20 جولائی 2016 - 10:57
مقبوضہ کشمیر، میڈیا ایمرجنسی جاری، اخباری مدیران حکومتی یو ٹرن سے برہم

اخباری مدیران نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ایک طرف حکومت اخبارات کی اشاعت روکتی ہے، اسکی پولیس پرنٹنگ پریس پر چھاپے مارتی ہے اور پرنٹ کاپیاں ضبط کرکے صاف الفاظ میں اخبارات کی اشاعت روکنے کی ہدایت جاری کرتی ہے۔ ایسے میں اب اخبارات کو کس کی اجازت پر شروع کیا جائے جب حکومت اس قدغن کو بھی تسلیم نہیں کررہی ہے جو اس نے کئی روز سے یہاں کے اخبارات پر لگائی تھی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اخبارات کی اشاعت پر قدغن لگانے سے مقبوضہ کشمیر کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے صاف انکار پر برہم وادی کشمیر کے اخبار مالکان اور مدیران نے حکومتی پالیسی واضح ہونے تک اخبارات کی اشاعت روکنے کا فیصلہ لیا ہے اور حکومت کو بدھ کی دوپہر تک کا وقت دیا ہے۔ پریس کالونی میں اخبار مدیران و مالکان کی مشترکہ میٹنگ کے دوران اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ حکومت اب اپنے اقدام سے ہی نظریں چرا رہی ہے اور یہ جھوٹ بول رہی ہے کہ اس نے یہاں کے مقامی اخبارات پر پابندی عائد نہیں کی تھی۔ پریس کالونی میں ہی میڈیا کے سامنے بات کرتے ہوئے مدیران و مالکان اخبارات نے کہا کہ گذشتہ 4 روز سے حکومت نے اخبارات کی اشاعت و ترسیل پر پابندی عائد کررکھی ہے لیکن اب جبکہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھا اور بین الاقوامی سطح پر اس سرکاری اقدام کی مذمت کی گئی تو وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سرکاری قدغن سے یہ کہتے ہوئے پلو جھاڑ دیا کہ ”سرکار نے اخبارات کی اشاعت و ترسیل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی“۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو نے محبوبہ مفتی سے گذشتہ روز بات کی اور اس معاملے میں تفصیلات پیش کرنے کیلئے کہا۔ محبوبہ مفتی نے وادی میں اخبارات کی ترسیل و اشاعت پر قدغن کے معاملے میں مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو سے بات کی اور یہ واضح کیا کہ یہاں اخبارات کی اشاعت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اخباری مدیران نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ایک طرف حکومت اخبارات کی اشاعت روکتی ہے، اسکی پولیس پرنٹنگ پریس پر چھاپے مارتی ہے اور پرنٹ کاپیاں ضبط کرکے صاف الفاظ میں اخبارات کی اشاعت روکنے کی ہدایت جاری کرتی ہے۔ ایسے میں اب اخبارات کو کس کی اجازت پر شروع کیا جائے جب حکومت اس قدغن کو بھی تسلیم نہیں کررہی ہے جو اس نے کئی روز سے یہاں کے اخبارات پر لگائی تھی۔

اخبار مالکان اور مدیران کی مشترکہ میٹنگ کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے حکومت نے اخبارات پر پابندی عائد کی اور اخبارات کے کئی چھاپ خانوں پر پولیس چھاپے کے ذریعے کئی ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اسکے بعد سینئر وزیر اور حکومت کے ترجمان نے اس قدغن کی توثیق کی۔ اب حکومت کس طرح اس پابندی سے انکاری ہے ۔بیان کے مطابق سوموار کو وزیراعلیٰ کے صلاح کار پروفیسر امیتاب مٹو نے اخبار مدیران و مالکان سے رابطہ کیا اور اس قدغن کو ایک غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے معذرت پیش کی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے اسی اثناء میں یہ پروپگنڈا کیا کہ اس کی جانب سے یہاں کے اخبارات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی، لہٰذا ایسی صورتحال میں اخبارات کیلئے اس کنفیوژن بھرے ماحول میں اشاعت و ترسیل کا کام شروع کرنا ممکن نہیں ہے۔ مدیران و مالکان اخبارات نے پروفیسرمٹو سے کہا کہ پہلے حکومت اس بات کو تسلیم کرے کہ اس نے اخبارات پر پابندی عائد کی تھی اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اخبارات کی ترسیل پر قدغنیں نہیں لگائی جائیں گی جبکہ اسکے عملے کو بھی کرفیو کے دوران چلنے پھرنے سے روکا نہیں جائے گا۔ بیان کے مطابق ابھی تک حکومت کی جانب سے اس معاملے پر واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے لہٰذا فی الحال اخبارات کی اشاعت کو بحال کرنا ابھی ممکن نہیں ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق بدھ 2 بجے تک حکومتی اعلان کا انتظار کیا جائے گا اور اسکے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

.......

/169