23 اپریل 2016 - 05:47
سعودی معیشت کا ٹوٹتا بھرم

یمن پر جنگ مسلط کرنے کے بہانے اپنا نیا پرانا اسلحہ فروخت کرنے، انتہائی مہنگے داموں سیٹلائٹ، انٹیلی جنس اور دیگر سروسز فراہم کرنے والے یہود و نصاریٰ اور سب سے بڑھ کر اپنی فوج کرائے پر دینے والے ممالک سعودی عرب کے حقیقی دوست نہیں بلکہ وہ مفاد پرست تاجر تھے، جو سعودی منڈی میں منہ بولی قیمت پر اپنی اپنی جنس فروخت کیلئے پیش کرتے رہے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ دنیا کو قرضے دینے والا سعودی عرب آج خود مقروض ہونے جا رہا ہے۔

پاناما لیکس کے بعد دنیا کے کئی سربراہان مملکت پریشانی کا شکار ہیں۔ برازیل سے لیکر لندن تک لاکھوں افراد اپنے سربراہان مملکت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی معروف ترین ’’شریف ‘‘ فیملی بھی اسی مسئلہ کا شکار ہے، تاہم پاکستان میں عوامی ریلیوں، مظاہروں کا سلسلہ شروع نہ ہوا، جس کی بظاہر وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ پاک عوام کرپشن زدہ حکومت کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ان کیلئے پاناما لیکس جیسے اسکینڈل میں دلچسپی کا کوئی سامان موجود ہی نہیں۔ علاوہ ازیں الٰہی کرشمے سے اگر کوئی ایماندار یہاں برسر اقتدار آبھی گیا تو مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ’’اور بھی درد ہیں دنیا میں پاناما لیکس کے سوا‘‘ کے مصداق کینیڈا کے وزیراعظم اور سعودی عرب کا شاہی خاندان بھی انتہائی مضطرب ہے۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی پریشانی کی وجہ سعودی عرب کے ساتھ جنگی ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ ہے، جو عوام اور اداروں سے بالا ہی بالا چپکے سے کیا گیا ہے۔

کینیڈین عوام اس معاہدے کو کسی طور قبول کرنے پر رضامند اس لئے بھی نہیں ہیں کیونکہ انسانی حقوق، جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے سعودی عرب کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ ٹروڈو حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ 15 ارب ڈالر تقریباً 15 کھرب روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ اب ٹروڈو حکومت اس الزام کی زد میں ہے کہ اس نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے پر کینیڈین عوام کو دھوکے میں رکھا اور اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ کینیڈین اخبار دی گلوب اینڈ میل کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیر خارجہ سٹیفن ڈیون نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کو اسلحہ اور جنگی گاڑیاں فروخت کرنے کے پرمٹ پر انتہائی رازداری کے ساتھ دستخط کر دیئے۔ کینیڈین سیاسی جماعت این ڈی پی کے رہنما ٹام مولکیئر (Tom Mulcair) کا کہنا تھا کہ ٹروڈو حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کا معاہدہ کرتے ہوئے شہریوں کو یہ بھی نہیں بتایا کہ کس شخص نے معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور کس چیز کے لئے معاہدہ کیا گیا ہے۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ ٹروڈو حکومت نے عوام کے ساتھ جھوٹ بولا ہے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

معاہدے کے دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دیگر عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ یمن پر ایک جارح حملہ آور کی حیثیت سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ سعودی حملوں میں نہتے اور بے گناہ شہریوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی بڑی تعداد نشانہ بنی ہے۔ چنانچہ سعودی عرب کو اتنی بھاری مقدار میں اسلحہ فروخت کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔ گرچہ 2014ء میں عالمی سطح پر اسلحہ کی سب سے زیادہ خریداری سعودی عرب نے ہی کی تھی، اس خریداری پر کہیں بھی کوئی احتجاج نہیں کیا گیا تھا، تاہم یمن پر سعودی حملے کو دنیا بھر میں ناپسند کیا گیا ہے اور عالمی معاہدات خصوصاً اسلحہ کی فروخت کے حوالے سے آزاد ملکوں کے عوام نے اپنی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت بند کر دیں، یا طے پانے والے معاہدات منسوخ کریں۔

یمن پر سعودی جارحیت کا درد مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام نے محسوس کیا۔ سعودی حلیف سمجھے جانے والے ممالک میں یمن حملے کے خلاف جہاں جہاں بھی آواز اٹھی، اسے ریاستی طاقت و جبر کے بل بوتے پر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ بحرین، پاکستان و بعض دیگر اسلامی ممالک یہاں تک کہ خلیجی ممالک میں بھی اس مد میں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ یمن جنگ کے خلاف اٹھنے والی عوامی آواز گرچہ سعودی عرب کے خلاف نہیں تھی، بلکہ یمن پر سعودی حملوں کے خلاف تھی، مگر پھر بھی اس آواز کو سعودی عرب کی سلامتی کے خلاف ’’سازش‘‘ سے تعبیر کیا گیا، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ آواز سعودی عرب کو ایک خطرناک غلطی سے اجتناب کرنے پر مبنی تھی، جو کہ سعودی مفاد میں تھی۔ دفاعی و عسکری ماہرین و تجزیہ نگاروں نے یمن پر مسلط کی جانے والی جنگ کو مستقبل میں سعودی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ جارحیت فقط ان ممالک کیلئے فائدہ مند ہے، جن کا اسلحہ اس جنگ میں استعمال ہوگا، اور اس بے نتیجہ جنگ کا اختتام سعودی عرب کی عالمی مشکلات میں اضافے پر منتج ہوگا۔ بعدازاں یہ قیاس آرائیاں حقیقت ثابت ہوئیں۔

عرب میڈیا میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن پر سعودی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان یمنی شہریوں، سعودی خزانے اور سعودی عوام کو اٹھانا پڑا ہے، جبکہ اس جنگ میں سب سے زیادہ فائدہ برطانیہ نے وصول کیا ہے۔ سعودی عرب اس جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک برطانیہ سے 2 ارب 80 کروڑ پاونڈ تقریباً 4 کھرب 22 ارب 13 کروڑ روپے کے ہتھیار خرید چکا ہے۔ سعودی عرب برطانوی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے اور برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ 2010ء سے اب تک 6 ارب 70 کروڑ پاونڈ تقریباً 10 کھرب 10 ارب 11 کروڑ روپے کے ہتھیار خرید چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی قیادت میں جاری رکھی جانے والی جنگ میں اب تک 8 ہزار 400 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، (آزاد ذرائع یہ تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں)۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ ہاوس آف کامنز کی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کمیٹی اور یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کا مطالبہ سامنے آچکا ہے، مگر اس کے باوجود برطانوی حکومت اسے ہتھیار فراہم کر رہی ہے۔ سی اے اے ٹی کے ماہر اینڈریو سمتھ کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد کی ہلاکت کے باوجود برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی ان حملوں کی حمایت سمجھی جاسکتی ہے۔

یمن جنگ کی گنگا میں برطانیہ بھلے ہی ہاتھ دھو رہا ہو، مگر سعودی شہریوں کو اس جنگ کے صلے میں عوامی دلچسپی کے کئی منصوبوں، سبسڈیز سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ جنگ کے اخراجات کا اندازہ اس غیر ملکی نیوز رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں کہا گیا کہ یمن پہ ایک سالہ جنگ میں سعودی اخراجات 72.5 بلین ڈالرز سے تجاوز کرگئے ہیں۔ جبکہ مالی سال 2015ء میں سعودیہ کے بجٹ کا خسارہ ملیارڈ ڈالر تک پہنچ گیا۔ عالمی بینک نے بھی آل سعود کو خبر دار کیا تھا کہ اگر ریاضتی تدابیر اور اصلاحات سے کام نہ لیا گیا تو ملک کے مالی ذخیرے پانچ سال میں ختم ہو جائیں گے۔ سعودی عرب بجٹ میں 78 ملیارڈ ڈالر کے خسارے کی تلافی کے لئے پہلی بار عالمی منڈی سے قرض لینے پر مجبور ہوا۔ سعودی عرب کے یمن جنگ میں اخراجات کا اندازہ کچھ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے۔ دو جنگی کشتیوں اور ان کے ساتھ چھوٹی فوجی کشتیوں کے چھ ماہ میں اخراجات 56 ملین ڈالر لگایا گیا تھا۔ جس میں سے ہر کشتی کا روزانہ خرچ 150 ملین ڈالر تھا۔ اسی طرح تجزیہ و تحلیل، نمائش اور فوجی سیٹیلائٹ سے معلومات فراہم کرنے پر روزانہ پانچ ملین ڈالر، دو سیٹیلائٹ کا روزانہ دس ملین ڈالر، ماہانہ تین سو ملین ڈالر اور چھ ماہ میں ایک ملیارڈ ۸۰۰ ملین ڈالر خرچہ ہوا ہے۔

ہتھیاروں کی خریداری کے عوض سعودی عرب نے گذشتہ پانچ سال میں ایک سو پچاس ملیارڈ ڈالر خرچ کئے ہیں اور ان کی حفاظت کل پرزوں اور تربیت پر خرچ ہونے والی رقم گذشتہ پانچ سال میں جو خرچ ہوئی ہے، وہ الگ ہے۔ سعودیوں نے یمن پر حملے کی ابتدا سے اب تک ۳۰۰ ٹینک اور انتہائی ماڈرن زرہ پوش اپنی سرحد پر کھوئے ہیں۔ ان بھاری اخراجات کے علاوہ سعودی عرب نے مصر، سوڈان، پاکستان اور افریقہ کی اس جنگ میں محض حمایت حاصل کرنے پر کثیر سرمایہ خرچ کیا۔ یمن جنگ کے لئے سعودی عرب کو صرف مالی نقصان ہی نہیں اٹھانا پڑا بلکہ اس جنگ میں سعودیہ کے اپنے اور کرائے کے فوجیوں کو جو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے اعداد و شمار تاحال سعودی حکومت منظر عام پر نہیں لائی۔ عرب میڈیا کی بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یمن جنگ میں ہونے والے جانی نقصان کو مخفی رکھنے کیلئے سعودی اور اس کے اتحادی ملکوں کے فوجیوں کی میتیں آخری رسومات کی ادائیگی کے بغیر ہی لاوارثوں کی طرح ٹھکانے لگائی گئیں۔ اس جنگ نے سعودی معیشت کو اتنا کھوکھلا کیا ہے کہ مستقبل قریب میں سعودی عرب کا انحصار مکمل طور پر بیرونی قرضوں پر ہونے جا رہا ہے۔

مغربی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب 25 سال میں پہلی دفعہ 10 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 10 کھرب پاکستانی روپے کے بین الااقوامی قرضے حاصل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ سعودی عرب ان قرضوں کے عوض انٹرنیشنل بانڈ جاری کرے گا، جن کی مدت پانچ سال پر محیط ہوگی۔ سعودی عرب کی معاشی مشکلات کے باعث بین الااقوامی اداروں نے اس کی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی ہے، لیکن اس کے باوجود ایشیائی اور دیگر بین الااقوامی بینکوں کی طرف سے سعودی عرب کو قرضہ فراہم کرنے میں خاصی دلچسپی لی جا رہی ہے۔ سعودی قرضے کے بانڈز کیلئے قرض کی مقدار چھ سے آٹھ ارب ڈالر سے بڑھا کر دس ارب ڈالر کی گئی ہے۔ مالی خدمات فراہم کرنے والے بین الااقوامی ادارے بلیک راک کے چیف انویسٹمنٹ سٹریٹجسٹ ایون کیمرون کا کہنا تھا کہ ایک قرضے فراہم کرنے والے ملک کی طرف سے قرضے لینے کا آغاز عالمی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی لے کر آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے قرضے لینے کا یہ آغاز ہے، اور اس قرض کے ذریعے سعودی عرب کا قرض لینے والے ملک کے طورپر تاثر قائم ہو جائے گا۔ اس سے قبل سعودی عرب نے عراق کے کویت پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ایک ارب ڈالر ایک کھرب پاکستانی روپے کا بین الااقوامی قرضہ لیا تھا۔

سعودی عرب کے وزیر اقتصاد عادل فقیہ نے یمن کے خلاف عرب اتحاد کی قیادت کرنے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2015ء میں سعودی عرب کے سکیورٹی اور فوجی اخراجات پانچ ارب ڈالر تک بڑھ چکے تھے۔ سعودی حکومت کا یہ اعتراف ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ سعودی وزیر خزانہ نے 2016ء کیلئے اپنے ملک کا بجٹ خسارہ ستاسی ارب ڈالر اعلان کیا۔ مالی مشکلات کا اندازہ کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ مختلف وزارتوں اور محکموں کو پیسہ واپس کرنے کا کہا گیا ہے۔ ابھی تک یہ محکمے اس قدر آزاد تھے کہ ایک منصوبے کے لئے مختص رقم کسی دوسرے منصوبے کے لئے بھی خرچ کی جا سکتی تھی۔ محکمے یہ پیسہ عارضی بونس یا سفری الاؤنس وغیرہ بڑھانے کے لئے استعمال کر لیتے تھے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے ذرائع کے مطابق اب تمام محکموں کو یہ واضح احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ مخصوص منصوبوں پر خرچ نہ ہونے والا پیسہ واپس وزارت خزانہ کو بھیجا جائے۔ سعودی وزارت خزانہ نے اپنے ان احکامات کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ تصدیق۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مالی معاملات میں سعودی عرب کی سخت ہوتی ہوئی پالیسی یمن جنگ کے اخراجات اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور نجی تجزیہ کاروں کے حساب سے رواں برس سعودی عرب کو ریکارڈ 120 بلین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی حکومت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے گذشتہ برس اگست کے بعد سے اب تک اپنے 80 بلین ڈالر کے غیر ملکی اثاثے فروخت کرچکی ہے۔ سعودی عرب کے مشہور مقامی ماہر اقتصادیات فضل البوعینین کا کہنا تھا، سعودی عرب نے اس طرف توجہ مرکوز کر دی ہے کہ کس طرح پیسے کو زیادہ موثر طریقے سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سخت معاشی نگرانی ہوگی۔ گذشتہ ماہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ ابراہیم العساف کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت غیر ضروری اخراجات کے خاتمے کے لئے سوچ رہی ہے۔ ان کی طرف سے تو اس جملے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب آئندہ بجٹ میں متعدد جگہوں پر کٹوتیاں کرے گا۔ تاہم ان تمام تر اقدامات کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ سعودی عرب بہت جلد دیوالیہ ہونے کی طرف جا رہا ہے، البتہ سمت وہی ہے۔ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں فٹ بال اسٹیڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جسے محدود کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ٹرینیں خریدنے کا منصوبہ بھی ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ آئل فیلڈ کی وسعت کا کام بھی آہستہ کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے بچتی اقدامات آئندہ برس بھی جاری رہیں گے۔ جن سے مشکلات کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں مدد ملے گی۔

آج مملکت سعودی عرب کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سعودی عرب کو یمن پر جارحیت سے باز رہنے کے مشورے دینے والے اور جنگی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے ہی عالم اسلام بشمول سعودی عرب کے حقیقی خیر خواہ تھے۔ یمن پر جنگ مسلط کرنے کے بہانے اپنا نیا پرانا اسلحہ فروخت کرنے، انتہائی مہنگے داموں سیٹلائٹ، انٹیلی جنس اور دیگر سروسز فراہم کرنے والے یہود و نصاریٰ اور سب سے بڑھ کر اپنی فوج کرائے پر دینے والے ممالک سعودی عرب کے حقیقی دوست نہیں بلکہ وہ مفاد پرست تاجر تھے، جو سعودی منڈی میں منہ بولی قیمت پر اپنی اپنی جنس فروخت کیلئے پیش کرتے رہے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ دنیا کو قرضے دینے والا سعودی عرب آج خود مقروض ہونے جا رہا ہے۔ دوسروں کی معیشت کو سنبھالا دینے والے کی اپنی معیشت دیوالیہ ہونے کی جانب گامزن ہے، سعودی شہریوں سے یکے بعد دیگر سبسڈیز واپس لی جا رہی ہیں، تاہم سعودی عرب کے اتحادیوں کو اس امر کی رتی برابر پریشانی نہیں ہے، اور ہونی بھی نہیں چاہیئے، کیونکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ یمن پہ جارحیت، ہزاروں بے گناہ افراد کی شہادت، لاکھوں افراد کی دربدری اور قومی و عوامی املاک کی تباہی پر سعودی عرب پشمان نہیں بلکہ اس نہج پر پہنچنے کے باوجود بھی غیر انسانی حملوں کے جواز فراہم کر رہا ہے اور اسلامی ممالک کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ چنانچہ قرین قیاس یہی ہے کہ آئندہ سعودی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، نہ کہ کمی واقع ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169