12 جون 2016 - 23:47

تلنگانہ حکومت دیگر آئمہ مساجد کو شہریہ دیتی ہے لیکن شیعہ علماء کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتااور نہ شیعہ علماء حکومت کے محتاج ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدرآباد، تلنگانہ حکومت دیگر آئمہ مساجد کو شہریہ دیتی ہے لیکن شیعہ علماء کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتااور نہ شیعہ علماء حکومت کے محتاج ہیں۔حکومت کوئی لالچ دیکر شیعہ علماء کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔ مولانا تقی رضا عابدی قبلہ نے آج شام علی لاج میں منعقدہ یاد خمینی  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت کسی بھی زاویہ سے عوام کے حقوق سلب نہیں کرسکتی۔ مولانا تقی رضا عابدی نے کہا کہ قطب شاہی اور آصف جاہی دور میں بھی علماء کی سرپرستی کی جاتی تھی لیکن ماضی کی حکومتوں نے کبھی علماء کی بلند کردہ آواز پر حرف شکایت بلند نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے مسلم اقلیتوں کے لئے مراعات یقینا لائق ستائش ہیں لیکن شیعہ قوم کے علماء کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ تاہم شیعہ علماء حکومت کے برائے نام نذرانہ کے محتاج نہیں ہے اور نہ وہ حکومت کی تائد میں عوام کے مفادات کے خلاف پیروی کرینگے۔مولانا تقی رضا عابدی  کہا کہ ایرانی حکومت کو تمام اقوام المسلمین تسلیم کرتے ہیں۔انہوں شیخ زکزکی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کے دوران متعدد افراد نے اپنے نوجوانوں کو حق کی بقاء کی خاطر قربان کردیا۔خود شیخ زکزکی صاحب نے کوئی رقم کے عوض قربانی نہیں دی تھی۔انہوں نے کہا کہ شاہ ایران کے آمریت اور شاہ کی مغرب پرستی کا پردہ فاش کرنے کے لئے حضرت خمینی  نے انقلاب برپا کیا۔قونسل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد آغا حسن نوریان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران میں بڑھتے ہوئے مغربی رجہان اور مذہب سے دوری کے پیش نظر حضرت امام خمینی نے عوام کو راہ مستقیم پر گامزن کرنے کیلئے جلا وطن ہوکر بھی انقلاب برپا کیا۔انہوںنے کہا کہ آج ساری دنیا حضرت امام خمینی کے مشن پر کار فرما ہیں اور ساری مملکتیں حضرت امام خمینی کے اختیار کردہ راستے کو اپنانے کی در پے ہیں۔ امام جمایت مسجد امام جعفر صادق مولانا آغا منور،مولانا محمد حسن ابراہمی، مولانا ابرا علی جعفری، مولانا مرزا علمدار علی اور دیگر موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲