اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران میں تعینات ترک سفیر نے کہا ہے کہ ایران، ترکی کے تعلقات سیاسی پارٹیوں سے ہٹ کے ہیں اور وزیر اعظم داود اوغلو کے استعفے سے ترک خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی ایران کیساتھ تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا.
ان خيالات كا اظہار تہران ميں موجود ترك سفير 'رضا ہاكان تكين' نے ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايران اہم ملك اور ہمارا كليدي ہمسايہ ملك ہے جس كيساتھ ہمارے گہرے اور دوستانہ تعلقات قائم ہيں. اور بنيادي طور پر تركي ميں جماعتوں اور حكومتوں ميں تبديلي سے ايران،تركي روابط پر كوئي اثر نہيں پڑے گي.
انہوں نے مزيد كہا كہ جسٹس اينڈ ڈويلپمنٹ پارٹي كے سربراہ اور ترك وزيراعظم داود اوغلو اپنے منصب سے استفعا ديں گے اور 22 مئي تك نئے ليڈر كا انتخاب كيا جائے گا.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ موجودہ وزيراعظم كے استعفے سے تركي كي خارجہ پاليسي ميں كوئي غيرمعمولي تبديلي نہيں آئے گي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲