اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹ سینیٹر بین کارڈین نے نیتن یاہو کی جانب سے جولان کی پہاڑیوں کے تعلق بیان جاری کرنے پر تنقید کی۔
رپورٹ کے مطابق، کارڈین نے نیتن یاہو کو نصیحت کی کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ صلح کر ترجیح دیں۔
نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ جولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی ملکیت ہیں، جس پر اعتراض کرتے ہوئے کارڈین نے کہا شام میں اس وقت جنگ کے حالات ہیں اور ایسے حالات میں اس طرح کی بات بےمحل معلوم ہوتی ہے۔
انہوں ںے کہا نیتن یاہو کی حکومت ایسی پوزیشن میں نہیں ہے جو شام سے مذاکرات کرسکے۔ انہوں ںے کہا میری خواہش ہے کہ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی کے درمیان صلح اور سمجھوتہ ہو۔ دو حکومتوں کی تجویز میری نظر میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے جولان کی پہاڑیوں سے متعلق اسرائیل کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی نظر میں جولان کا علاقہ اسرائیلی زمینوں کا حصہ نہیں ہے۔
موگرینی نے بھی کہا تھا کہ یورپی یونین کی نظر میں جولان کا علاقہ اسرائیل کی ملکیت نہیں ہے۔
جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان مارٹن شیفر نے نتن یاہو کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی قوانین و ضوابط کے اعتبار سے کوئی بھی حکومت دوسرے ملک کی سرزمین کو خود میں ملحق نہیں کر سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169