اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے حالات دن بدن بحرانی اور خطر ناک ہو رہے ہیں ۔حیدر العبادی کی حکومت کو ایک ساتھ کچھ بنیادی مشکلوں اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔عراق میں داعش کی موجودگی، بڑے پیمانے پر بد عنوانیاں ، اقتصادی بد حالی، ایک طائفے کا استقلال کا مطالبہ کرنا ،دوسرے گروہوں کی طرف سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنا ، بیرونی ملکوں کی مداخلت وغیرہ وغیرہ نے عراق کے وزیر اعظم پر ضرورت سے زیادہ دباو ڈال رکھا ہے ۔
عراق کے وزیر اعظم کی نظر میں موجودہ حالات سے خلاصی پانے اور فساد اور ناکارہ پن سے نکلنے کا راستہ سیاسی نکتہء نظر سےکابینہ میں ردو بدل کرنا ہے ،لیکن سیاسی گروہ اس کے مخالفین اور موافقین کے دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ اسی وجہ سے اور ناراضگیوں کی بنا پر شیعہ مظاہرین اور مقتدی صدر کے حامی گرین لائن کے علاقے سے گذر کر پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہو گئے ۔ان تبدیلیوں کے پیش نظر بغداد میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا اور فوج کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ حالیہ برسوں میں مقتدی صدر عراق کے سیاسی میدان میں ایک موثر ترین گروہ کی صورت میں سامنے آئے ہیں ۔ وہ کہ جن کا شمار عراق کے با نفوذ علماء میں ہوتا ہے حالیہ مہینوں میں اپنے حامیوں کی سڑکوں پر حمایت کے ذریعے موجودہ حکومت کے سب سے اصلی معترضین میں تبدیل ہو گیے ہیں ۔مقتدی صدر کے حامی عراق کی حکومت میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ آج خبری ویبگاہ ،کل العراق، کی رپورٹ کے مطابق مقتدیٰ صدر بغداد سے نجف کے ہوائی اڈے پر گئے اور وہاں سے ایر ایران کے ذریعے ایران کے دورے پر نکل گیے ہیں اس خبری سایٹ کے بقول یہ سفر غیر متوقع ہے اور اس کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا جو بغداد میں سیاسی کھینچا تانی کے ساتھ انجام پا رہا ہے لیکن اس خبر کی آخر کار کل تردید کر دی گئی ۔
اس ویب سائٹ نے عراق کی حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں مخاطبین کی آگاہی اور عراق کے مستقبل کے حالات پر نگاہ ڈالنے کے لیے علاقائی مسائل کے ماہر حسن لاسجردی کا ایک انٹرویو لیا ہے جو درج ذیل ہے ۔
حسن لاسجردی کا عقیدہ ہے کہ ؛ عراق میں پارلیمنٹ پر قبضے کا مسئلہ عراق میں بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے سلسلے کی کڑی ہے کہ اکثریت جس کا مطا لبہ کر رہی ہے ۔ شیعہ گروہوں خاص کر مقتدی صدر کے گروہ کا عقیدہ ہے کہ پہلے فساد کے موضوع یا وہ چیز کہ حکومت جسے فساد کے خلاف جنگ کا نام دے رہی ہے اس سے نمٹا جائے ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جناب عبادی صاحب کا ارادہ ہے کہ اس وقت ٹیکنوکریٹس کی قابینہ یعنی ایسے افراد کی قابینہ بنائے کہ جو پارٹیوں سے وابستہ نہیں ہیں ۔لیکن اس کے مقابلے میں سیاسی گروہ اس چیز کے درپے ہیں کہ ڈھانچے میں تبدیلی نہ ہو اور وہ گویا عراق کی حکومت میں اپنے حصے کو بچائے رکھنے کے چکر میں ہیں ۔
مشرق وسطی کے مسائل کے اس ماہر نے عراق کی حالیہ تبدیلیوں میں مقتدی صدر کے کردار اور اس چیز کے بارے میں کہ اس نے بارہا سیاسی اور گروہی بحثوں سے اوپر اٹھ کر ایک کارآمد قابینہ کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے ، کہا ؛ مقتدی صدر صاحب کے قول اور عمل میں فرق ہے اگر صدر صاحب ٹیکنوکریٹ اور کارآمد قابینہ کی تشکیل کے حق میں ہیں تو ان کو ان حالات میں کہ جب قابینہ میں تبدیلی ہو رہی ہے لوگوں کو میدان میں نہیں لانا چاہیے تھا ،اور اپنے خطبوں اور جذباتی بیانات کے ذریعے لوگوں کو سڑکوں پر نہیں لانا چاہیے تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر کے حامی عبادی صاحب قابینہ میں جو تبدیلی کر رہے ہیں اس کے حق میں نہیں ہیں ،اسی وجہ سے انہوں نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں وہ حکومت کی مخالفت اور اس کے مقابلے کے لیے کیے ہیں ۔ اور چونکہ عراق کی قابینہ میں اس گروہ کا حصہ تھا اور ایک طرح کی سیاسی اور گروہی تقسیم بندی پر عمل ہو رہا تھا اور اب یہ صورت حال ختم ہونے والی ہے اسی لیے ان کی کوشش ہے کہ اپنے ماڈل کو کہ جو گروہی حکومت کا ڈھانچہ ہے بچا کر رکھیں ۔ لیکن عراق کے وزیر اعظم کا یہ عقیدہ ہے کہ فساد کا مقابلہ کرنے اور سیاسی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے سیاست اور پارٹی کے پلیٹ فارم سے اوپر اٹھ کر ٹیکنوکریٹس کی ایک کارآمد قابینہ بنائے ،جب کہ اس کے مقابلے میں صدر والوں کا کہنا ہے کہ دونوں کی مخلوط قابینہ بنائی جائے ۔
مشرق وسطی کے مسائل کے اس تجزیہ نگار نے نوری المالکی کے کردار کو حالیہ بیان کی روشنی میں جو اس نے دیا ہے مثبت بتایا ہے اور کہا ہے ؛ اس کا بیان سوچا سمجھا ہے اس لیے کہ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ وہ اصل تبدیلیوں کے حق میں ہے ۔اور دوسرا نکتہ اس سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ سابقہ وزیر اعظم نے اس بیان میں اعلان کیا ہے کہ تبدیلیوں کا عمل زبردستی انجام نہیں دیا جائے گا ،اور اس طرح اس نے یہ کہہ کر ایک طرح سے بعض سیاسی گروہوں پر کہ جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھمکی کا سہارا لینا چاہتے ہیں اعتراض کیا ہے ۔ لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نوری المالکی کی مرضی یہ ہے کہ تبدیلیوں کا عمل مفاہمت کی فضا میں انجام پائے ۔ یعنی سیاسی گروہوں اور حکومت کو یہ ماننا پڑے گا کہ عراق کی حکومت کے اندر فساد واقعی موجود ہے ،ساتھ ہی سیاسی گروہوں کو اپنے مطالبات سے دست بردار ہونا پڑے گا تا کہ حکومت کامیاب ہو جائے ۔ ۔ البتہ نوری المالکی کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کو بھی سیاسی گروہوں کی بات سننی چاہیے اور کوئی بیچ کا راستہ نکالے تاکہ سیاسی گروہ بھی اپنے مفادات کے سلسلے میں مطمئن ہو جائیں اور ڈھانچے کی تبدیلی میں بھی مدد ملے ۔
لاسجردی نے عراق کی تبدیلیوں کے مستقبل اور حیدر العبادی کی قابینہ کے بارے میں بھی بتایا : ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ مسائل کہ جن کا عراق کی حکومت کو سامنا ہے وہ ایک نہیں کئی مسئلے ہیں ۔پہلا مسئلہ سیاسی گروہوں کے ساتھ حیدر العبادی کا سمجھوتہ ہے ۔دوسرا مسئلہ کہ جو اہم معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ عبادی وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو چھوڑ کر اپنی قابینہ کے تمام وزراء کو بدلنا چاہتا ہے اسی وجہ سے اس کا یہ ماننا ہے کہ تمام وزراء کو بدلا جائے ،لیکن سیاسی گروہوں کو جیسا کہ کہا جا چکا ہے بعض ماضی کے مشہور افراد کہ جو سابقہ حکومت کے ساتھ وابستہ تھے یا وہ لوگ جو سابق میں زیادہ مشہور نہیں تھے پر اعتراض ہے اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وزیر اعظم کو وزیروں کے انتخاب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے اور زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔ لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل ہو گیا تو حکومت کی تشکیل کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔
علاقائی مسائل کے اس متخصص نے آگے بتایا : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس فضا میں ایک بڑی طاقت جیسے دینی مرجعیت کہ جو سیاسی گروہوں کے روحانی پیشوا ہیں ان مسائل میں مداخلت کر کے جامع اور فریقین کی مرضی کا حل تلاش کر سکتے ہیں تا کہ یہ مشکل اور بحران حل ہو جائے لیکن اگر دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر اڑے رہے اور اپنے اپنے راہ حل پر ڈٹے رہے تو عراق کا بحران اتنی جلدی حل ہونے والا نہیں ہے ۔
لاسجردی نے آخر میں آیۃ اللہ سیستانی کی طرف سے سیاسی ملاقاتوں سے انکار کے بارے میں کہا : ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آپ عراق میں جو اہم اور معنوی مقام رکھتے ہیں پہلے ہی اس بحران سے نکلنے کے لیے اپنے جامع نظریات پیش کر چکے ہیں اور اب پھر سے ملاقات کا کوئی بہانہ یا دلیل موجود نہیں ہے معمولا آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر اپنا نظریہ پیش کرتے ہیں اس وقت یہ ملاقاتیں نہیں ہو رہی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی شخصیتوں کو ان کی نصیحتوں اور ان کے پیش کردہ حل کے راستوں پر توجہ دینی چاہیے تا کہ وہ بحران سے نکلنے کے لیے خود راہ حل ڈھونڈھنے پر مجبور ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲