18 اگست 2016 - 15:44
لیبیا ابھی بھی داعش کا گڑھ ہے: عبدالباری اطوان

عبدالباری اطوان نےکہاکہ بہت سے قبائل کہ جنہوں نے قذافی کا تختہ الٹانے میں مغربی ممالک کی حمایت کی تھی کو اب تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جس وجہ سے ان کے نوجوان داعش میں شامل ہونے پر مجبورہورہے ہیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار اور روزنامہ رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر ’’عبدالباری اطوان ‘‘نے گلف نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ لیبیا کے شہر سرت میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی شکست کا مطلب یہ نہیں کہ اس گروہ کا اس ملک میں مکمل خاتمہ ہوچکا ہے ۔

انہوں نےکہاکہ مغرب لیبیا میں پوری طرح ناکام ہوچکا ہےا ورسرت کے چند علاقوں سے داعش کا صفیا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس تکفیری دہشتگرد گروہ کا وجود لیبیا میں ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ لیبیا کے سرت شہر جوکہ داعش کا اصلی گڑھ تصور ہوتا ہےسے کنٹرول کھونے کےبعد یہ تکفیری گروہ لیبیا کے دیگر علاقوں میں اپنی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شدت لاسکتا ہے۔

انہوں نےکہاکہ داعش کے خلاف جنگ میں لیبیا کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیوں کی توقع کی جارہی ہے۔

انہوں نےکہاکہ لیبیا کی مرکزی ریاستوں میں داعش اوردیگر دہشتگرد گروہوں کا کوئی وجود نہیں ہے ۔

عبدالباری اطوان نےکہاکہ بہت سے قبائل کہ جنہوں نے قذافی کا تختہ الٹانے میں مغربی ممالک کی حمایت کی تھی کو اب تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جس وجہ سے ان کے نوجوان داعش میں شامل ہونے پر مجبورہورہے ہیں ۔

انہوں نےکہاکہ سرت میں داعش پرفتح لیبیا کی جائز حکومت کہ جس سے عالمی برادری تسلیم کرچکی ہیں ۔

گلف نیوزکےساتھ ہی انٹرویو میں امریکہ تجزیہ کار اورانسداد دہشتگردی کے ماہر اتھان کوہن نےکہاکہ سرت شہر سے کنٹرول کھونا داعش کیلئے شام وعراق میں ہورہی  ناکامیوں سے بڑی شکست ہوگی ۔

انہوں نےکہاکہ اس شکست سے یہ گروہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبورہوگا ۔

انہوں نےکہاکہ گذشتہ چند ماہ سے ہم اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ داعش اوراس جیسے دہشتگردوں کا زوال ہورہا ہے ۔

ادھر امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اعلان کیاہےکہ لیبیا کے سرت شہر میں ابھی بھی دہشتگرد سینکڑوں میں موجود ہیں ۔

امریکی و فرانسیسی ذرائع کے مطابق لیبیا بھر میں داعشی عناصر کی تعداد 5 ہزار سے 6 ہزار کےقریب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲