26 اگست 2016 - 17:53

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ریاست کے روز افزوں ابتر حالات کو بھارتی مظالم کا فطری ردعمل قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جبروتشدد ، طاقت یا مراعاتی حربوں سے وادی کی سلگتی صورتحال میں بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ متحدہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام کے تحت انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی قصبہ بڈگام میں اپنے تنظیمی رفقاءپر مشتمل جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اس وقت گرفتار کئے گئے جب جلوس نے عید گاہ سرینگر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ آزادی کے حق میں اور گزشتہ 49 دن سے جاری بھارتی فورسز کی ظلم و بربریت اور شہری ہلاکتوں کے لامتناعی سلسلے کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے شرکائے جلوس نے جب ڈی سی آفس روڈ بڈگام کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود فورسز اہلکار جلوس پر ٹوٹ پڑے اور آغا صاحب کو تنظیم کے سرکردہ رکن غلام محمد ناگو سمیت گرفتار کیا گیا۔ ادھر آج 7 ویں جمعہ کو بھی آغا صاحب مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی سے محروم کئے گئے۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ریاست کے روز افزوں ابتر حالات کو بھارتی مظالم کا فطری ردعمل قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جبروتشدد ، طاقت یا مراعاتی حربوں سے وادی کی سلگتی صورتحال میں بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے راجناتھ سنگھ اور محبوبہ مفتی کی مشترکہ پریس کانفرنس کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا غربت و اخلاص اور بے روزگاری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ بھارتی وزیر داخلہ شاید اس بات سے واقف ہونگے کہ ریاست جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمین کی کل تعداد سے زیادہ کشمیر میں غیر ریاستی مزدور اور پیشہ ور لوگ روزگار کماکر اپنے کنبوں کی کفالت کرتے ہیں اور اس سے زیادہ بھارتی بھکاری کشمیریوں کی خیرات پر پل رہے ہیں۔ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پتھر کی لکیر سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ رائے شماری مکمل طور پر ایک جمہوری عمل ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا مدعی بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے انکار کرکے جمہوریت کی دھجیاں اڑارہی ہے۔ آغا صاحب نے بھارتی وزیر داخلہ کے دورہ کشمیر کو ایک لاحاصل مشق سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ راجناتھ سنگھ کے حالیہ کشمیر دورے صرف اور صرف کشمیریوں کی سرکوبی اور موجودہ احتجاجی تحریک کو کچلنے کی حکمت عملی تک محدود رہے۔ پیلٹ گن کے متبادل کے طور پر کسی اور مہلک ہتھیار کے استعمال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ بھارت کسی بھی نئے مہلک ہتھیار کا تجربہ کشمیریوں پر کررہا ہے۔ آغا صاحب نے قائد تحریک جناب سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی انتظامیہ کی بدحواسی سے تعبیر کیا۔انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے آغا صاحب اور غلام محمد ناگو کی گرفتاری کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ احتجاجی تحریک بہر صورت تب تک جاری رہے گی جب تک حکومت ہند قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی کے چار نکاتی تجویز پر کسی مثبت ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیری محکوم قوم نے سنگین سے سنگین حالات میں گزربسر کا ہنر سیکھ لیا ہے ۔ بھارت کے انتقام گیرانہ حربے کشمیریوں کے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کرسکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲