اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر ریفرینڈم مارچ کو ناکام بنانے کے لیے وادی کے تمام اضلاع میں سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ سخت کرفیو اور بندشوں کے باوجود سری نگر سمیت وادی کے سبھی علاقوں میں لوگوں نے مظاہرے کیے اور ہندوستان مخالف نعرے لگائے۔
پولیس نے سرکردہ کشمیری رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور مسرور عباس انصاری کو درجنوں افراد کے ساتھ اس وقت حراست میں لے لیا جب انہوں نے ریفرینڈم مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر آنے کی کوشش کی۔
مقامی ذرائع کے مطابق پلوامہ ضلعے کے ملنگ پورہ نامی علاقے میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے زبردست شیلنگ کی اور چھرے والی بندوقوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد شدید زخمی ہوگئے۔
بانڈی پورہ اور کولگام کے علاوہ کشمیر کے سبھی اضلاع سے ایسے مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس نے تیرہ اور چودہ اگست کو لوگوں سے ریفرینڈم مارچ میں حصہ لینے کی اپیل کی تھی جبکہ احتجاج اور ہڑتال کا دائرہ اٹھارہ اگست تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ آٹھ جولائی کو ہندوستانی فوج کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر برھان وانی کے قتل کے بعد سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالات سخت کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری پرتشدد مظاہروں میں ساٹھ سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
.......
/169