اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق "فتح گولن" سے وابستہ مراکز پر تالے ڈالے جانے کے لئے پاکستان پر ترکی کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ مبینہ طورپرترکی کی حالیہ ناکام فوجی بغاوت میں ملوث اپوزیشن رہنما " فتح اللہ گولن" سے وابستہ تمام مراکز کو بند کرنے کے لئے انقرہ نے اسلام آباد پراپنا دباؤ بڑھا دیا ہے۔
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت ترکی نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ " فتح اللہ گولن" سے وابستہ مراکز کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ بنابریں انہیں فوری طور پربند کر دیا جائے۔
پاکستان کی حکومت کے لئے انقرہ کی اس درخواست کو ماننا مشکل نظر آرہا ہے اس لئے مسلم لیگ کی حکوت مخمصے میں گرفتار ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن سے وابستہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو بند کئے جانے کی صورت میں ہزاروں پاکستانی طالب علموں کا کیریئر تباہ ہوجائے گا۔
اسلام آباد سے پریس ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کا پاکستانی عوام نے، جو اس ناگوار صورتحال کا کئی بار تجربہ کرچکے ہیں، بھرپورانداز میں خیر مقدم کیا ہے۔ ترکی کی حکومت اس ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار اپوزیشن لیڈر" فتح اللہ گولن" کو سمجھتی ہے اسی بنا پر وہ پاکستان میں چلنے والے ان تمام تعلیمی مراکز کو بند کئے جانے کی خواہاں ہے جو " فتح اللہ گولن" سے وابستہ ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ دس ہزار طالبعلم اور ایک ہزار پانچ سو ملازمین امریکا میں مقیم ترکی کے مذہبی رہنما " فتح اللہ گولن" کے مراکز سے وابستہ ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے "فتح اللہ گولن" کے زیرانتظام چلنے والے مراکز دہشت گردی کے چینلز کی روش پر کاربند ہیں جن کا پوری دنیا میں جال بچھا ہوا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد" فتح اللہ گولن" سے وابستہ مراکز کے خلاف ٹھوس قدم اٹھا رہا ہے۔ مقامی سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان ترکی کی درخواست کا پوری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے اور پہلے قدم کے طور پر فتح اللہ گولن کی تنظیم کی سیاسی اور نظریاتی کلاسوں کے انعقاد سے متعلق تشہیراتی بینرز کو اسلام آباد میں واقع ایک عمارت سے اتار لیا گیا ہے۔
.....
/169