10 جولائی 2016 - 21:24
آل سعود اللہ کی عذاب سے نہیں پچیں گے: ایرانی ادارہ حج و زیارت کے سربراہ

ایران کے ادارہ حج و زیارت کے سربراہ سعدی اوحدی نے سانحہ منی کو ایک عظیم ٹریجڈی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کو حج سے محروم کرنے والے عذاب الہی سے نہیں پچیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مشہد مقدس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ادارہ حج و زیارت کے سربراہ سعید اوحدی کا کہنا تھا کہ سانحہ منی ایک عظیم ٹریجڈی تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ اس سے کہیں زیادہ دردناک اور المناک تھا جتنا اس کے بارے میں اب تک بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں آل سعود کی بدانتظامی اور نااہلی کے خلاف صرف ایران نے پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی اور چار سو انیس شہیدوں کی لاشیں سعودی حکام کے چنگل سے واپس لے لیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودیوں نے پانچ ہزار سے زیادہ حاجیوں کے بے جان جسموں کو دوسو کنٹینروں میں بھر کر مکہ کی جھلسا دینے والی گرمی میں چھوڑ دیا تھا جبکہ یہ کنٹینر صرف چار ڈگری تک ٹھنڈک پیدا کرسکتے تھے یہی وجہ تھی کہ لاشیں سیاہ اور مردہ خانوں کی زمین خون سے اٹی ہوئی تھی۔

ایران کے ادارہ حج و زیارت کے سربراہ نے کہا کہ جب وزیر صحت کی سربراہی میں ایرانی وفد سعودی عرب پہنچا تو ایک سو چودہ ایرانی شہیدوں ک شناخت ہوچکی تھی لیکن سعودی حکام مختلف بہانوں کے ذریعے ایک بھی شہید کی لاش ایران منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔

سعید اوحدی نے کہا کہ سعودی حکام نے سانحہ منی کے ایک ہفتے کے بعد ایرانی وفد کے ساتھ پہلی ملاقات کی حامی بھری لیکن عین وقت پر بتایا گیا کہ سعودی وزیر صحت کو ریاض میں کسی اجلاس میں شرکت کرنا ہے لہذا وہ اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور یہ ایک طرح کی کھلی بد اخلاقی اور لاشوں کی واپسی کے عمل میں رخنہ اندازی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اجلاس جاری تھا کہ، شمالی ایران میں رہبر انقلاب اسلامی نے خطاب کیا جس میں آپ نے سعودی حکام کو سخت متنبہ کیا تھا اور اس کے بعد سعودی وزارت خارجہ نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایرانی وفد کے ساتھ تعاون کرنا شروع کیا۔

ایران کے محکمہ حج و زیارت کے سربراہ نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے انتباہ کے بعد، تابوتوں، کور اور ہوائی جہازوں کی کمی نیز لاشوں کے خراب ہونے کا بہانہ کرکے انہیں وہیں دفن کرنے پر اسرار کرنے والے سعودی حکام کا رویہ بدل گیا اور انہوں نے ایران کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہر چیز آمادہ ہے۔

سعید اوحدی نے مزید کہا کہ سعودی حکام اب تک یہ دعوی کر رہے ہیں کہ گزشتہ سال سانحہ منی میں صرف سات سو افراد شہید ہوئے ہیں حالانکہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ ہزار سے زیادہ حاجی سعودی حکام کی نالائقی کی بھینٹ چڑھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایرانی حجاج کرام کو حج سے محروم کرنے والے عذاب الہی سے نہیں بچیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی حکام نے غیر ضروری اور غیر منطقی شرائط عائد کرکے اس سال ایرانی مسلمانوں کو حج کی سعادت سے محروم کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169