اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ متحدہ مزاحتمی قیادت کی طرف سے UNO آفس سونہ وار کی طرف مارچ کے پروگرام کے تحت انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اورحریت کانفرنس کے سینٔر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں موصوف کی رہائش گاہ سے احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ آغا صاحب گزشتہ 40 روز سے متواتر خانہ نظر بند ہیں تاہم بڈگام کے کرب وجوار سے آئے ہوئے سینکڑوں نوجوان موصوف کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے ۔ آغا صاحب نے اپنی خانہ نظر بندی کو نظر انداز کرتے ہوئے جلو س کی قیادت کی۔ فورسز نے سڑک کی مکمل ناکہ بندی کی اور جلوس کو آگے جانے سے روکا ۔ جلوس میں شامل لوگوں نے سڑک پر دھرنا دیا اور کافی دیر تک آزادی کے حق میں اور بھارتی فورسز کی جاری جبروبربریت کے خلاف نعرہ بازی کی بعد میں جلوس پُرامن طور پر منتشر ہوا۔ اس موقعہ پر آغا صاحب نے کہا کہ رواں احتجاجی تحریک تب تک جاری رہے گی جب تک بھارت قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی کی چار نکاتی تجویز پر مثبت رد عمل کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ آغا صاحب نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیرسے متعلق اپنی پاس قراردادوں کی روشنی میں تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی ذمہ داریاں پورا کریں اور کشمیر میں بھارتی فورسز کی جبروبربریت پر روک لگانے کیلئے موثر اقدامات کرے۔ آغا صاحب نے آری پانتھن بیروہ میں فورسز کے ہاتھوں چار بٹہ مالو میں ایک اور پلوامہ میں ایک جوان کی شہادت پر شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ بھارت کی مودی سرکار نے تنازعہ کشمیر اور کشمیر میں جاری ہمہ گیر تحریک سے دامن چھڑانے کیلئے RSS اور دیگر انتہا پسند ہندوقوتوں کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کے وسیع پیمانے پر قتل عام کا جو سلسلہ گزشتہ 40 روزسے شروع کررکھا ہے اس سے کشمیری قوم اپنے حق خود اردیت سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔ آغا صاحب نے گزشتہ رات علاقہ سوئبگ اور وادی کے دیگر علاقہ جات میں فورسز کی طرف سے رات کے وقت مکانوں کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے ہمہ گیر سلسلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سوئبگ میں فورسز نے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی جو بے رحیمانہ کاروائیاں عمل میں لائی وہ ناقابل برداشت ہے۔تنظیم کے سرگرم کارکن غلام محمد ناگو بھی گزشتہ 7 روز سے خانہ نظر بند ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲