اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردانہ حملے داعش کی حقیقی ماہیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردانہ حملے میں شیعہ اور سنی دونوں نشانہ بنے ہیں اس لیے دونوں کو انتہا پسندوں کو شکست دینے کے لیے متحد ہو جانا چاہیے۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بھی ایک بیان میں کابل خودکش حملے کو غیرانسانی اور غیراسلامی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بےگناہ لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنا ہمیشہ اور ہر جگہ قابل مذمت ہے اور اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کابل دہشت گردانہ حملے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جیسا کہ ہم نے بارہا اعلان کیا ہے کہ تمام ملکوں اور عالمی برادری کے مشترکہ تعاون اور ادراک کے بغیر دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں ہو گا۔
واضح رہے کہ کابل میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے میں تقریبا اسی افراد جاں بحق اور تین سو زخمی ہو گئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تین خودکش حملہ آور کابل میں مظاہرے میں شریک افراد پر حملہ کرنا چاہتے تھے ان میں سے دو نے خود کو مظاہرے میں دھماکے سے اڑا لیا جبکہ تیسرے کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
دہشت گرد گروہ داعش نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169