اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آباد/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔اس دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، پیپلیز پارٹی کی شیری رحمن،پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈہ پور، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد ،عوام نیشنل پارٹی کے زاہد خان، جمعیت علمائے پاکستان کے پیر معصوم نقوی ،ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ابو الخیر زبیر،آل پاکستان مسلم لیگ کے ڈاکٹر امجد اور ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماوں سمیت سو سے زائد مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مرکزی رہنماوں نے وفود کے ہمراہ احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔.سیاسی و مذہبی رہنماوں نے ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی قیادت کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطالبات اصولی اور آئین پاکستان کے عین مطابق ہیں جس کے لیے ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے روز اول سے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ قوم کو کسی آزمائش یا مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ وطن عزیز کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں احتجاج کے مختلف آئینی طریقے استعمال کرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے مسلسل سرد مہری نے تشویش اور اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے اس لیے انہوں نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔احتجاجی کیمپ میں شیعہ سنی عمائدین کی آمد کا سلسلہ ابھی تک زور و شور سے جاری ہے۔ہفتہ کے روز ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ نے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک ملت تشیع کے لیے مادر وطن ہے۔عوام کی جان و مال سے کھیلنے والے دہشت گرد اور قومی سرمایہ لوٹنے والے حکمران سبھی اس ملک کے دشمن ہیں۔قائد و اقبال کے خوابوں کی حقیقی تعبیر والی ریاست کے حصول تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہم نے اس مادر وطن کو دہشت گردی کے چنگل سے آزاد کرانا ہے۔پاکستان کی تمام محب وطن طاقتوں کو پرامن پاکستان کے لیے جدوجہد میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی ایک عمل کے حامی نہیں ہیں جو جمہوری عمل میں رخنہ ڈالے۔ہمارا اختلاف نا اہل حکمرانوں کی طرز حکمرانی سے ہے جس میں دہشت گردوں کو کھلی آزادی ملی ہوئی ہے اور محب وطن جماعتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا رخ اصل اہداف کی طرف موڑا جائے تاکہ دہشت گردوں کا صفایا ہو۔حکومت ہمارا پُرامن احتجاج کو کمزوری نہ سمجھے۔عید کے فورا بعد ہمارے لانگ مارچ کو دیکھ کر ان حکومتی حاشیہ برداروں کی آنکھیں ابل آئیں گی جو ہمارے خاموش احتجاج کو بے اثر سمجھے ہیں۔ امریکہ ہوسٹن سے آئے ہوئے مسلم کانگریس کا رہنما مولانا شمشاد حیدر نے بھی احتجاجی کیمپ میں علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی اور حکومتی بے حسی پر سخت تشویش کا اظہار کیا.
.....................
242