5 جون 2016 - 14:08
شمخانی: امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ایران کو دہشتگرد قرار دینا، مغرب کی ایک بام دو ہوا کی پالیسی کی آئینہ دار ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری نے کہا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ایران کو دہشت گرد قرار دینا، مغرب کی ایک بام دو ہوا کی پالیسی کی آئینہ دار ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے تہران میں، امریکہ کی جانب سے ایران کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے بارے میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے دوران بعثی عناصر کو منظم کیا ، امریکہ صدام کو معلومات فراہم کرتا تھا اور سعودی عرب کے پیسوں سے فوجی ساز و سامان کی منتقلی کے لئے، بعض علاقائی ممالک اس کے اختیار میں تھے-

اسی طرح امریکہ نے منافقین کو بعثیوں کے لئے جاسوسی کا کام لینے پر مامور کیا تھا- شمخانی نے کہا کہ اس کے باوجود امریکیوں نے کبھی بھی منافقین کو دہشت گردوں کی لسٹ میں قرار نہیں دیا اور آج وہ داعش کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور صیہونی حکومت کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران جو تسلط پسندی اور سامراج کا مخالف ہے اسے دہشت گردی کی فہرست میں قرار دے رہے ہیں- امریکی وزارت خارجہ نے گذشتہ جمعرات کو ایک رپورٹ میں بے بنیاد دعووں کی تکرار کرتے ہوئے، ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا ہے-

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دو ہزار پندرہ میں دہشت گردی کے واقعات میں دوہزار چودہ کی نسبت تیرہ فیصد کمی دیکھی گئی لیکن اس کے خطرے میں کمی نہیں آئی جب کہ جنوبی ایشیا اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فرنٹ لائن بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران نے جوہری معاملات پر بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ معاہدہ ضرورکیا ہے لیکن اس نے حزب اللہ اور دوسری شدت پسند تنظیموں کو مالی مدد اور تربیت دینا جاری رکھا ہے اور دوہزار پندرہ کے دوران ایران دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک ابھرکرسامنے آیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169