کو اپنے ہائی کمشنر کی بےاحترامی اور توہین قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے تشدد میں پاکستان کے کردار کے بارے میں گوتم بمباوالا کی اسلام آباد میں تقریر ان کی کراچی میں تقریر کی منسوخی کا سبب سمجھی جاتی ہے۔
تقریبا دو ماہ سے اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں بھی کشیدگی آئی ہے، کیونکہ ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر کے حالات خراب کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ جبکہ پاکستان ہمیشہ کشمیری گروہوں کی اخلاقی حمایت پر زور دیتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں ہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی وزارت خارجہ میں طلبی دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے کہ جس سے نہ صرف ان کی مشکلات کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے کشمیر کا بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ اسی بنا پر ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ نئی دلی سرکار کے پاس مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں اور اسے ہر صورت اسلام آباد سے مذاکرات کرنا ہی پڑیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے جو چاہے کر سکتی ہے لیکن اس سے کشمیر کا بحران حل نہیں ہو گا۔
کشمیر کے حالات خاص طور پر اس کے سیکورٹی حالات پر ایک نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے کا بحران نہ صرف کم نہیں ہوا ہے بلکہ اس میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے حتی ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے دورۂ سری نگر اور جموں سے بھی اس بحران کو کم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے، کیونکہ علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا جس سے وہ برافروختہ ہو گئے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں ریفرینڈم کرا کے حل نہ کیا گیا تو اس سے نئی دہلی اور اسلام آباد کے تعلقات بدستور کشیدہ رہیں گے اور ان کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی ختم نہیں ہو گی۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ عالمی اداروں میں اٹھائے گا تاکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہندوستان پر دباؤ بڑھے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب نئی دہلی کی حکومت کسی بھی طرح مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے پر مائل نہیں ہے اور وہ پاکستان کے اس فیصلے کی سخت مخالف ہے۔
کشمیر برصغیر میں اپنی اسٹریٹیجک محل وقوع کی وجہ سے ہمیشہ امریکہ اور یورپی حلقوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس بنا پر پاکستان میں بہت سے ماہرین کے خیال میں اگر ہندوستان کی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یا پاکستان اور کشمیری عوام کے نمائندوں کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بنیادی طور پر حل کرنے کے لیے قدم نہ اٹھایا تو مسئلہ کشمیر میں اغیار کی مداخلت کا امکان موجود ہے۔ بعض امریکی حکام کے یہ بیانات کہ پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقے اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کا علاقہ دہشت گرد اور تشدد پسند گروہوں کے لیے پرامن مقام میں تبدیل ہو چکے ہیں، اس علاقے میں ان کی ممکنہ مداخلت کے لیے ایک بہانہ سمجھے جاتے ہیں۔
بہرحال پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف اور ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے تعلقات کو موجودہ اختلافات پر توجہ دیے بغیر جاری رکھیں گے اور ان میں موجود مشکلات کو حل کرنے کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں اور امن مذاکرات کے عنوان کے تحت ان کمیٹیوں نے مذاکرات کے کئی دور بھی انجام دیے۔ لیکن ہندوستان میں موجودہ بی جے پی کی قوم پرست حکومت کہ جس نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا رکھی ہے، سخت پالیسیاں اختیار کر کے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کے انعقاد میں رکاوٹ بن گئی ہے کہ جس کا نتیجہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالات کا مزید بحرانی ہونا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲